حضرت الاستاذ مولانا نورعالم خلیل الامینی علیہ الرحمۃ(۲) ـ دبیر احمد قاسمی

تعلیمی اور تدریسی خصوصیات:

مجھے عربی زبان و ادب سے دلچسپی شروع سے تھی ، میرے حد درجہ مشفق اور محسن استاذ حضرت مولانا طارق انور الندوی حفظہ اللہ کی محبت اور توجہ کا نتیجہ تھا کہ اس کی شُد بُد بھی پیدا ہو گئی تھی ، حضرت الاستاذ رح سے تھوڑی قربت بڑھی تو ایک دن وہ آرزو جو دل میں مچل رہی تھی بلا اختیار زبان پر آگئی:
یار پہلو میں ہے ، تنہائی ہے کہہ دو نکلے
آج کیوں دل میں چُھپی بیٹھی ہے حسرت میری
(امیرمینائی)

میں نے ڈرتے ہوئے حضرت سے یہ درخواست کر دی کہ عربی تمرین اور انشاء کے حوالے سے آپ کا وقت چاہتا ہوں ، اندیشہ تھا کہ حضرت اپنی بے پناہ علمی مشغولیات کی وجہ سے انکار کر دیں گے ، لیکن خوش قسمتی سے حضرت آمادہ ہو گئے ، فرمایا کہ "صُور من حياة الصّحابة” اور ایک دو عدد کاپی لے کر جمعہ کی صبح کو آجایا کرو ۔
حضرت رح کی تدریس کا انداز کچھ ایسا تھا کہ تھوڑے ہی دنوں میں عربی زبان سے اچھی مناسبت پیدا ہو گئی ، میں لغت کی مدد سے ماہنامہ الداعی کے مضامین سمجھنے لگا ، حضرت رح تقریباً ہرماہ الداعی کا تازہ شمارہ مجھے گھر پر اپنے ہاتھ سے عنایت فرماتے تھے ، الداعی کی خوبصورت اور دیدہ زیب طباعت ، اس کا دلکش ٹائٹل ، عمدہ کاغذ ، اچھی کتابت اور معیاری مضامین ، ہر چیز قلب و نگاہ کو اپنی طرف کھینچتی تھی ، اس میں میرے لئے خاص دلچسپی کی چیز "اشراقہ” کے عنوان سے چھپنی والی تحریر ہوتی تھی ، اس میں کبھی کبھی حضرت الاستاذ اپنی ابتدائی زندگی کے احوال بھی دلچسپ پیرائے میں تحریر فرماتے تھے ، خاص خاص موقعوں پر "کلمۃ العدد "میں بھی کوئی مضمون بہت تفصیلی آتا تھا ، یہ غالباً حضرت سے غیر معمولی تعلق کا اثر تھا یا ان کا فیضان نگاہ کہ خاص طور پر حضرت رح کی تحریروں کو سمجھنے میں مجھے زیادہ دشواری نہیں ہوتی تھی ۔
دارالعلوم سے لوٹنے کے بعد ایک بار ایسا ہوا کہ زیّات کی تاریخِ ادبِ عربی پڑھ رہا تھا ، ایک عبارت بہت غور و خوض کے بعد بھی کسی طرح سمجھ میں نہیں آتی تھی ، میں نے اس کا مطلب پوچھنے کے لئے حضرت کو فون کیا ، تھوڑی دیر تک ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں ، وہ عبارت ذہن میں تھی مگر بغیر استفسار کے ہی سمجھ میں آگئی ، میں نے حضرت سے اِس کا ذکر کیا تو بہت خوش ہوئے ۔
حضرت رح کا اندازِ تدریس روایتی انداز کا نہیں تھا ، وہ بہت اونچی آواز میں بھی نہیں پڑھاتے تھے ، مزاحاً فرماتے کہ حلق پھاڑ پھاڑ کر پڑھانا مجھے بالکل پسند نہیں ہے ، خدا نخواستہ لوگوں کو یہ گمان ہونے لگے کہ کوئی بڑا حادثہ پیش آگیا ہے ، وہ طالب علم کے علمی مبلغ ، شوق و دلچسپی اور تعلیمی نفسیات کی رعایت کرتے ہوئے ایسا انداز اختیار کرتےتھے جس سے پڑھنے والے کی دلچسپی برقرار رہتی ۔
ان کے درس میں لطائف اور ظرائف کی پھلجھڑیاں برستی رہتی تھیں ، وہ درس گاہ میں کسی سخت گیر حکمراں کی طرح نہیں ایک بے تکلف دوست کی طرح نظر آتے تھے ، مگر اِس مزاح اور بے تکلفی کی بھی حدیں ہوتی تھیں ، کیا مجال کہ کوئی اُن کی مرضی کے بغیر اِن حدود کو پھلانگ جائے ، کوتاہی کرنے والے گرفت میں آجاتے تو ایک حد تک سزا بھی دی جاتی تھی ، مگر اس طرح کہ دوسرے طلبہ بھی اس سے محظوظ ہوتے ، مُبتلا بہ طالب علم کی عزت نفس بھی مجروح نہیں ہوتی اور درس گاہ کے آداب بھی ملحوظ رہتے ، حضرت ایسے طالب علموں کو تھوڑی دیر کے لیے کھڑا کر دیتے تھے اوراس کی کیفیت اور حالت کو سامنے رکھ کر ایک دو ایسے دلچسپ فقرے چُست کرتے جس سے محفل زعفران زار ہو جاتی ، وہ طالب علم خود بھی اس سے بہت محظوظ ہوتا ۔
ایک لحیم شحیم طالب علم کی طرف مخاطب ہو کراپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے ، قدرے تصرف کے ساتھ یہ شعر پڑھا:
تمہاری یاد میں گھل گھل کے ہو گئے ہاتھی
کچھ اور گھلتے ، پہاڑ ہوجاتے
نہیں معلوم اس نے یہ شعر سمجھا یا نہیں ، لیکن دوسرے لوگ بہت دیر تک بیخود ہو کر ہنستے رہے ۔

عربی ادب و انشا:

عربی ادب اور انشاء کے حوالے سے وہ کسی ادبی کتاب کے زیادہ سے زیادہ صفحات پڑھ جانے کو بہت اہم نہیں خیال کرتے تھے ، اُن کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ طلبہ کو صفحہ دو صفحہ کی عبارت کی اتنی مشق کرائی جائے کہ وہ اُس سے سینکڑوں جملے بنا لیں ، وہ بار بار فرماتے تھے کہ کتاب میں موجود عبارت میں تصرف کرکے مختلف جملے بناؤ ، مثلاً جملہ اسمیہ ہے تو اس کو جملہ فعلیہ بناؤ ، افعال ناقصہ ، افعال مقاربہ ، افعال مدح و ذم وغیرہ میں سے کوئی اس پر داخل کردو ، یا حرف مشبہ بالفعل اس پر لے آؤ ، ماضی ہے ، تو مضارع یا امر بناؤ ، ظروف و متعلقات کو آگے پیچھے کردو ، عبارت کی ہیئت و ساخت وہی رکھو البتہ افعال اور متعلقات کو بدل دو ، عبارت کا مضمون بدل دو لیکن ساخت اور ہیئت کو باقی رکھو ۔
حضرت رح نے اپنی مشہورومقبول کتاب ,,حرف شیریں،، میں اس مسئلے کو اردو اور عربی کی مثالوں کے ساتھ بڑے دلنشیں پیرائے میں سمجھایا ہے ، حضرت نے اپنی عربی تالیف "متىٰ تكونُ الكتاباتُ مؤثرةً” میں بھی اس پر بڑی شاندار بحث کی ہے ، بیسیوں چھوٹی اور بڑی مثالوں کے ذریعے اس کی وضاحت کی ہے ، اس کتاب کے ابتدائی حصے میں لغت و ادب کے حوالے سے بعض بہت لطیف اور دقیق بحثیں ہیں ، جو اہلِ علم کے لیے خاصے کی چیز ہے ۔
حضرت الاستاذ کا خیال تھا کہ اِس طرح عربی زبان کو سکھایا جائے تو اس کے دو فائدے ہوتے ہیں ، ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ طالبِ علم عربی عبارتوں کے پیچ و خم کو اچھی طرح سمجھنے لگتا ہے ، وہ عربی عبارتوں کا اداشناس اور مزاج آشنا بن جاتا ہے ، یا یوں کہئے کہ عبارت پر اچھی طرح قابو حاصل ہوجاتا ہے ، اس کے بعد وہ مَن چاہے انداز میں جملے بنا سکتا ہے ، کوئی پیرا گراف لکھ سکتا ہے ، اِس سے اُس کے لئے مضمون نویسی اور مقالہ نگاری کی راہ بھی آسان ہو جائے گی ، حضرت مولانا رح کے خیال میں عربی بولنے اور لکھنے کا تعلق کلیًۃ مشق و تمرین سے ہے ۔
عربی زبان و ادب کی تاریخ ، جدید و قدیم مراجع اور مآخذ سے واقفیت ، عربی زبان کے نامور شعراء اور ادباء کی تحریروں کا مطالعہ ، صحافتی ادب سے واقفیت وغیرہ ایسی چیزیں ہیں کہ اِن کے بغیر کوئی عربی کا اچھا صاحبِ قلم نہیں ہو سکتا ہے ، لیکن اِس سے قطع نظر کر کے ابتدائی طور پر عربی بولنے اور لکھنے کے لئے سب سے بنیادی اور اہم چیز مشق و تمرین ہے اور مشق کا یہ طریقہ جو حضرت رح کا اختیار کردہ ہے ، فطری اور حد درجہ آسان ہے ۔

مرحلیّت اورتدریج:

حضرت تعلیم میں مرحلیت اور تدریج کے قائل تھے ، وہ اِس کو پسند نہیں کرتے تھے کہ طالب علم پہلے دن ہی مصطفی صادق الرافعی کی وحي القلم ، جاحظ کی کتاب البخلاء يا عربی ادب کی مشہور کتابیں صبح الأعشی اور کتاب الأغاني وغیرہ لے کر بیٹھ جائے ، چاہے وہ آسانی سے اُس کی چند سطریں بھی نہ سمجھ سکتا ہو ۔
یہ چیز بدشوقی کا باعث ہوتی ہے اور بالآخر طالب علم کتابوں سے دور ہوجاتا ہے ، اگر تعلیم میں تدریج کی پوری رعایت کی جائے تو کمزور اور غبی طالب علم بھی ذی استعداد بن سکتا ہے ، اس کے برعکس اگر طالب علم کے شوق و دلچسپی ، اس کی ذہنی اور فکری سطح اور نفسیاتی تقاضوں سے صرف نظر کرتے ہوئے ، اول روز سے ہی اس کے آگے مشکاۃ ، ترمذی اور بخاری جیسی کتابیں رکھ دی جائیں اور اُس پر اصرار کیا جائے تو یہ بات یقینی ہے کہ وہ تعلیم سے متنفّر اور بیزار ہو جائے گا ۔
تمرین و انشاء کے حوالے سے حضرت رح کا اختیار کردہ طریقہ بھی دراصل تدریج ہی پر مبنی تھا ، حضرت رح خود بھی فرمایا کرتے تھے کہ یہ ابتدائی منزل ہے ، اس کے بعد از خود تمہارے اندر اتنی اہلیت پیدا ہو جائے گی کہ تم عربی ادب کی اعلی اور معیاری کتابوں اور اس کے اہم مآخذ و مراجع سے استفادہ کر سکو ، عربی کے بلند پایہ ادیبوں کے اسلوب نگارش کو سمجھ سکو اور اُن کے اسلوب و انداز کی پیروی کر سکو ، اِس طرح لکھتے لکھتے خود تمہارا بھی ایک اچھا اسلوب بن جائے گا۔

طلبہ کی استعداد سازی کا نرالا انداز:

اُن کے پڑھانے کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ ابتدائی مرحلے کے بعد تعلیم کا زیادہ بوجھ طلبہ پر ڈالتے تھے اور صرف ضروری مقامات پر ہی ان کی رہنمائی کرتے تھے ، البتہ اُن کی تعلیمی سرگرمیوں پر پوری نظر رکھتے تھے اور پوری پابندی سے اُن کے علمی کاموں کا جائزہ لیتے تھے ۔
تخصص فی الادب کے طلبہ کو مستقل اس کی تاکید کرتے رہتے تھے کہ مقالہ اِس معیار کا ہونا چاہیے کہ کوئی معروف اشاعتی ادارہ آسانی سے اُس کو چھاپ دے ، لیکن موضوع کا انتخاب ، مطلوبہ کتابوں کی تحقیق ، مآخذ اور مراجع کی جستجو یہ سب کام طلبہ پر چھوڑ دیتے تھے ، دوسری طرف فکرمندی کا حال یہ تھا کہ روزانہ پابندی سے مقالےکی ایک ایک سطر پر نگاہ ڈالتے تھے ۔وہ غیر معیاری کتابوں کے مطالعے سے سختی سے روکتے تھے ، بلکہ تکمیل ادب اور تخصص کے طلبہ کو اردو کتابوں کے مطالعے سے بھی روکتے تھے ، اُن کا خیال تھا اور یہ خیال اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ عربی زبان کی تحصیل کے درمیان کسی اور زبان کی کتابوں کا مطالعہ مُضر ہے ، اس حوالے سے حضرت کیرانوی رح اور حضرت مولانا علی میاں رح کا بکثرت ذکر کرتے تھے ، حضرت مولانا علی میاں رح جس زمانے میں دارالعلوم ندوۃ العلماء میں عربی ادب کی تعلیم حاصل کر رہے تھے ، اُس زمانے میں اردو کتابوں کو ہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے ، پھر جب انگریزی زبان پڑھنی شروع کی توصرف انگریزی زبان میں لکھی ہوئی کتابیں مطالعے میں رہتی تھیں ، اُس وقت عربی یا اردو کی کتابیں مطالعے کی میز پر نہیں ہوتی تھیں ۔
یہ امر واقعہ ہے کہ کسی زبان کا اچھا ذوق اسی وقت پیدا ہو سکتا ہے جب کہ چیزیں خلط ملط کر کے نہ پڑھی جائیں ، مختلف طرح کی غذائیں اگر ایک ہی وقت میں پیٹ میں انڈیل دی جائیں تو فسادِ معدہ کا سبب بنیں گی ، اس لئے کہ ہر غذا اور ہر کھانے کا اثر مختلف ہوتا ہے ۔
یہ معاملہ صرف زبان و ادب کی تحصیل تک محدود نہیں ہے ، بلکہ کسی بھی علم اور فن کی تحصیل کا فطری طریقہ یہی ہے کہ چیزیں بدسلیقگی کے ساتھ ، غیرمرتب انداز میں نہ پڑھی جائیں ، اس سے ذہنی صحت پر بھی اثر پڑتا ہے اور مطلوبہ فائدہ بھی نہیں حاصل ہوتا ہے ۔
حضرت الاستاذ اس بات کے بھی قائل نہیں تھے کہ بے پروائی اور بے توجہی کے ساتھ سینکڑوں صفحات پڑھے جائیں اور جب کھنگالا جائے تو حافظے میں اُس کے مدھم نقوش کے سوا کچھ بھی باقی نہ ہو ، اُن کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ جو کچھ پڑھا جائے بہت غور و توجہ اور گیرائی کے ساتھ پڑھا جائے اور ممکن ہو تو حاصل مطالعہ بھی لکھ لیا جائے ۔
غرض شائستگی ، خوش سلیقگی اور خوش مذاقی جو ان کی عادت ثانیہ بن گئی تھی وہ تحقیق و مطالعے میں بھی اس کی رعایت پسند کرتے تھے ۔

امتیاز و اختصاص:

بعض لوگ ہر فن اور ہر موضوع کی کتابیں خلط ملط کرکے پڑھتے ہیں ، اُس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی فن میں امتیاز اور اختصاص نہیں حاصل ہوپاتا ہے ، حضرت مولانا رح اس پر سخت نکیر کرتے تھے ، اس سلسلے میں ابن خَلْدون کےنظریے "كثرةُ العلوم مُخلّة بالتّحصيل” کا اکثر ذکر کرتے تھے ، فرمایا کرتے تھے کہ زمانۂ طالب علمی میں فقہ اور حدیث کی کتابوں میں میرے نمبرات بہت اچھے رہتے تھے ، لیکن عالمیت کے آخری سالوں میں جس فن سے دلچسپی قائم ہو گئی تھی وہ آج تک باقی ہے ، اسی بنا پر مجھے اِس علم اور فن میں اِس درجہ اختصاص حاصل ہے اور اِس حوالے سے اتنی شہرت ہے ، میں نے طلبُ الكل فوتُ الكل کے اصول کو کبھی فراموش نہیں کیا ۔
علامہ کیرانوی رح کبھی دورۂ حدیث کے طلبہ کو حدیث کی کوئی کتاب پڑھاتے تھے تو زبان و بیان پر غیرمعمولی قدرت اور اُن کے بے مثال حافظے کی وجہ سے سبق اتنا عمدہ اور تشریح اتنی جاندار ہوتی تھی کہ طلبہ عش عش کرتے رہ جاتے تھے ، ایسا لگتا تھا کہ وہ فنّ حدیث کے امام اور علم حدیث کے بہت کہنہ مشق استاذ ہیں ، لیکن چونکہ اُن کی دلچسپی کامیدان عربی ادب تھا ، اس لئے انہوں نے دوسرے علوم و فنون کے بجائے اِسی پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ۔
اِسی کا نتیجہ ہے کہ عربی ادب کے حوالے سے اُن کی خدمات اتنی وقیع اور اہم ہیں کہ ادب عربی کا کوئی طالب علم مشکل ہی سے اُن کی کتابوں سے استغنا کا دعویٰ کر سکتا ہے ۔

روزنامچہ:

حضرت روزنامچہ لکھنے کی بہت تاکید کرتے تھے ، تخصص فی الادب کے طلبہ کے لئے یہ گویا نصاب کا حصہ تھا ، حضرت نے اپنی تالیفات میں بھی جگہ جگہ اس کا تذکرہ کیا ہے ، خود وہ پوری عمر اس کا اہتمام کرتے رہے ، اتفاق ہے کہ انہوں نے سینکڑوں اصحاب علم و اہل قلم کی سوانح عمری لکھی لیکن اتنی مہلتِ عمر نہیں مل سکی کہ وہ اپنی سوانح عمری مرتب کرپاتے ، تاہم حضرت کے روزنامچوں کو اگر حفاظت سے رکھا جائے اور عمدہ تحقیق کے ساتھ اس کو مرتب کیا جائے تو ان کی کتابِ زندگی کا ہرورق کھل کر سامنے آجائے گا ، شاید کوئی محقق اور تذکرہ نگار بہت محنت اور تحقیق کے بعد بھی مرحوم کی اس قدر جامع سوانح عمری مرتب نہ کرسکے ، جیسی سوانح اُن کے روزنامچوں سے تیار ہو سکتی ہے ، حضرت رح مجھ سے فرمایا کرتے تھے کہ اشراقہ بھی دراصل میرے روزنامچوں کی ہی صدائے بازگشت ہے ، زندگی کی پچاس سے زیادہ بہاریں دیکھ چکا ہوں اور شروع سے ڈائری لکھنے کا اہتمام ہے ۔ اپنی پرانی ڈائریوں کو الٹ پلٹ کر دیکھتا رہتا ہوں ، کوئی عبرت آموز واقعہ یا کوئی خاص نکتہ میرے دل کو بھا جاتا ہے ، میں اُس سے نئے نئے نکتے پیدا کر لیتا ہوں ، میرا قلم اُس کی تراش و خراش سے اُس میں نیا حسن اور نئی تازگی پیدا کردیتا ہے ، لوگ اُس کو پڑھتے ہیں اور سر دھنتے ہیں ، لیکن اُس کی رسد اور کمک زیادہ تر مجھے اپنے روزنامچوں ہی سے ملتی ہے ۔

مضمون نگاری اور انشا پردازی کی ابتدا روزنامچوں سے ہوتی ہے ، یقیناً انسان کا اسلوب مطالعے سے بنتا ہے لیکن روزنامچوں سے اسلوب میں جلا پیدا ہوتی ہے ، انسان کا تخلیقی جوہر کھلتا ہے ، کسی بات کو عمدگی سے لکھنے اور کہنے کا سلیقہ پیدا ہوتا ہے ۔
خطابت کا جوہر اُسی وقت نکھر سکتا ہے جب آدمی بولے ، جس کی زبان پر قفل پڑا ہو وہ کبھی اچھا خطیب نہیں ہو سکتا ، اسی طرح جس کے قلم کو کبھی جنبش نہ ہو وہ مضمون نگار اور انشاپرداز نہیں ہو سکتا ، حضرت رح اس بات کو بڑے سادہ لہجے میں کہتے تھے ، چنانچہ ایک بار میں نے مضمون نویسی کے رہنما اصولوں کا تذکرہ کیا تو بہت سادہ لہجے میں فرمایا کہ بولو تو بولنا آجائے گا اور لکھو تو لکھنا آجائے گا ، یہ کوئی فلسفہ نہیں ہے ،عملی اندازکی چیز ہے ‍۔

کتابوں سے بکثرت مراجعت:

اِس حوالے سے حضرت کی ایک خاص بات کا تذکرہ ناگزیر سمجھتا ہوں ، حضرت کا مزاج کثرت سے مطلوبہ مآخذ و مراجع کو دیکھنے اور اس سے استفادہ کرنے کا تھا ، اس سلسلے میں غفلت و تساہل کو پسند نہیں کرتے تھے ، عربی ادب کی بعض اہم کتابیں حضرت کے پاس بیسیوں سال سے رکھی ہوئی تھیں ، حتی کہ وہ کتابیں بھی جو آپ زمانہ ہائے دراز سے پڑھا رہے تھے اور جس کی ایک ایک سطر دماغ میں محفوظ تھی ، آپ کثرت سے ان کتابوں سے استفادہ کرتے تھے ، القاموس الوحید کے بڑے مداح تھے ، اِس کثرت سے اِس لغت سے مراجعت کی تھی کہ وہ تقریباً آپ کو یاد ہو گئی تھی ، ذرا ضرورت محسوس ہوتی تو فوراً مطلوبہ حصہ کھول کر دیکھتے ، اِس میں آپ کو ذرا بھی اکتاہٹ نہیں محسوس ہوتی تھی ، ہم طلبہ کے سامنے خاص طور پر ہماری تربیت کے نقطۂ نظر سے بھی ایسا کرتے تھے اور بار بار ہمیں اس کی تاکید بھی کرتے تھے ۔

جبر سے احتراز اور غیرمعمولی رعایت پسندی:

تعلیم کے باب میں اُن کا طریقہ یہ تھا کہ معمول کی تعلیم میں کوتاہی برداشت نہیں کرتے تھے ، اس لئے اسباق کا ناغہ وغیرہ بالکل پسند نہیں تھا ، البتہ کسی خاص وجہ سے طالب علم کے شوقِ طلب میں کمی دیکھتے تو ہرگز جبر سے کام نہیں لیتے تھے ، البتہ اسباق کی حاضری اور روزانہ کی تمرینات پھر بھی ضروری سمجھی جاتی تھی ، حضرت رح کا خیال تھا کہ اگر تعلیمی تسلسل برقرار رہے تو بے شوقی اور طبیعت کی افسردگی زیادہ دن تک باقی رہنے والی چیز نہیں ہے ، البتہ یہ ضروری ہے کہ اس عرصے میں طالب علم کا کتابوں سے اور استاذ سے رشتہ نہ ٹوٹنے پائے ۔
تخصص فی الادب کے سال یہ قصہ پیش آیا کہ عیدالاضحیٰ کے بعد ، میں بعض عوارض میں ایسا مبتلا ہوا کہ طبیعت بے چین اور افسردہ رہنے لگی ، ہزار کوشش کے باوجود یہ افسردگی ختم نہیں ہوتی تھی ، میں نے کسی سے اس کا ذکر تک نہیں کیا ، حضرت الاستاذ نے اس کو بہت جلد محسوس کر لیا ، لیکن اِس سلسلے میں مجھ سے کوئی بات نہیں کی اور نہ میں نے حضرت رح سے اِس کا تذکرہ کیا ، البتہ روزانہ حسبِ معمول خدمت میں حاضر ہوتا رہا ، معمول کی تعلیم اُسی طرح جاری رہی ، بحمد اللہ اس میں کوئی کمی نہیں واقع ہوئی ، البتہ مقالہ نویسی کا کام جو بہت اہم اور ضروری تھا ، مؤخر ہوتا رہا ، ارادہ یہ تھا کہ خوب محنت سے اس پر کام کروں گا لیکن طبیعت ایسی افسردہ اور دل اتنا بے چین تھا کہ اس کام کی طرف التفات ہی نہیں ہوتا تھا:
جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی
حضرت رح کی ناراضگی کے خوف سے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ کبھی ایک دو صفحہ لکھ کر دکھا دیتا اور بس ۔
میری یہ کیفیت برقرار رہی یہاں تک کہ جمادی الأخری میں طبیعت اتنی زیادہ بگڑی کہ میں کسی کو اطلاع کئے بغیر گھر چلا آیا ، میں نے کبھی ایسی جرأت نہیں کی تھی ، دارالعلوم میں جب باضابطہ چھٹی ہوتی تھی ، تبھی گھر آتا تھا اور ایسے مواقع پر حضرت الاستاذ سے ملے بغیر نہیں آتا تھا ،حضرت کو بھی اس پر سخت استعجاب ہوا ، میں سخت ذہنی الجھن کا شکار تھا ، گھر آکر بھی حضرت سے رابطے کی ہمت نہیں کرپایا ، میں کوئی ایک ہفتے کے بعد دیوبند لوٹا ، شام کا وقت تھا ، طیّب مسجد میں مغرب کی نماز پڑھی اور بہت دیر تک مصروفِ دعا و مناجات رہا ، ڈر تھا کہ حضرت رح مجھے دیکھتے ہی باہر نکل جانے کا حکم دیں گے ، خیر کسی طرح جرأت کر کے حضرت کے گھر پہنچا ، میرے لئے انتہائی حیرت کا مقام تھا کہ حضرت رح نے کسی قدر افسردہ لہجے میں صرف اتنا پوچھا کہ تم کو کیا ہو گیا ہے ، پھر اپنی عادت کے مطابق تھوڑی خاطر تواضع کی اور ایک خاص اور بڑا انعام دیا ۔
فرمایا کہ تمہارا مقالہ اب تک نہیں لکھا جا سکا ہے اور امتحان بھی سر پر ہے ، رجب کا مہینہ شروع ہو چکا ہے ، تم کو سردست روزانہ میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں ہے ، تم پوری محنت اور یکسوئی کے ساتھ اپنے مقالے کی تیاری میں لگ جاؤ اور جب مقالہ پورا ہو جائے تب مجھ سے ملو ،حضرت رح کے شاگرد جانتے ہیں کہ تخصص کے طلبہ کو روزانہ حضرت کے پاس جانا ہوتا تھا ، لیکن حضرت نے میرے لئے گنجائش پیدا کردی تھی ، حضرت الاستاذ رح کی اس شفقت و عنایت کو دیکھ کر میرا دل خوشی کے سمندر میں غوطے لگانے لگا ، میں اپنی فردِ جرم سننے آیا تھا اور یہاں محبت کی سوغات بٹ رہی تھی ۔
حضرت الاستاذ کی اِس خاص عنایت نے میرے حوصلوں کو تازگی بخشی ، شوق کو پر لگ گئے ، میرے اندر ایک خاص قسم کی مستی پیدا ہو گئی ، میں نے بازار سے عمدہ کاغذ اور قلم خریدا ، کتابیں پہلے سے جمع تھیں اور بہت سے باذوق ساتھیوں سے موضوع سے متعلق مزید کتابیں مستعار لے لیں ، کتابوں کا مطالعہ کیا اور مقالے کی تسوید و ترتیب شروع کردی ، یہ مقالہ سو صفحے میں لکھا گیا ، مقالے کا عنوان تھا”الجانبُ الخُلقيُّ في حياة الرسول صلى الله عليه و سلم”۔
مراجع کی تحقیق کے بعد فُل اسکیپ کے کاغذ پر اس کی خوبصورت کتابت کی ، اسپائرل بائنڈنگ کرائی ، اُس کی فوٹو کاپی کرائی اور اصل کاپی لے کر حضرت رح کی خدمت میں حاضر ہوگیا ، حضرت رح خوشخطی کو بہت پسند کرتے تھے ، میں نے بہت جی لگا کر یہ تحریر لکھی تھی ، حضرت رح اُس کو دیکھ کربہت خوش ہوئے ، میرا خط بھی بہت پسند آیا ، اپنے دورِ جوانی کا ذکر کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ اُس وقت شکر کے مُوذی مرض نے میری قوتوں کو اس طرح نچوڑا نہیں تھا ، اُس وقت میرا خط بہت عمدہ تھا ، انگریزی کی کتابت بھی بہت خوبصورت کرتا تھا ۔

حضرت الاستاذ کی حوصلہ افزائی ، شفقت اور محبت سے نہ صرف یہ کہ مقالہ نگاری کا کام مکمل ہو گیا بلکہ قلبی اضطراب اور بے چینی کی کیفیت بھی ختم ہو گئی ، سالانہ امتحان شروع ہوا چاہتا تھا ، بس ہفتہ عشرہ باقی رہ گیا تھا ،
میں پوری یکسوئی کے ساتھ امتحان کی تیاری میں جٹ گیا ، بہت محنت اور لگن کے ساتھ امتحان دیا ، بحمد اللہ اول پوزیشن آئی اور تقریباً میں نے پورے نمبرات حاصل کئے ، اگلے سال سے میں تدریس کے کام میں لگ گیا ، حالانکہ اتنے نمبرات کے ساتھ شعبۂ افتا میں داخلہ آسان تھا ، لیکن مجھ سے چوک ہونی تھی سو ہو گئی ۔
تو رہ نوردِ شوق ہے منزل نہ کر قبول
لیلی بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول

اقبال کا یہ شعر بھی کتنا خوبصورت ہے:
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاج تنگئ داماں بھی ہے

(جاری