حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی تعلیمات اور انسانیت نوازی -عبدالرشید طلحہ نعمانیؔ

اسلام دین فطرت ہے جو ہمیشہ اعتدال و میانہ روی کو پسند کرتا ہے،امن و آشتی کا درس دیتا ہے اور محبت و رواداری کے ذریعے سماجی زندگی کو پروان چڑھانے کی تاکید کرتا ہے۔پیغمبر اسلام ﷺ کی جملہ تعلیمات و ہدایات کا خلاصہ اور نچوڑ اگر دو لفظوں میں پیش کیاجائے تو بجا طور پر کہاجاسکتا ہے کہ خالق کی عبادت اور مخلوق کی خدمت ہی سارے دین کا لب لباب اور ماحصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے صحابہ اور تابعین نے اسی کی تعلیم دی،محدثین کرام اور فقہائے عظام نے اسی کی تلقین کی اور اسی کے ذریعہ اکابر و اسلاف نے دنیائے انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی میں لاکھڑا کیا۔
یہ ایک ناقابل انکارحقیقت ہے کہ جہاں ایک طرف دین کی حفاظت و صیانت میں علماء امت نے علم وتحقیق اور تصنیف و تالیف کے ذریعہ مختلف کار ہائے نمایاں انجام دیے،وہیں دوسری طرف اسلام کی نشر و اشاعت میں اخلاق و کردار،اعلی ظرفی اور انسانیت نوازی کے ذریعہ صوفیائے کرام و اولیائے عظام نے کلیدی رول ادا کیا۔ بلاشبہ ان بزرگان دینؒ نے کتاب و سنت کی روشنی میں رحمۃ للعالمینﷺ کے اسوۂ حسنہ اور صحابہ کرامؓ کے طرز عمل کو اپنے لیے نمونہ بنایا اور اپنے عمدہ اخلاق و پاکیزہ کردار کی قوت سے ہزاروں گم کردہ راہ انسانوں کو حلقہ بہ گوش اسلام کیا۔انہی قابل قدر،بلند رتبہ ہستیوں میں پانچویں صدی کے مسیحاصفت بزرگ،شیخ المشائخ حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانیؒ بھی سرفہرست ہیں۔ آپ کا دور مسلمانوں کے سیاسی نشیب و فراز، مذہبی کشمکش، مادیت پرستی اور اخلاقی بے راہ روی کے عروج کا دور تھا۔ ان حالات میں آپ نے علم کی ترویج اور امت کی روحانی تربیت کے ساتھ ایک خاموش انقلاب برپا کیا۔ آپ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ اداکرتے ہوئے دنیا کی بے ثباتی کو عیاں اور فکر آخرت کو اجاگر کیا۔ تجدید و احیائے دین کے لئے آپ کی انہی کوششوں کی وجہ سے ہی آپ کو محی الدین کے لقب سے یاد کیا گیا۔
آپ کے مواعظ و دروس نہ صرف مسلمانوں کے لیے موجب تسکین اور باعث اطمینان و یقین تھے؛بلکہ غیر مسلم بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے تھے، چناں چہ بغداد کی آبادی کا ایک بڑا حصہ آپؒ کی تعلیمات سے متاثر ہوا۔ ہزاروں لوگ آپؒ کے دست مبارک پر سچی توبہ کر کے ہدایت یافتہ بنے اور کثیر تعداد میں مشرک، ملحد اور کافر توحید الٰہی سے آشنا اور دولت اسلام سے فیض یاب ہوئے۔حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒ لکھتے ہیں کہ آپ ہفتے میں تین دن(جمعہ کی صبح، منگل کی شام اور اتوار کی صبح) خطاب فرماتے،ابتدائی زمانے میں صرف دو یا تین آدمی سننے والے ہوتے؛ مگر آپ نے استقامت کے ساتھ وعظ و تذکیر کے سلسلہ کو جاری رکھا۔پھر لوگوں کا ہجوم اس قدر بڑھا کہ جگہ تنگ ہوگئی۔بعدازاں عید گاہ میں خطاب شروع کیا گیاوہ بھی ناکافی ہوئی تو شہر سے باہر کھلے میدان میں اجتماع ہونے لگا اور ایک ایک مجلس میں ستر ہزار کے قریب سامعین جمع ہونے لگے۔ چار سو افراد قلم ودوات لے کر آپ کے ملفوظات جمع کیا کرتے تھے۔(ملخص از اخبار الاخیار)
حضرت شیخ معمر جرادہ فرماتے ہیں کہ میری آنکھوں نے شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی سے بڑھ کر عمدہ اخلاق والا، وسیع سینے والا، کریم النفس، مہربان دل، حافظ عہد و محبت نہیں دیکھا۔ آپ باوجود عالی مرتبہ، وسیع علم کے چھوٹوں کی تعظیم کرتے تھے، سلا م میں پہل کرتے، ضعیفوں کے ساتھ بیٹھتے، فقراء سے تواضع کے ساتھ پیش آتے، کسی بڑے دنیا دار آدمی کے لئے کھڑے نہ ہوتے اور کسی وزیر و سلطان کے دروازہ پر کبھی نہ جاتے۔
شیخ عبداللہ جبائی بیان کرتے ہیں کہ حضرت شیخ عبدالقادر نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ میرے نزدیک کھانا کھلانا اور حسنِ اخلاق افضل و اکمل ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ میرے ہاتھ میں پیسہ نہیں ٹھہرتا، اگر صبح کو میرے پاس ہزار دینار آئیں تو شام تک ان میں سے ایک دینار بھی نہ بچے، غریبوں، محتاجوں میں تقسیم کر دوں اور لوگوں کو کھانا کھلائوں۔ (قلائد الجواھر)
حضرت شیخ اپنے مواعظ میں ایک مقام پر بندگان خدا کے ساتھ خیر خواہی کی نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
صاحبو! میرا کہنا مانو میں تمہارا خیر خواہ ہوں، میں جس حالت میں ہوں یکسوہوں ، مجھ کو متہم مت کرو کیونکہ میں تمہارے لئے وہی چاہتا ہوں جو اپنے نفس کے لئے چاہتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:مومن کا ایمان کامل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنے مسلمان باتئی کے لئے وہی نہ چا ہے جو اپنے نفس کے لئے چاہتا ہے۔(متفق علیہ)
یہ ارشاد ہے ہمارے سردار کا، ہمارے افسرکا، ہمارے حاکم کا، ہمارے سپہ سالار کا، ہمارے سفیر کا، ہمارے شفیع کا، اور اس پیارے رسول کا جوز مانۂ آدم سے لے کر قیامت تک کے سارے پیغمبروں اور نبیوں کا سردار ہے، کہ نفی فرمادی کمال ایمان کی اس شخص سے جو اپنے مسلمان بھائی کے لئے اس جیسی چیز کو محبوب نہ سمجھے جس کو اپنے لئے محبوب سمجھ رہا ہے، پس جب تونے اپنے نفس کے لیے تو مزیدار کھانے اورنفیس کپڑے، اچھے مکان،حسین صورتیں اور ہرقسم کے بہ کثرت اموال کو محبوب سمجھا اور اپنے بھائی مسلمان کے لیے ان کے برخلاف پسند کیا تو اپنے کمال ایمان کے دعوے میں تو جھوٹا ہے۔
اے کم عقل! تیرا پڑوسی فقیر ہے اور تیرے متعلقین حاجت مند ہیں، اور تیرے پاس اتنا مال موجود ہے جس پر کوۃ واجب ہے، اور تجھ کو تجارت میں ہر روز نفع حاصل ہوتا ہے جودن بدن رو بہ ترتی ہے، اور تیرے پاس تیری ضرورت سے زائد موجود ہے، اس پر بھی ان کو نہ دینا درحقیقت ان کے فقر پر جس میں وہ مبتلا ہیں، رضامند ہوناہے (اور یہی دعویٔ کمال ایمان کے کذب کی شناخت ہے) لیکن جب تیرانفس، تیری خواہش اور تیرا شیطان تیرے پیچھے لگا ہوا ہے تو بے شک خیرات کرنا تیرے لیے آسان نہیں ہے۔(مواعظ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ:۱۱۰)
ایک اور مقام پر اللہ والوں کی علامت و نشانی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اللہ والوں کا شغل سخاوت اور مخلوق خدا کی راحت کا سامان کرنا ہے، وہ لوٹنے والے ہیں اور خوب لٹانے والے ہیں کہ حق تعالی کے فضل اور اس کی رحمت کو لوٹتے ہیں اور فقراء و مساکین پر جو تنگی میں مبتلا ہیں لٹا دیتے ہیں، ان قرض داروں کی طرف سے جو اپنے قرض کے ادا کرنے سے عاجز ہیں ان کے قرض ادا کرتے ہیں،درحقیقت بادشاہ تو یہ ہیں نہ کہ شاہانِ دنیا، کیونکہ یہ صرف لوٹتے ہیں اور لٹاتے نہیں۔اللہ والے جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے اس میں اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اور جو موجود نہیں رہتا اس کے منتظر رہتے ہیں کہ کب آئے اور کب خیرات کریں۔اور اللہ والے اللہ تعالی کے ہاتھ سے لیتے ہیں نہ کہ مخلوق کے ہاتھوں سے۔ (ایضاً:۲۰۲)
دوران وعظ بنی اسرائیل کی ایک حکایت ذکر کرکے یوں درس موعظت دیتے ہیں:
حکایت ہے کہ بنی اسرائیل ایک مرتبہ تنگ حالی میں مبتلا ہوئے تو سب کھڑے ہوکر اپنے نبی کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ کوئی کام بتایئے جس سے حق تعالی شانہ راضی ہو ، ہم اس کو انجام دیں اور وہ ہماری اس مصیبت کے رفع ہو جانے کا سبب بن جائے۔ پس نبی نے حق تعالی شان سے اس کام کی بابت سوال کیا تو حق تعالی نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ: ان سے کہہ دو کہ اگر تم میری خوشنودی چاہتے ہو تو مساکین کو راضی کرلو، پس اگر تم نے ان کو راضی کر لیا تو میں راضی ہو جاؤں گا، اور ان کو ناراض رکھا تو میں ناراض رہوں گا۔
سنو اے عقل والو! تم ہمیشہ مساکین کو ناراض رکھتے ہو اور پھر حق تعالی کی خوشنودی چاہتے ہو، اس کی خوشنودی تمہارے ہاتھ بھی نہیں آئے گی تم ہر پہلو سے اس کی ناراضی میں ہو، میرے کلام کی روشنی پر ثابت قدم رہو کہ ضرور فلاح پاؤگے، ثابت قدمی ہی روئیدگی ہے کہ درخت ثابت قدم رہ کر ہی پھل پھول پاتا ہے۔(ایضاً:۲۲۶)
خلاصۂ کلام:
موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم اپنے دلوں کو ٹٹولیں اور اپنے احوال کا جائزہ لیں کہ ہم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے نام لیوا ہوتے ہوئے ان کی تعلیمات پر کس درجہ عمل پیرا ہیں؟ ہمسایوں کے حقوق،یتیموں کے ساتھ حسن سلوک،بیواؤں کی خبرگیری،غیرمسلموں کے درمیان دعوتی سرگرمی وغیرہ پر مشتمل تعلیمات کو عملی جامہ پہنانے کا خیال تو درکنار ہم صبح و شام اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے ساتھ باہم دست و گریباں ہیں، معمولی مسائل کو لے کر اختلافات کی خلیج کو وسیع کرنے کے درپے ہیں، بلند کرداراور اچھے اخلاق تو جیسے عنقا ہوچکے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دل میں شوق اچھے کہلانے کا نہیں،اچھے بننے کا پیدا کریں۔ نیک نامی کا نہیں، نیکی انجام دینے کا پیداکریں۔ بد نامی سے نہیں، بدی سے ڈرنے کی کوشش کریں۔ اپنے دل میں اللہ کو جگہ دیں، اللہ خلقت کے دلوں میں ہماری جگہ پیدا کر دے گا۔ جب تک یہ نہیں ہے، اس وقت تک ہم کس منہ سے اپنے آپ کو اس اللہ والے سے منسوب کر سکتے ہیں جس کی زندگی ایثار و خدمت خلق کی عملی تفسیر تھی، اور جو بڑا ہو کر بھی دنیا کے سامنے اپنے آپ کو سب سے چھوٹا بنا کر پیش کرتا تھا۔