حضرت مولاناقاری عثمان منصورپوری نے تین نسلوں کی تربیت کی، مولانا احمدولی فیصل رحمانی کااظہارتعزیت

مونگیر: دارالعلوم دیو بندکے ممتاز محدث اور قائم مقام مہتمم حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصور پوریؒ کے سانحہ انتقال پر خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشیں حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب نے شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت مولانا بڑے ذی علم اوربا عمل عالم دین تھے۔ اللہ تعالی نے انہیں علم دین کا وافر حصہ عطا فرما یا تھا۔ انہوں نے اپنے علم سے تین نسلوں کو بھرپور فائدہ پہنچا یا اور عربی درجات کی ابتدائی کتاب سے لے کراعلیٰ درجات کی اکثر کتابوں کا درس دیا۔ تفسیر قرآن کریم اور درس حدیث میں اللہ تعالی نے بڑی برکت دی تھی ،طلبہ ان کے درس سے بے پناہ فیض یاب ہوئے.۔آپؒ نے دارالعلوم دیو بند اور جمیعۃ علمائے ہندکے پلیٹ فارم سے ملک و ملت کی بڑی خدمت کی۔اللہ تعالیٰ ان کی خدمت دین کوقبول فرمائے اور مغفرت فرمائے اور جنت میں حضرت کے درجات کو بلند فرمائے۔ آمین۔
حضرت مولانااحمدولی فیصل رحمانی نے مزید کہاکہ قاری صاحبؒ والد بزرگوار حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی صاحبؒ کے درسی ساتھی تھے اور طالب علمی کے زمانے سے تا حیات دونوں بزرگوں میں محبت والفت اور احترام واکرام کابہت گہرا رشتہ تھا۔ قاری صاحبؒ کے اعلیٰ ظرفی کا یہ عالم تھا کہ جب بھی والد صاحب دارالعلوم تشریف لے جاتے تو قاری صاحب ملاقات کے لیے خود ہی مہمان خانہ تشریف لے آتے۔ ملی معاملات میں آپسی مشورہ بھی کرتے تھے۔آپؒ خانقاہ رحمانی مونگیر کی تحریکات کے قدرداں تھے۔جب ناموس مدارس اسلامیہ کنونشن 2002 میں منعقد ہوا تھا اس وقت حضرت امیر شریعت نے آپ کومدعو کیا تو آپ اس موقعہ پر اہتمام سے تشریف لائے اور دارالعلوم دیو بند کی نمائندگی فرمائی۔ قاری صاحبؒ والد صاحبؒ کے انتقال سے بہت رنجیدہ تھے۔ دادا بزرگوار حضرت امیر شریعت مولانا منت اللہ صاحب رحمانیؒ آپ کو بہت عزیز رکھتے اور قاری صاحب ہمیشہ ان سے مشورہ اور دعائیں لیتے۔سجادہ نشیں نے فرمایاکہ ان کے اچانک چلے جانے سے ہم سب نے اپنے ایک عظیم سرپرست کو کھو دیا ہے۔ اللہ تعالی حضرت قاری صاحب کی تعلیمی تصنیفی اور ہرطرح کی ملکی اور ملی خدمات کو قبول فرمائے اورجنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین۔