حضرت مولانا نور عالم خلیل امینیؔ صحافتی خدمات کے آئینے میں ـ محمد مزمل الرحمان طالب قاسمی

عربی و اردو صحافت و ادب کے نجم تاباں، استاذ محترم، حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی (رحمہ اللہ) نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن اصلی رائے پور ضلع سیتامڑھی (بہار) میں اور ثانوی تعلیم مدرسہ امدادیہ دربھنگہ، دارالعلوم مئو، اور دارالعلوم دیوبند میں حاصل کی اور 1970ء میں مدرسہ امینیہ دہلی میں حدیث شریف کی تکمیل فرمائی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت والا کی ذات ہمہ گیر و ہمہ جہت شخصیت کی حامل تھی ، مختلف علوم و فنون سے ان کی محض وابستگی ہی نہیں؛ بلکہ ان پر انہیں دست رس و عبور بھی حاصل تھا؛ لیکن ان تمام میں جو خاص دولت قسام ازل کی جانب سے آپ کو ودیعت کی گئی تھی وہ آپ کا فکری، ادبی و صحافتی مذاق تھا۔ اللہ نے آپ کی طبیعت میں ابتدا ہی سے زبان و ادب سے تعلق و دلچسپی پیدا فرما دی تھی، پھر اپنے استاذ و مربی، یگانۂ روزگار ادیب، حضرت مولانا وحید الزماں قاسمی کیرانوی (قدس سرہ العزیز) کے سایے میں آپ کا یہ ذوق مزید نکھرا، ساتھ ہی کلید بردارِ کعبہ، عالمی شہرت یافتہ مؤرخ و ادیب، مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی میاں ندویؒ کی خصوصی توجہات و التفات کے باعث آپ کی ادبی صلاحیتیں مسلسل ترقیات سے ہمکنار ہوتی رہیں۔
1972ء میں جب حضرت مفکر اسلام نے دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ میں آپ کو بحیثیت استاذِ ادبِ عربی مسند درس پر متمکن فرمایا تو تھوڑے ہی دنوں میں اپنی بے مثال لیاقت و قابلیت کے باعث آپ حضرت کے منظورِ نظر بن گئے؛ بلکہ حضرت نے آپ کو اپنے ان خاص مقربين کی جماعت میں شامل فرما لیا جو اپنی گوناگوں خصوصیات کی وجہ سے حضرت کی نظر میں معتمد و معتبر تھے؛ چنانچہ آپ نے مسلسل دس سالوں تک ندوہ میں تدریسی خدمات انجام دیں اور اس عرصہ میں حضرت کی مختلف تحریروں کے ترجمے کا کام بھی کرتے رہے اور خود بھی مختلف موضوعات پر خامہ فرسائی کرتے رہے جو ندوہ کے ماہنامہ و پندرہ روزہ رسالوں میں شائع ہوتے تھے۔ پھر ١٩٨٢ء میں اپنے مشفق و مربی استاذِ مکرم حضرت مولانا وحیدالزماں قاسمی کیرانوی ؒ کے امر پر آپ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کو خیر باد کہہ کر مادر علمی دارالعلوم دیوبند آگئے، یہاں عربی ادب کی تدریس کے ساتھ دارالعلوم دیوبند کے ماہنامہ عربی رسالہ ”الداعی“ (جو ان دنوں پندرہ روزہ تھا) کی ادارت بھی آپ کے سپرد کی گئی۔ اس وقت سے اب تک آپ ان دونوں ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی نبھا رہے تھے۔ آپ کے اس شعبے سے انسلاک کو تقریباً چالیس سالہ طویل عرصہ گزر چکا تھا اور عالم گیر پیمانے پرآپ عربی زبان کے صاحبِ طرز ادیب اور دیدہ ور صحافی تسلیم کیے جا چکے تھے، علاوہ ازیں صدر جمہوریۂ ہند کی جانب سے بھی عربی زبان و ادب سے خصوصی شغف و لگاؤ اور اس میں بےمثال کارکردگی کی بنا پر 2017ء میں صدارتی ایوارڈ سے سرفراز کیے جا چکے تھے ۔
آپ کی تحریریں علم ریز و تحقیق آمیز ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی لطافت و شیرینی سے اس قدر معمور ہوا کرتی تھیں کہ ہر وہ شخص جسے زبان و ادب کے ذوقِ صحیح کا تھوڑا بھی حصہ میسر ہو، مسحور ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، آپ کی سحرانگیز تحریریں ملک و بیرونِ ملک کے بیشتر جرائد و رسائل میں شائع ہوتی رہتی تھیں، جن کی گہرائی و گیرائی اور ظاہری و باطنی حسن و خوبیوں پر زمانے کے مایہ ناز عربی صحافیوں اور ادیبوں نے مہرِ توثیق ثبت کی ہیں، آپ کے عربی مضامین ہندوستان سے شائع ہونے والے ماہ نامہ ”الداعی“ دارالعلوم دیوبند کے علاوہ ”البعث الاسلامی“ اور ”الرائد“ دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ، جب کہ بیرون ملک سے شائع ہونے والے”الدعوۃ“ ریاض، ”الحرس الوطنی“ ریاض، ”الفیصل“ ریاض، ”الجزیرۃ“ ریاض، ”العالم الاسلامی“ مکہ مکرمہ اور”الندوۃ“ مکہ مکرمہ وغیرہ میں بھی شائع ہوتے اور ذوق و شوق سے پڑھے جاتے تھے۔
عربی کے ساتھ اردو ادب و صحافت بھی آپ کی دلچسپی کا مرکز تھا؛ چنانچہ اردو زبان میں بھی آپ کے گہربار قلم سے موقع بموقع ملکی، عالمی و مذہبی مسائل پر مقالات و مضامین معرضِ وجود میں آتے رہتے تھے، جن پر برائے استفادہ عوام ہی نہیں؛ بلکہ خواص بھی پروانہ وار لپکتے اور ان کی علمی و فکری موتیوں سے اپنا دامن بھرتے تھے۔ آپ کے قلم کے لیے کوئی مخصوص پگڈنڈی متعین نہیں تھی؛ بلکہ علمی، ادبی، سماجی، اخلاقی اور اصلاحی تمام موضوعات اس کی عام شاہراہ تھی؛ لیکن پھر بھی عام طور پر آپ کی عنانِ توجہ عالم اسلام اور اسے درپیش مسائل و مشکلات کی طرف مرکوز رہتی تھی، آپ نے کمال بصیرت مندی، دوربینی و دوررسی کے ساتھ اسلامی دنیا کے خلاف عالمی برادری، امریکہ اور اسرائیل کی دسیسہ کاریوں اور منصوبہ بند سازشوں سے پردۂ نقاب وا کیا تھا اور ان کی کارستانیوں کا حیرت انگیز طور پر انکشاف کیا تھا؛ چنانچہ گیارہ ستمبر 2001ء کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہوئے دہشت گردانہ حملہ کا ملزم جب امریکہ؛ بلکہ پوری عالمی برادری نے القاعدہ کو ٹھہرا کر پورے افغانستان کو اپنے ظلم و جور کا تختۂ مشق بنا لیا تھا تو ایسے وقت میں کھل کر دنیا بھر کی عالمی طاقتوں اور مغربی یہودی و صہیونی میڈیا کے خلاف آپ نے محاذ آرائی کی اور نہایت ہی ٹھوس اور مستحکم دلائل و شواہد کی روشنی میں یہ ثابت کیا تھا کہ اس حملے سے القاعدہ کا دور کا بھی کوئی رشتہ نہیں ہے؛ بلکہ اس کے پیچھے خود امریکی و صہیونی ہاتھ کار فرما ہے۔ پھر جب امریکہ نے 2003ء میں نیوکلیائی ہتھیار رکھنے کے فرضی جرم میں انبیاء و رسل کے مسکن عراق کی مقدس سرزمین پر ظلم و ستم کا ننگا ناچ نچانا شروع کیا تھا تو اس وقت بھی آپ کا قلم حقیقتِ حال کے بیان سے نہیں چوکا تھا؛ بلکہ آپ نے اس الزام کے پیچھے مغرب کے ناپاک مقاصد سے پردہ ہٹایا اور زبردست و قوی تر دلیلوں کے ذریعہ اس حقیقت کا انکشاف کیا تھا کہ عراق پر امریکہ کی جانب سے فوج کشی کا واحد مقصد عراق کو زیر کر کے وہاں کے زمینی خزانے یعنی تیل پر ناجائز قبضہ جمانا ہے، اور آج یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے؛ بلکہ ان تمام حقائق تک زمانے کے حالات و تغیرات نے ہر کس و ناکس کو پہنچا دیا ہے اور تمام اپنی کھلی آنکھوں سے حقیقت حال کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
مظلوم افغانستان و عراق کے حوالے سے آپ نے جو کچھ مقالات و مضامین اخبار و رسائل میں لکھے تھے، انہیں افادۂ عام کی غرض سے آپ نے مستقل کتاب کی شکل بھی عطا کی اور اس سلسلہ کی پہلی کتاب ”کیا اسلام پسپا ہو رہا ہے؟ “ اور دوسری کتاب ”عالم اسلام کے خلاف موجودہ صلیبی و صہیونی جنگ“ کے نام سے منصۂ شہود پر آئیں اور غیر معمولی پذیرائی سے ہم کنار ہوئیں۔ علاوہ ازیں دینِ محمدی کے کھلے دشمن بدباطن یہودیوں کے ظلم و ستم کے شکنجے میں ایک عرصے سے گرفتار قبلۂ اول بیت المقدس اور وہاں کے باشندگان کے رِستے ہوئے زخموں پر بھی آپ کے قلم نے مرہم رکھا ہے اور اس موضوع پر”الداعی“ کی باگ ڈور ہاتھ میں لینے کے بعد اپنے اداریے میں مسلسل اور اس کے علاوہ ہندوستان کے دیگر اخبارات و رسائل میں گاہے بگاہے آپ کے مقالات و مضامین شائع ہوتے رہتے تھے، ان مضامین کا دھماکہ خیز مجموعہ بھی ”فلسطین فی انتظار صلاح دین“ (بزبان عربی) اور ”فلسطین کسی صلاح الدین کے انتظار میں“ (بزبان اردو) کے نام سے طبع ہو چکا ہے، اس کتاب کے متعلق ہردلعزیز نوجوان صحافی و ادیب نایاب حسن قاسمی نے دیوبند کی صحافتی خدمات پر اپنی تحقیقی کتاب ”دارالعلوم دیوبند کا صحافتی منظر نامہ“ میں لکھا ہے:
” اردو کی حد تک تو یہ کتاب مسئلۂ متعلقہ پر تاریخی و دستاویزی حیثیت رکھتی ہے؛ بلکہ بلا خوف تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس موضوع پر اردو زبان میں اس سے زیادہ جامع، مفصل، فکر و نظر کو مہمیز کرنے اور قلب و ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والی کتاب لکھی ہی نہیں گئی، مگر اس کا عربی ایڈیشن بھی (اس کے باوجود کہ ماضی سے لے کر عصر حاضر تک بے شمار عربی اسلامی مفکرین اور اہلِ قلم نے مسئلۂ فلسطین کو موضوعِ تحریر بنایا ہے اور اس تعلق سے کئی قابل قدر تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں) اپنی نظیر آپ ہے، جس کا اعتراف مشہور سعودی مفکر و ادیب و صحافی یوسف کامل خطاب اور دیگر دانشورانِ عرب نے بھی کیا ہے۔“
آپ نے ملک کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والی علمی، ادبی و سیاسی شخصیتوں پر بھی اپنے بیش قیمت تاثراتی مضامین لکھے ہیں، جن میں سینتیس نابغۂ روزگار ہستیوں کے سوانحی تذکرے پر مشتمل آپ کا تحریری مجموعہ بنام ”پس مرگ زندہ“ مشہور و مقبول ہے اور چوبیس شخصیتوں کے تذکرے پر مشتمل دوسرا مجموعہ بنام ” رفتگانِ نارفتہ “ زیر طبع ہے۔ ان کے علاوہ اپنے استاذِ محترم حضرت مولانا وحیدالزماں قاسمی کیرانوی ( رحمہ اللہ) کی حیات و خدمات کا مفصل تذکرہ بنام ”وہ کوہ کَن کی بات“ بھی مقبولِ خاص و عام ہے۔
آپ کے تحقیقی، تجزیاتی و فکری مقالات و مضامین اندرون و بیرونِ ملک کے جن اخبارات و رسائل میں شائع ہوا کرتے تھے ان میں روزنامہ”راشٹریہ سہارا“ دہلی، ”منصف“ حیدرآباد، ”انقلاب“ ممبئی و دہلی، ”اردو ٹائمز“ ممبئی، ”اخبار مشرقی“ کلکتہ و دہلی، سہ روزہ ”دعوت“ دہلی، ہفت روزہ ”نقیب“ پٹنہ، ”عالمی سہارا“ دہلی، ”الحق“ پاکستان، ”اذان بلال“ آگرہ، ”ریاض الجنۃ“ جون پور، ”ہدایت“ جے پور اور”البدر“ کاکوری بالخصوص قابل ذکر ہیں۔ آپ ہندوستان سمیت سعودی عرب، کویت، مصر اور متحدہ عرب امارات وغیرہ میں منعقد ہونے والے درجنوں علمی، ادبی و سیاسی اور قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں نیز مذاکراتی مجلسوں میں اپنے گراں مایہ مقالات بھی پیش کر چکے تھے۔
آپ ٢٠١١ء میں حضرت مولانا مفتی ظفیرالدین مفتاحی (رحمہ اللہ) کی وفات کے بعد سے اب تک دارالعلوم دیوبند میں قائم طلبۂ بہار، اوڈیشہ و جھارکھنڈ کی مشترکہ و تاریخی انجمن ”بزمِ سجاد“ کی سرپرستی بھی فرما رہے تھے، آپ کی نگرانی و ہدایت اور مفید مشوروں سے”بزمِ سجاد“ کو کافی فائدہ ہوا تھا اور اس کی ترقی و خدمات کا دائرہ آپ کی سرپرستی میں مسلسل روزافزوں تھا؛ لیکن افسوس صد افسوس کہ رمضان المبارک 1442ھ کی بیسویں شب میں آپ ہمیشہ ہمیش کے لیے ہم سب کو داغ مفارقت دے کر جوار رحمت میں جا بسے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)
دعا ہے کہ اللہ آپ کی لغزشوں کو در گزر فرمائے اور آپ کی دینی خدمات کو قبول فرماتے ہوئے آپ کو اپنے شایانِ شان ماجور کرے۔ (آمین)