حضرت مولانا نور عالم خلیل امینیؒ:کچھ یادیں کچھ باتیں-محمد شمس عالم قاسمی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں دارالعلوم الاسلامیہ گلشن نگر جوگیشوری ممبئی میں سال 2007 میں درجہ اعدادیہ میں داخل ہوا اور حضرت رحمه اللہ کی بہت ہی معروف اور مقبول کتاب مفتاح العربیہ پڑھنے کا سلسلہ شروع ہوا، اسی دن سے حضرت سے ایک غائبانہ تعلق قائم ہوا۔ اس کے علاوہ ہمارے مشفق استاذ اور حضرت رحمه الله کے شاگرد رشید حضرت مولانا محب المرسلین صاحب قاسمی سہارنپوری، حضرت مولانا عبداللہ صاحب قاسمی بستوی، اور حضرت مولانا وکیل صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ نے متعدد مرتبہ دوران درس حضرت رحمه اللہ کے علم و ادب، فضل و کمال، طریقہ تدریس، اور حضرت کی شخصیت کے متعلق تفصیلی طور پر گفتگو فرمائی جس کی وجہ سے حضرت رحمه اللہ کی ذات سے الفت و محبت پیدا ہوگئی، نیز جب اس کا بات علم ہوا کہ حضرت کا تعلق بھی ہمارے علاقے کے رائے پور گاؤں سے ہے جو ہمارے گاؤں کریم گنج جھٹکی سے تقریبا سات کلو میٹر کے فاصلے پر ہے تو خوشی کی انتہا نہ رہی اور حضرت رحمه اللہ کی عقیدت میں مزید اضافہ ہوگیا۔
سال 2014 میں درجہ ہفتم کے سال میں باغوں والی میں زیر تعلیم تھا تو دیوبند جانے کا اتفاق ہوا اور دل میں خیال آیا کہ اب حضرت سے ملاقات کرلینی چاہیئے چنانچہ ضابطہ کے مطابق عصر کی نماز کے بعد حضرت کو فون لگایا اور سلام و کلام کے بعد خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مل گئی۔
حسب استطاعت حضرت کیلئے معمولی سا ہدیہ لیا اور خدمت میں حاضر ہوگیا اندر سے بہت خوف زدہ تھا اور دل پر حضرت کے علم و کمال کا بہت زیادہ رعب طاری تھا۔ سلام و کلام کے بعد حضرت نے اپنے سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کیلئے کہا اور خود ہی کلام کا سلسلہ جاری فرمایا، جب میں نے اپنا تعارف کرایا اور بتایا کہ میں آپ کے علاقے کا ہوں تو بہت خوش ہوئے اور میں نے ان کی صحت کے متعلق سوال کیا تو فرمایا کہ ہمیشہ کی طرح پیر میں درد رہتا ہی ہے۔
پھر مدارس کی موجودہ صورت حال کے متعلق بات چلی تو فرمانے لگے کہ مہتمم حضرات کو ہدیہ و نذرانہ تو ملتا ہی رہتا ہے البتہ اساتذہ کرام کیلئے بڑی مشکلات ہیں، ایک تو تنخواہ بہت کم ہوتی ہے اور وہ بھی وقت پر نہیں ملتی۔ اس کے بعد حضرت نے فرمایا کہ باغوں والی کا ادارہ تو کافی خوش حال ہے وہاں کے لوگ بھی مدرسے کا بہت خیال کرتے ہیں۔ اور فرمایا کہ میرا ایک شاگرد ہے اس کے گھر ولیمہ کی دعوت میں ایک مرتبہ میں اس میں گاؤں جا چکاہوں۔
علاوہ ازیں اور بھی باتیں ہوئیں جو اب ذہن میں نہیں ہیں۔ اخیر میں حضرت نے حوصلہ افزائی فرمائی، مفید مشوروں اور بہت ساری دعاؤں سے نوازا۔
دوسری مرتبہ عربی انجمن کے سالانہ اجلاس میں حضرت سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، اس پروگرام میں دارالعلوم سے اور بھی کئی اساتذہ کرام تشریف لائے تھے۔ اس پروگرام کے شروع میں احقر نے عربی کی معروف نعت (یارب صل وسلم دائما ابدا) پڑھی، الدین والسياسية کے عنوان پر تقریر بھی کرنے کا موقع ملا اور ملک کی موجودہ صورتحال اور ان کا حل کے عنوان سے ایک دلچسپ مکالمہ بھی عربی زبان میں پیش کیاگیا جس میں متعدد طلبہ نے ملک و ملت کی معروف شخصیات کا کردار ادا کیا اور الحمدللہ احقر نے صدر جمیعة العلماء ہند، وأستاذ دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب زید مجدہ کا کردار ادا کیا جسے سامعین نے خوب پسند کیا اور حضرت نے بھی ہماری حوصلہ افزائی فرمائی، جلسہ کے اخیر میں حضرت کا تفصیلی بیان ہوا جس میں انہوں نے اپنے استاذ حضرت مولانا وحید الزماں کیرانوی صاحب نوراللہ مرقدہ کے طریقہ تدریس کو بیان فرمایا اور بتایا کہ وہ صرف نصابی کتابیں ہی نہیں بلکہ کتاب الحیاة پڑھایا کرتے تھے، طلبہ اور اساتذہ کیلئے بہت ساری مفید باتیں کیں اور بیش قیمتی مشوروں سے نوازا۔
اسی طرح دورۂ حدیث شریف کے سال(2015) دیوبند میں قیام کے دوران کئی مرتبہ حضرت کے دیدار اور بیانات سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالٰی حضرت کی بال بال مغفرت فرمائے، سیئات کو حسنات سے مبدل فرمائے، جنت الفردوس میں اعلٰی مقام نصیب فرمائے، پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور دارالعلوم کو اپ کا نعم البدل عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین