حضر ت مولانانور عالم خلیل امینیؒ کا انتقال ملت اسلامیہ کا بڑا علمی خسارہ: امارت شرعیہ

 

پھلواری شریف : (محمدمنہاج عالم ندوی)ملک کے ناموراور مشہور عالم دین، دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز استاذ،جریدہ الداعی کے ایڈیٹر حضرت مولانانور عالم خلیل امینی ؒطویل علالت کے بعد ۲۰؍رمضان المبارک ۱۴۴۲؁ھ روز سوموار رب کائنات سے جا ملے ، انا للہ و انا الیہ راجعون، وہ کافی دنوں سے بیمار چل رہے تھے،اور بالآخر علم وادب کا یہ درخشندہ ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا ۔ حضرت مولاناؒ کی ولادت ۱۹۵۲؁ء میں ہوئی ،ان کا آبائی وطن ضلع سیتا مڑھی کی ایک آبادی رائے پور میں ہے،مدرسہ امدادیہ دربھنگہ ،دارالعلوم مئو،دارالعلوم دیوبنداور مدرسہ امینیہ دہلی میں تعلیم پائی اور دس سالوں تک دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دیا،پھر ۳۹؍سال تک ازہر ہند دارالعلوم دیوبند میں منصب درس و تدریس کا فریضہ انجام دیا، آپ نے جن اساتذہ سے خوشہ چینی کی ان میں مولوی ابراہیمؒ صاحب ،مولانااویس صاحب رائے پوری ؒ،مولانا ریاست علی بحرآبادی،مولانا امین صاحب ادروی،مولانا عبدالحق صاحب اعظمی شیخ ثانی دارالعلوم دیوبند،قاری محمد یاسین صاحب ،مولانا وحیدالزماں کیرانوی،مولانا حسین بہاری،مولانا قمرالدین گورکھپوری،مولانا خورشید احمد دیوبندی اور حضرت مولانا محمد میاں صاحبؒ کا نام سر فہرست ہے ۔آپ کے قابل ذکر علمی وتصنیفی کارناموں میں’’وہ کوہ کن کی بات،فلسطین کسی صلاح الدین کے انتظار میں،پس مرگ زندہ،موجودہ صلیبی وصہیونی جنگ،کیا اسلام پسپا ہورہاہے،مفتاح العربیہ،الدعوۃ الاسلامیہ بین الامس والیوم‘‘وغیرہ شامل ہیں ۔

ان کے وصال پر حضرت مولانا محمد شمشادصاحب رحمانی قاسمی نائب امیر شریعت بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ نے اپنے تعزیتی پیغام میں گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مولانا نور عالم خلیل امینیؒ کا علمی لحاظ سے مقام و مرتبہ بہت بلند تھا، آپ کے انتقال سے ملک ایک ممتاز عالم اور بے مثال ادیب سے محروم ہوگیا ایک طویل عرصے تک انہوں نے دین اور علم کی خدمت انجام دی اور علم وادب کی وادی کو منور کیا ، ان کادرس مثالی اور ان کی طرز زندگی نمونہ کی تھی،وہ ایک مقبول استاذ ،مستنداور معروف عالم دین بالخصوص عربی زبان وادب میں یکتا ئے روزگارتھے ،ان کے جانے سے دارالعلوم دیوبندایک شفیق استاداور بہترین ادیب اورعظیم علمی شخصیت سے محروم ہوگیا۔اللہ تعالی حضرت مولاناکی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے ، حضرت مولانا ؒکے انتقال پر دفتر امارت شرعیہ میں ایک تعزیتی نشست زیر صدارت جناب مولانا محمد شبلی القاسمی قائم مقام ناظم امارت شرعیہ منعقد ہوئی ، جس میں امارت شرعیہ کے ذمہ داراصحاب وکارکنان نے شرکت کی اور گہرے رنج و الم کا اظہار کیا ۔آپ کے انتقال پر قائم مقام ناظم امارت شرعیہ نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مولاناؒ کا علم و فضل، زہد و تقویٰ میں ممتاز مقام تھا، وہ ایک شخص نہیں بلکہ ایک انجمن تھے،عربی ادب پر ان کو بڑاعبور حاصل تھا،ان کی عربی ادب کی خدمات کودیکھتے ہوئے صدر جمہوریہ ایواڈ سے نواز اگیا،عربی بولنے اورلکھنے پر ان کو جس قدر عبور حاصل تھااردو ادب میں بھی اسی طرح مہارت تھی جو ان کی تصنیفات سے جگ ظاہرہے،پورے ملک کو ان کے زبان و ادب کی وجہ سے ان پر ناز تھا،حضرت مولانا علیہ الرحمۃ کا آخری مضمون جسے انہوں نے تحریر فرمایاجس کے بعد کوئی مضمون نہیں آیا وہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی نوراللہ مرقدہ امیر شریعت بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ کی رحلت سے غمزدہ ہوکر لکھا ہوا مضمون ہے ’’آہ!مولاناسید محمد ولی رحمانیؒ‘‘جو حضرت امیر شریعت کے وصال ہی کے دن انہوں نے ۲۰؍شعبان المعظم ۱۴۴۲ھ مطابق ۳؍اپریل ۲۰۲۱؁ء کو لکھاتھا ۔ اللہ تعالیٰ ہم لوگوں کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے ۔جناب مولانا قاضی انظار عالم صاحب قاسمی قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ نے اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا نورعالم خلیل امینی ؒمیرے استاذ محترم تھے ، ان کے افہام و تفہیم کا اندازہ بڑا نرالا تھا ،سادہ مزاج اور کامیاب مدرس تھے،کوشش ہوتی کہ اپنے اندر کی صلاحیتوں کواپنے شاگردوں تک پہونچا دیاجائے وہ ایک بااصول ،اور دین وشریعت کے پابند،نفیس،انسان تھے ،امارت شرعیہ کے کئی پروگراموں میںتشریف لاچکے تھے ،ان کے جانے سے ایک بڑا خلا پید اہواہے اللہ تعالیٰ استاذ محترم کی مغفرت فرمائے ۔جناب مولانا مفتی سعید الرحمٰن صاحب قاسمی مفتی امارت شرعیہ نے فرمایا کہ مولانا نور عالم خلیل امینیؒ جیسی شخصیتیں صدیوں میں پید اہوتی ہیں جن کے جانے کا صدمہ کافی بڑا ہوتاہے ان پر علم و ادب کو ناز تھا؛بلکہ آپ ادب عربی کے آبرو تھے،ان کا علم بڑا پختہ تھااللہ ان کی مغفرت فرمائے درجات کو بلند کرے ۔جناب مولانا ابوالکلام شمشی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ نے اپنے تعزیتی بیان میں فرمایا کہ مولانا نورعالم خلیل امینی ؒ ان بزرگوں او رعلماء میں سے تھے جنہوں نے درس و تدریس کے میدان میں کارہا ئے نمایاں انجام دیا ہے ان کا امارت شرعیہ سے گہر اتعلق تھا ۔جناب سمیع الحق صاحب نائب انچارج بیت المال امارت شرعیہ نے کہا کہ ان کا نتقال بڑا سانحہ ہے ،اس وقت بڑی تعدادا میں لوگ دنیا سے رخصت ہورہے ہیں جس میں علماء اور غیر علماء دونوں ہیں اللہ تعالیٰ سبھوں کی مغفرت فرمائے ،جناب مولانا مجیب الرحمٰن صاحب دربھنگوی معاون قاضی شریعت امارت شرعیہ نے فرمایاکہ موت تو ہر شخص کو آنی ہے مگر ہمارے درمیان سے کچھ ایسے بھی لوگ اٹھتے جارہے ہیں جن کے جانے کا نقصان بہت ہوتا ہے مولانا نور عالم خلیل امینیؒ انہیں برگزیدہ شخصیتوں میں سے تھے اللہ مغفرت فرمائے ،اس تعزیتی مجلس میں مولانا محمد منہاج عالم ندوی ،مولانا امام الدین صاحب قاسمی ،مولانا صابر حسین قاسمی وغیرہم نے شرکت کی اور پھر قائم مقام ناظم امارت شرعیہ نے مولانا علیہ الرحمۃ ،مولانا معین الدین قاسمی گیاوی صاحب،مولانا حسین احمد صاحب دربھنگہ،مولانا مقصود صاحب حاجی پور، جناب مولانا طیب صاحب قاسمی سہرسہ ،جناب محسن انجینئرصاحب ،جناب پروفیسر محمد محفوظ الرحمٰن اختر صاحب پٹنہ، ودیگر مرحومین کے لیے دعا فرمائی ۔