حضرت مولانا محمد اسلام قاسمی: حیات و خدمات کی ایک جھلک ـ اسعداللہ بن سہیل احمد اعظمی

آپ دارالعلوم وقف دیوبند کے قدیم مقبول استاذ، بہترین خطاط، ماہر انشا پرداز ادیب، کامیاب مصنف، وسیع النظر مؤرخ، فکر ونظر میں بلند، اور قلم کے دھنی شخص ہیں۔

12/جمادی الاخریٰ 1373ھ- مطابق 16فروری 1954ء کو راجہ بھٹیا ضلع جامتاڑا(دمکا) میں پیدا ہوئے۔
ابتدائی تعلیم کا سفر نانیہال میں موضع بھڑا ضلع جامتاڑ ا (جھارکھنڈ) سے شروع سے کیا۔
خود رقم طراز ہیں:
"جب میری عمر چار، پانچ سال کی ہوئی تو گھر والوں نے بچے کو اپنی ضرورت اور فہم کے مطابق گھر کی بکریوں کو چرانے کی تربیت دینے کی کوشش شروع کردی، مگر اللہ مسبّب الاسباب ہے، مقلب القلوب ہے، میری والدہ نے کہہ دیا کہ میرا بیٹا تعلیم حاصل کرے گا۔ نقار خانے میں طوطی کی آواز ۔ اس "عظیم خاتون” کی اس بات کا مذاق اڑا یا گیا، آخر بچہ پڑھے گا کہاں، اور کس سے، گاؤں میں نہ کوئی اسکول، نہ مکتب اور نہ کچی مسجد میں متعین امام صاحب!!
جذبہ، خلوص اور لگن ہو تو منزل کے راہیں مل جاتی ہیں، والدہ محترمہ نے گھر والوں کے علی الرغم مجھے آبائی وطن سے تقریباً بیس کلومیٹر دور میری نانی کے پاس اس تاکید کے ساتھ چھوڑ دیا کہ اس کو اسکول بھیجناہے۔ (درخشاں ستارے،ص/11/12)

اس کے بعد جامعہ حسینیہ گریڈیہہ جھارکھنڈ اور مدرسہ اشرف المدارس گلٹی، ضلع بردوان بنگال میں علمی آبشار سے سیراب ہوئے، پھر/1967ء میں جامعہ مظاہر علوم سہار نپور میں شرح جامی کی جماعت میں داخلہ لیا اور امام النحو علامہ صدیق احمد کشمیری رح، مفتی عبدالقیوم صاحب مظاہری، مولانا محمد اللہ صاحب ابن مولانا اسعداللہ صاحب رامپوری علیہ الرحمہ سے استفادہ کیا، پھر اگلے سال/1968 میں دارالعلوم دیوبند کی علمی فضا میں داخل ہوئے، اور 1971 میں دورۂ حدیث کی تکمیل کی ۔
دورہ حدیث کی کتابیں اور آپ کے اساتذہ کی تفصیل حسب ذیل ہے:
بخاری شریف جلد اول مولانا سید فخرالدین مرادآبادی قدس سرہ سے۔
جلد ثانی مفتی محمود الحسن صاحب گنگوہی سے۔مسلم شریف مکمل مولانا شریف الحسن صاحب دیوبندی سے۔ ترمذی شریف مکمل بشمول شمائل ترمذی مولانا فخرالحسن مرادآبادی سے۔ ابوداؤد شریف مکمل مولانا عبدالاحد صاحب دیوبندی سے۔ نسائی شریف حضرت علامہ حسین بہاری سے۔ ابن ماجہ شریف مولانا اسلام الحق اعظمی سے۔ طحاوی شریف مولانا سید انظر شاہ کشمیری سے۔ موطا امام محمد مولانا نعیم احمد صاحب دیوبندی سے۔ موطا امام مالک مولانا نصیر احمد خان بلند شہری سے پڑھی۔ 1972ء/ میں شعبہ عربی ادب میں داخلہ لیا اور مولانا وحید الزماں کیرانوی علیہ الرحمہ سے خوب استفادہ کیا۔
پھر/1973/اور1974 میں حضرت مولانا شکور احمد دیوبندی اور حضرت مولانا اشتیاق احمد صاحب کی نگرانی میں اردو وعربی خوش نویسی وخطاطی میں مہارت پیدا کی، پھر 1975/ء میں دارالعلوم ہی میں مفتی نظام الدین اعظمی ، مفتی محمودالحسن گنگوہی، اور مفتی احمد علی سعید صاحب دیوبندی برداللہ ومضجعہ سے تخصص فی الفقہ کیا۔

شعبہ افتا سے فراغت کے بعد 1976ء۔1396ھ میں دارالعلوم سے پندرہ روزہ عربی رسالے "الداعی” کا اجراہوا، اس کی ادارت مولانا وحید الزماں کیرانوی کے سپرد تھی۔ انھوں نے دو معاون طلب کیے دوسرے معاون کے طورپر آپ کا تقررہوا، پہلے معاون مولانا بدرالحسن صاحب مقیم حال کویت تھے۔ اور یہ ذمہ داری مسلسل چھ برس 1982 تک جاری رہی۔

مولانا مدظلہ لکھتے ہیں:الداعی میں ملازمت کے دوران ہی انگریزی پڑھنے کا شوق ہوا، اور بالآخر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہائی اسکول اور پری یونیورسٹی کے انگلش امتحانات دے کر کامیابی حاصل کی، بی اے کی تعلیم تو مکمل ہوگئی مگر اجلاس صد سالہ دارالعلوم دیوبند میں منعقدہ 1980ء کی مشغولیات کی وجہ سے آخری امتحان میں شرکت نہیں ہوسکی۔ پھر دس سال کے بعد 1990ء- میں آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی تکمیل کی ـ (حوالہ بالا/8)

اکتوبر /1993ء میں امام بخاری کانفرنس تاشقند میں آپ نے "شیخ عبدالفتاح ابو غُدّہ حلبی رحمہ اللہ سے خصوصی اجازت حدیث حاصل کی۔

قضیہ نامرضیہ کے پیش آنے پر دارالعلوم وقف سے منسلک ہوگئے اور شبانہ روز محنت پیہم وجہد مسلسل سے درس وتدریس کے میدان میں خوابیدہ جوہر کو اجاگر کرتے رہے، اس دوران آپ نے ابتدائی سے نہائی تک کی اکثر کتابوں کا خوبصورت طریقے سے درس دیا۔ اور تاہنوز دےرہیں، اس وقت مسلم شریف، المختارات العربیہ، حجتہ اللہ البالغہ آپ کے زیر درس ہیں۔دارالعلوم وقف میں شعبہ ادب عربی آپ ہی کے زیر نگرانی قائم ہوا، جو روز افزوں ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ "حجتہ اللہ البالغہ” آپ نے قاری محمد طیب صاحب علیہ الرحمہ سے خارج میں پڑھی یے، کیونکہ اس وقت یہ دارالعلوم کے نصاب کا باقاعدہ طور پر جز نہیں تھی۔

اس ہیچمدان کو آپ سے مسلم شریف پڑھنے کا موقع میسر ہوا، آپ کا درس لطائف ونکات سے بھرپور، عام فہم ہوتاہے، زبان شیریں سلیس اور شستہ ہوا کرتی ہے، مسلم کی ابتدا سے قبل ہفتہ بھر تدوین حدیث محدثین کی تاریخ امام مسلم کے حالات بڑے ہی بسط وتفصیل کے ساتھ لاجواب انداز میں زبردست بیان کرتے ہیں، اگر کوئی قلمبند کرنا چاہے تو ایک کوچک رسالہ تیار ہوسکتاہے، دوران درس تاریخ کی گہر پاشی، پر کیف اور ظریفانہ جملوں کے ذریعے طلبہ کے ذہن ودماغ میں نشاط وسرور کی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔

مگر افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہاہے کہ گزشتہ تین برس سے آپ کو بولنے، لکھنے کے لیے خود پر زور دینا پڑتاہے، ہوا یوں کہ 30/مئی 2018 کو بلڈ ہریشر زیادہ ہونے کی وجہ سے دماغ کی ایک رگ میں ہلکا سا خون جمع ہوگیا تھا، اور بائیں طرف ابتدائی فالج کا اثر بھی، جس کی وجہ سے چندہ ماہ تک آپ درس وتدریس کی سرگرمی سے دور رہے جب کچھ افاقہ ہوا تو 21/دسمبر 2018 سے دورہ حدیث کے اسباق شروع کرادئے، پھر 16ستمبر/2019 کو اچانک سابقہ مرض عود کرآیا جس سے آنکھوں کی بینائی کا توازن برقرار نہیں رہاتھا، چند دن تک تدریسی سلسلہ موقوف رہاتھا۔۔ 23ستمبر سے آپ دوبارہ درس دینا شروع کردیے ہیں۔ لیکن مکمل رو بصحت نہیں تھے۔

خود لکھتے ہیں:گذشتہ 3 سال سے جس مرض کاشکار ھوں وہ جسمانی اور ذہنی طور پر بھی بیحد پریشانی میں مبتلا ہوں ـ غنیمت ہے، اللہ کا فضل ہے، پڑھ لیتا ہوں ـ موبائل پر مختصر لکھ بھی لیتا ہوں، لیکن آنکھوں کی پریشانی کی وجہ سے لکھنے پر قادر نہیں ـ ورنہ جی تو چاہتا ہے کہ کچھ اپنی یادوں کو قلمبند کروں ـ اللہ صحت و عافیت بخشے تو ضرور کچھ پیش کروں گاـ دعاؤں کی درخواست ہے”۔

مولانا بدرالحسن صاحب قاسمی” علم وکتاب” نامی گروپ میں لکھتے ہیں:
مولانا محمد اسلام قاسمی میرے زمیل ہیں،الداعی کے ادارت کے زمانہ میں ان کی بے مثال خطاطی پر ہی میرا انحصار تھا،اجلاس صدسالہ کے موقع پر جو خصوصی شمارہ ہم نے شائع کیاتھا،وہ آج بھی ایک مرجع کے طور پر مطلوب ہے،امام حرم شیخ محمد السبیل مرحوم نے بارہا اس کی فوٹو کاپی مولانا سعید عنایة الله صاحب كے ذریعہ منگوا ئی،مولانا محمد اسلام قاسمی صاحب کی ترتیب و اخراج کی ماہرانہ فنکاری کی وجہ سے مجھے بڑی تقویت حاصل تھی، مقامی مشاہدات میں وہ میرے ساتھ اور ہم مزاج تھےـ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ان کی صحت بحال ہو جائے اور الداعی کے پانچ چھ سال کے مشاھدات وتجربات وہ لکھیں تو میرا بوجھ ہلکا رہے اورتلخ وشیریں ان کے قلم سے آئےـ
میرے پاس تو باہر ہی کے تجربات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اگر باقاعدہ لکھا جائے تو سنفینہ چاہیے اس بحر بے کراں کے لیےـ اللہ تعالی ان کی صحت بینائی اور قوت اپنے لطف و کر م سے بحال کر دے اور وہ پھر سر گرم ہوجائیں ـ آمین

تصنیف وتالیف: اب تک آپ کے گہربار قلم سے سترہ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ جو آپ کی زود نویسی کی کھلی تصویر ہیں:
(1)ترجمہ مفید الطالبین (2)دارالعلوم کی ایک صدی کا علمی سفرنامہ (3)مقالات حکیم الاسلام رح(4) ضمیمہ المنجد عربی اردو (5)القراءۃ الراشدہ ترجمہ اردو، تین حصے (6)جدید عربی میں خط لکھئے عربی اردو(7)جمع الفضائل شرح اردو شمائل ترمذی(8)ازمۃ الخلیج عربی، (9)خلیجی بحران اور صدام حسین (10) منہاج الابرار شرح اردو مشکوۃ الآثار(11)دارالعلوم دیوبند اور حکیم الاسلام قاری محمد طیب (12) درخشاں ستارے (14)رمضان المبارک فضائل ومسائل(15)زکوۃ وصدقات اہمیت وفوائد (16)دارالعلوم دیوبند اور خانوادہ قاسمی (17)متعلقات قرآن اور تفاسیر۔

مولانا ناب حسن قاسمی آپ کی تحریروں کی شعاع بیزی کے متعلق اپنی کتاب دارالعلوم کا صحافتی منظرنامہ، ص:258 پر رقم طراز ہیں:
مولانا محمد اسلام قاسمی چوں کہ گہرا علم، متوازن فکر اور بیدار شعور رکھتے ہیں، اس لیے ان کی تحریروں میں معلومات کا وفور، افکار وخیالات میں حد درجہ سنجیدگی وتوازن اور حالات ومسائل حاضرہ کا بھرپور تجزیہ پایاجاتاہے اور قلم سے طویل رفاقت رکھنے کی بنا پر الفاظ کا زیاں بھی ان کے یہاں سرے سے دیکھنے کو نہیں ملتا، وہ جچے تلے الفاظ میں جچی تلی رائے پیش کرنے کے عادی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کا قلم الفاظ کی بھول بھلیوں اور تعبیرات کی جگل بندیوں میں قاری کو غلطاں وپیچاں نہیں کرتا، بلکہ ضرورت کے بہ قدر الفاظ اور برمحل ومناسب تعبیرات کے ذریعے اس کے ذہن ودماغ کی آسودگی اور قلب وروح کی آب یاری کا سامان بہم پہونچاتاہے۔ مولانا محمد اسلام قاسمی چوں کہ عربی کے ساتھ اردو ادبیات پر گہری نگاہ رکھتے ہیں، اس لیے ان کی تحریریں سلاست وپُرکاری کا بھی عمدہ نمونہ پیش کرتی ہیں اور انھیں پڑھتے ہوئے قاری کسی قسم کے اٹکاؤ،الجھاؤ اور پیچیدگی کا قطعاً شکار نہیں ہوتا۔

باری تعالیٰ آپ کو تمام شرور وفتن سے محفوظ فرمائے اور مکمل صحتیاب فرمائے۔آمین
گلستاں میں جاکر ہر اک گل کو دیکھ
نہ تیری سی رنگت نہ تیری سی بو ہے