استاذِ محترم حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر کی یاد میں ـ سید محمد زین العابدین

(دوسری قسط)
زمانۂ طالب علمی میں کئی بار حضرت ڈاکٹر صاحب رحمة اللہ علیہ کے مسجد میں ہونے والے بیانات کو ریکارڈ کر کے لکھنے اور پھر مختلف رسائل و جرائد میں شائع کروانے کی بھی سعادت حاصل ہوئی۔ حضرت رحمہ اللہ کے بیانات عام فہم ہوتے تھے، لیکن اس میں علم و ادب کی آمیزش اور اصلاح و تربیت کا رنگ غالب ہوتا تھا، وہ ہر موضوع پر بڑی روانگی سے خطاب فرمالیتے تھے، پھر اخلاص و تقوی اور دینی اعمال کی برکت تھی کہ جو بھی بات کرتے وہ دل میں اترتی چلی جاتی تھی۔
اسی طرح حضرت کی تحریریں بھی بڑی رواں، معاشرتی اصلاح کا عنوان لیے ہوئے سلیس اور علم و ادب سے معمور ہوتیں۔ چناں چہ 2016ء میں ارادہ ہوا کہ اقرا ڈائجسٹ، ماہ نامہ لولاک، ہفت روزہ ختم نبوت اور بینات ودیگر رسائل و جرائد میں جو حضرت ڈاکٹر صاحب کے مختلف مضامین شائع ہوئے ہیں، ان کو جمع کیا جائے، چناں چہ اس ارادہ سے مذکورہ رسائل کی ابتدا سے انتہا تک کی فائلیں کھنگالی گئیں اور حضرت ڈاکٹر صاحب کے مضامین جمع ہوئے، مضامین کو تین حصوں میں تقسیم کیا، شخصیات اور تعزیتی شذرات پر مشتمل مضامین کی ایک کتاب بنام "مشاہدات و تاثرات” مرتب کی، مدارس اور اہل مدارس سے متعلق مضامین کی دوسری کتاب "تحفظ مدارس اور علما و طلبا سے چند باتیں” مرتب کی۔ جب کہ اصلاحی مضامین پر مشتمل کتاب "اصلاحی گزارشات” تیار ہوئی۔ ان تینوں کی کمپوزنگ کا انتظام اپنے ذاتی خرچ سے بندہ نے کیا، پھر خود ہی اس کی پروف خوانی کی، تخریج و حوالہ جات کا اہتمام کیا، اور تینوں کتابوں کا یکجا پرنٹ حضرت کی خدمت میں پیش کردیا، حضرت نے پرنٹ دیکھنے کے بعد حضرت مفتی رفیق احمد صاحب بالاکوٹی کو دیکھنے کے لیے فرمایا، جناب مفتی صاحب نے پرنٹ دیکھ کر مشاہدات و تاثرات کے لیے اپنا مقدمہ لکھ کر دیا اور حضرت ڈاکٹر صاحب نے اپنے لیٹر پیڈ پر تائیدی تقریظ لکھ کر دی۔ تینوں کتابوں کے تیار ہونے پر کوشش ہوئی کہ ادارہ سے ہی تینوں کتابیں شائع ہوں، لیکن جب کوئی صورت نظر نہ آئی تو مکتبة الایمان، اردو بازار کراچی کے مالک جناب محمد عدنان مرزا صاحب سے کتابوں کی اشاعت کی بات کی، وہ بخوشی راضی ہوگئے اور ہر کتاب کے ڈیڑھ سو نسخے انہوں نے مجھے دیے، جن میں سے میں نے پچاس پچاس نسخے ہر کتاب کے حضرت ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں پیش کردیے۔ عدنان مرزا صاحب نے تینوں کتابیں عمدہ طباعت کے ساتھ شائع کی تھیں، اللہ تعالی انہیں جزائے خیر دے۔ جب کہ مفتی خالد محمود صاحب نے بھی مشاہدات و تاثرات پر مفصل مقدمہ لکھا جس میں حضرت ڈاکٹر صاحب کے حالات و سوانح بھر پور انداز میں لکھے۔ چناں چہ حضرت کے انتقال کے بعد حضرت کے حالات پر جو مضمون وائرل ہوا اس میں مفتی خالد محمود صاحب کے اسی مقدمہ ہی سے استفادہ کیا گیا تھا۔
پہلی کتاب مشاہدات و تاثرات جب چھپ کر آئی تو بعض احباب نے ڈاکٹر صاحب کی طرف اس کی نسبت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، حالاں کہ اس میں شامل ہر مضمون کا حوالہ دیا گیا تھا، اور مطلوبہ حوالہ جب متعلقہ رسالہ میں دیکھا جاتا تو بات واضح ہوجاتی کہ وہ مضمون ڈاکٹر صاحب ہی کے نام سے چھپ چکا ہے، اور پھر یہ کہ کتاب چھپنے سے قبل خود حضرت ڈاکٹر صاحب اور مفتی رفیق احمد صاحب مدظلہ دیکھ چکے ہیں اور اس پر اپنی تائیدی تحریر لکھ چکے ہیں، لیکن اس تحقیق کے بغیر ہی باتیں شروع کردی گئیں، خیر جب حقیقت کھلی تو خاموشی چھاگئی۔ مشاہدات و تاثرات کی اشاعت کے بعد حضرت ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضری ہوئی تو کتاب کو حضرت نے سوالیہ انداز میں دیکھا تو کتاب کے بیک ٹائٹل پر موجود حضرت کے لیٹر پیڈ پر حضرت ہی کی تحریر دکھائی تو حضرت کو اطمینان ہوا۔ دوسری کتاب "تحفظ مدارس اور علما و طلبہ سے چند باتیں” جب چھپ کر آئی، تو اس کے نسخے لے کر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا تو بہت خوش ہوئے اور ایک ہزار روپے انعام دیا۔ اس کے بعد تیسری کتاب اصلاحی گزارشات چھپی، اس پر بھی حضرت سے بڑی دعائیں ملیں۔ حضرت ڈاکٹر صاحب کی تحریروں کی عمدگی اور مقبولیت ہی تھی کہ "تحفظ مدارس اور علما و طلبہ سے چند باتیں” پھلت مظفر نگر، انڈیا کے ایک مکتبے مکتبہ شاہ ولی اللہ سے جب کہ "اصلاحی گزارشات” مکتبة النور دیوبند سے شائع ہوئی اور ان دونوں کتابوں کا بھی ایک ایک نسخہ حضرت کی خدمت میں پیش کیا گیا۔
اس کے بعد ناچیز نے "دعوتی خطبات” کے نام سے تبلیغی بزرگوں کے خطبات کا ایک مجموعہ مرتب کیا تھا اس پر بھی حضرت نے بہت اچھی تقریظ رقم فرمائی۔
پھر احقر نے "علمائے بنوری ٹاون کی تصنیفی و تالیفی خدمات” کے عنوان پر کام کیا۔ یہ تقریبا آٹھ صد صفحات کی کتاب تھی، جس میں چالیس سے زائد بنوری ٹاون کے نامور علما کی تصنیفات و تالیفات کا تعارف آگیا تھا۔ اس موضوع پر وطن عزیز میں یہ ایک نیا کام تھا، جسے اللہ تعالی نے کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ (اس طرح کا کام دار العلوم دیوبند اور مظاہر علوم سہارنپور کے حوالہ سے تو ہوا ہے لیکن وطن عزیز میں یہ کام نہیں ہوسکا تھا) کتاب جب تیار ہوگئی تو حضرت ڈاکٹر صاحب ودیگر بڑے اساتذہ کی خدمت میں پیش کی گئی، تقریبا اکثر نے پسندیدگی کا اظہار کیا اور اسے ایک اہم کام قرار دیا، حضرت ڈاکٹر صاحب نے بہت ہی عمدہ ابتدائیہ تحریر فرمایا جو کتاب کی زینت بنا۔ کتاب الحمد للہ المنہل پبلشرز (مکتبة النور)، جمشید روڈ کراچی سے بہترین دو رنگہ طباعت اور عمدہ کاغذ پر شائع ہوئی اور پسند کی گئی۔ (سوائے ایک اپنا سمجھا جانے والے رسالہ کے) ملک بھر کے رسائل و جرائد میں اس پر تبصرے شائع ہوئے، سبھی مبصرین نے کتاب کو پسند کیا، یہاں تک کہ بعض حضرات نے اس کتاب کو دیکھ کر کہا کہ دار العلوم کراچی اور دار العلوم حقانیہ ودیگر اداروں کی بھی تصنیفی خدمات کا اسی طرح تذکرہ مرتب ہونا چاہیے۔ جب کہ بعض احباب نے کہا کہ اس کی دوسری جلد بھی آنی چاہیے۔ لیکن چند ایک حضرات کو کتاب سے تکلیف بھی ہوئی، اور غیر متوقع اس پر غصہ اور خفگی کا اظہار کیا گیا، خیر اللہ تعالی انہیں بھی خوش رکھے۔ کہا جاتا ہے کہ "من صنف فقد استھدف” خیر یہ بات گزرے دور کے لیے تھی کہ کسی کے لکھے پر علمی تنقید کی جاتی تھی، لیکن اب دور بدل گیا ہے اب اس کی جگہ یہ پریشانی ہوتی ہے کہ اس شخص نے یہ کام کیوں کیا؟ اس کی حیثیت کیا ہے؟ گویا کہ مال و دولت اور زمین و جائیداد کی طرح علمی افادات کو بھی وراثت سمجھا جانے لگا۔ خیر بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ کہنا یہ ہے کہ حضرت ڈاکٹر صاحب کے ہاں یہ تنگ نظری نہیں تھی، وہ کھلے دل اور بڑے دل کے آدمی تھے، علمی اور دینی کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور ان سے خوش ہوتے۔ لیکن آج صورت حال یکسر بدل گئی ہے، یس سر (Yes Sir) کرنے والے اور چاپلوسیاں کرنے والے بظاہر کامیاب ہیں، کام کرنے والا اور جی حضوری سے بچنے والا بظاہر ناکام ہے۔ ان حرکتوں نے ہمارے اداروں میں ایک گھٹن کا ماحول پیدا کردیا ہے، کتنے ہی باصلاحیت لوگ ہیں، جن کی صلاحیتوں کو زنگ لگایا جارہا ہے۔ اللہ تعالی حفاظت فرمائے۔
(جاری )