حضرت مدنی علیہ الرحمہ سے متعلق ایک اہم تذکرہ-ابودرداء معوذ

حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب مظاہری علیہ الرحمہ مجلسِ علمیہ حیدر آباد کے ناظمِ اول تھے، حضرت نے ایک مختصر رودادِ زندگی کاروانِ حیات کے عنوان سے تالیف فرمائی تھی۔ حال ہی میں حضرت مولانا مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب مدظلہ نے اس تالیف کے ایک اقتباس کا عکس اپنی فیس بک وال پر نشر کِیا تھا، جس اقتباس میں حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب مظاہری علیہ الرحمہ نے حضرت مدنی علیہ الرحمہ کی ایک مجلس کا ذکر فرمایا ہے۔ اس تذکرے کا ماحصل مؤلف علیہ الرحمہ کے ہی الفاظ میں یوں ہے؛
"اس مجلس میں بعض جمعیتی علماء کانگریس کی بے وفائی، وعدہ خلافی اور بے رخی پر تبصرہ کر رہے تھے۔”


"مولانا مدنی فرمانے لگے کانگریس سے ہم نے عرش مانگا تھا لیکن ہمیں فرش دیا گیا۔”
"اللہ تعالی حضرت تھانوی علیہ الرحمہ کی قبر کو انوارات سے بھر دے، اُن کی آنکھیں چالیس سال پہلے آج کا منظر دیکھ رہی تھیں۔”
اِس روایت سے خاصی شدت کے ساتھ یہ تاثر ابھرتا ہے کہ حضرت مدنی علیہ الرحمہ آزادی اور تقسیمِ ہند کے بعد انڈین نیشنل کانگریس سے نالاں و بے زار ہو گئے تھے۔ یہ تاثر کتنا درست ہے، آئیے اِس کا جائزہ لیتے ہیں۔

27 اکتوبر 1956 کو سورت، گجرات میں جمعیت علمائے ہند کا اُنّیسواں اجلاسِ عام منعقد ہوا، جس میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی علیہ الرحمہ نے خطبۂ صدارت صادر فرمایا تھا۔ چونکہ حضرت مدنی علیہ الرحمہ 5 دسمبر 1957 کو دارِ فانی سے کوچ کر گئے تھے لہٰذا یہ حضرت کا آخری خطبۂ صدارت ثابت ہوا۔ اس خطبے میں آخری بات حضرت نے آنے والے عام انتخابات سے متعلق ارشاد فرمائی جو 1957 میں ہونے والے تھے۔ حضرت نے انتخابات کی اہمیت اور اُس میں حصہ لینے کی ضرورت پر گفتگو کرنے کے بعد سیاسی پارٹیوں کو مخاطَب کرتے ہوئے اوّلاً یہ فرمایا کہ ہر ایک اقلیت کو انتخابات میں مناسب اور متناسب حصے داری دینا سب قوم پرور جماعتوں کا فریضہ ہے، اور انڈین نیشنل کانگریس پر یہ فرض سب سے زیادہ عائد ہوتا ہے۔ پھر فرمایا:
"پنڈت نہرو کی انصاف پسندی، انسانیت نواز ہمدردی اور اُن کے فکرِ دور اندیش سے یہ توقع رکھنا بجا ہے کہ وہ نہ صرف اِس معاملے میں بلکہ تجارت، ملازمت، اقتصادی منصوبوں، ترقی کی اسکیموں غرض ہر شعبے میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہر ایک اقلیت کے متعلق ریاستی حکومتوں کو عملی اقدامات کی جانب زیادہ سے زیادہ توجہ دلائیں۔ اور اسٹیٹ گورنمنٹوں سے بھی یہ توقع رکھنا بے جا نہ ہو گا کہ وہ بھی اپنی اپنی حکومت کے کردار کے لیے پنڈت جی کی شخصیت کو نمونہ بنائیں۔”

حضرت مولانا حسین احمد مدنی علیہ الرحمہ نے آزادی کے بعد بذاتِ خود پارلیمانی و انتخابی سیاست میں حصہ لینا ترک کر دیا تھا۔ جمعیت علمائے ہند کی ایوانی نمائندگی مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی علیہ الرحمہ انجام دیتے تھے جو 1942 سے جمعیت کے جنرل سکریٹری تھے۔ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی آئین ساز اسمبلی کے رکن رہے، 1952 کے انتخابات میں انڈین نیشنل کانگریس کی جانب سے امروہہ حلقے سے ممبر آف پارلیمنٹ (لوک سبھا) منتخب ہوئے۔ 1957 کے لوک سبھا انتخابات جو فروری سے جون تک ہوئے تھے، ان انتخابات میں مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی علیہ الرحمہ دوبارہ انڈین نیشنل کانگریس سے ہی امروہہ حلقے سے لوک سبھا ایم پی منتخب ہوئے۔ 1962 میں طویل سنگین علالت کے بعد اگست 1962 کو انتقال کر گئے تھے اور 62 کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔

یعنی محض یہی نہیں کہ حضرت مدنی علیہ الرحمہ نے اپنے آخری خطبۂ صدارت میں انڈین نیشنل کانگریس کے لیے مثبت رخ ظاہر کِیا، بلکہ حضرت مدنی علیہ الرحمہ جس تنظیم کی صدارت فرما رہے تھے، اُس تنظیم کے ناظم عمومی اور ایوانی نمائندہ نے حضرت کی حیات میں دو مرتبہ انڈین نیشنل کانگریس سے الیکشن لڑ کر پارلیمنٹ کی رکنیت بھی حاصل کی۔ حاصل یہ ہے کہ آخرِ عمر تک حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ کا قول و عمل اِس تاثر کی صریح تردید کرتا ہے کہ حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ کانگریس سے نالاں و بے زار ہو گئے تھے۔

ایک مستقل تفصیلی موضوع یہ ہے کہ آزادی سے قبل جمعیت علماء نے بنیادی کاز کے لیے انڈین نیشنل کانگریس سے اشتراک کِیا تھا اور کسی بھی موقع پر ملک یا ملت کے حقوق کے لیے اس اشتراک کو استحقاق بنا کر پوری قوت کے ساتھ مخالفت کی تھی، نہرو رپورٹ 1928 اس کی بہترین مثال ہے۔ آزادی کے بعد بھی کانگریس کے ساتھ جمعیت کا یہی تعلق رہا، چنانچہ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی علیہ الرحمہ کی پارلیمانی تقاریر اس بات کی بیّن گواہ ہیں، اور پرسنل لا، وقف ایکٹ و کسٹوڈین جائیداد جیسے کئی معاملوں میں مسلم کاز کی کامیابی بھی اس کی دلیل ہے۔ موقع اور ضرورت کے مطابق اِس مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی، سرِ دست مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی علیہ الرحمہ کی وفات پر لال بہادر شاستری کی تقریر سے ایک ٹکڑا پیش ہے، جس سے اُس وقت جمعیت علماء اور کانگریس کے تعلق کی نوعیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ شاستری کہتے ہیں:
"مولانا نے دہلی میں انڈین مسلم کنونشن بلایا، میرا خیال یہ تھا کہ ابھی حالات ایسے نہیں ہیں کہ وہ اِس طرح کا ایک کنونشن بلائیں۔ چنانچہ میری رائے اُن کی رائے سے الگ تھی، اور اکثر ایسا ہوتا کہ میری رائے اُن کی رائے کے مطابق نہ ہوتی۔ لیکن مولانا کی رائے میں ایک وزن ہوتا تھا، ہمیں اُن کی رائے ماننی پڑتی تھی۔ وہ اپنی بات کو بہت صفائی سے جرأت سے دلیلوں کے ساتھ پیش کرنے کے عادی تھے۔ چنانچہ ایک دن رات کو 11 بجے وہ مجھ سے ملنے آئے، ایک گھنٹے تک ہم دونوں باتیں کرتے رہے اور اُنہوں نے اپنے دلائل سے مجھ کو رائے بدلنے پر مجبور کر دیا، میں اُن کی بات سے متفق ہو گیا۔ چنانچہ میں صبح سویرے ہی اٹھ کر سب سے پہلے ملک کے وزیر اعظم صاحب کے پاس گیا اور میں نے اُن کو بتایا کہ رات ایک گھنٹے تک میری مولانا سے بات چیت ہوئی ہے۔ میں نے پنڈت جی کو وہ باتیں سنائیں اور میں نے کہا کہ اب میں اِس حق میں ہوں کہ مسلم کنونشن ہونی چاہیے، چنانچہ پنڈت جی نے بھی اس رائے سے اتفاق کِیا اور وہ کنونشن ہوا۔” (الجمعية مجاہدِ ملت نمبر)
یہاں لال بہادر شاستری جس کنونشن کا ذکر کر رہے ہیں وہ آزادی کے بعد مسلمانانِ ہند کا سب سے منظم اور مؤثر نمائندہ کنونشن تھا جس میں وزیر اعظم و دیگر وزراء سمیت ملک کی چوٹی کی قیادت اور ملک کے چوٹی کے دماغوں کے سامنے مسلم کاز پوری قوت کے ساتھ رکھا گیا تھا، یہ کنونشن 1961 میں منعقد ہوا تھا۔ یہاں کنونشن کی تفصیلات مقصود نہیں بلکہ اُس وقت جمعیت کی قیادت کا کانگریس سے تعلق کی نوعیت بیان کرنا مقصود ہے۔

بعد کے دور کے وقوعات بھی کسی تحریر میں پیش کیے جائیں گے جن میں چار الگ الگ وزرائے اعظم کے خلاف فسادات مخالف قانون، مسلمانوں کو ہر شعبۂ حکومت میں آبادی کے تناسب سے نمائندگی اور آر ایس ایس پر پابندی کے مطالبات کے ساتھ جمعیت علماء نے عوامی تحریکیں چلائی جن میں جیل بھرو آندولن بھی شامل تھا۔ زیرِ نظر تحریر میں صرف عین آزادی کے بعد کے دور کو موضوع بنایا گیا ہے۔

تحقیق و تنقیح کے نقطۂ نظر سے یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ حضرت مدنی علیہ الرحمہ یا جمعیت علمائے ہند تاریخ کے کوئی گمنام یا دور افتادہ کردار نہیں ہیں، اُنہیں سمجھنے اور جاننے کے لیے دستاویزات کے پورے پورے کتب خانے موجود ہیں جو کسی بھی محقق کے لیے کسی شخصی یادداشت سے کہیں زیادہ قابلِ استدلال و استنباط ہونی چاہئیں۔ ہاں اگر مطمحِ نظر ہی کچھ اور ہو تو بات اور ہے، وہ بات صراحت کے ساتھ بیان کر دینی چاہیے تاکہ مکالمہ و مباحثہ بھی وضاحت کے ساتھ ہو سکے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*