حضرت ابو ہریرہ: ایک مظلوم فقیہ ومحدث -یاسر ندیم الواجدی

 

بھارت میں آج کل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر لعن طعن کرنے کے حوالے سے مشہور سلمان حسینی نے اس مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اپنی پہلی ویڈیو میں نہایت واضح انداز میں یہ کہا: "بعد کے جو ملا مولوی ہیں، جو بنی امیہ کے حاضر باش اور ان کے سرکاری مولوی بن گئے یا ان سے دباؤ میں رہے جن میں سب سے بڑے مشہور صحابی ابو ہریرہ، ان کا حال یہ ہے کہ آدھی حدیث انہوں نے گول کردیں”۔ اس بیان کے آنے کے بعد جب ساری دنیا سے سلمان حسینی پر لعن طعن ہوئی تو انہوں نے دوسری ویڈیو جاری کی جس میں وہ یہ کہتے ہوے نظر آئے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ کو سرکاری مولوی نہیں کہا تھا۔ دونوں ویڈیوز سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں اور لوگ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ انہوں نے کیا کہا تھا اور کیا نہیں کہا تھا۔ دوسری ویڈیو سے پہلے انہوں نے ایک تحریری وضاحت نامہ بھی جاری کیا جو "عذر بدتر از گناہ” کے قبیل سے ہے۔ وضاحتی ویڈیو میں وہ اپنے علمی کمالات اور فضائل ذکر کرتے ہوے نظر آئے، لیکن ان کی تحریری وضاحت ان کے تمام دعووں کو مسترد کرتی ہے۔ تحریری وضاحت میں انہوں نے حضرت ابوہریرہ کی تنقیص کو علمائے احناف کی طرف منسوب کردیا، گویا علمائے احناف حضرت ابو ہریرہ کو فقیہ نہ مان کر پہلے سے ہی ان کی توہین کے مرتکب ہیں۔ سلمان حسینی نے حضرت ابوہریرہ کو سرکاری مولوی کا خطاب اس لیے دیا کیونکہ حضرت ابوہریرہ نے بنو امیہ کے تعلق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی حدیثیں بیان نہیں کی تھیں۔ ذیل کی سطور میں انہی دو باتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

 

اپنی تحریری وضاحت میں سلمان حسینی یہ لکھتے ہیں کہ "تمام علمائے احناف اس پر متفق ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فقیہ نہیں تھے”، اپنی بات کو مدلل کرنے کے لیے انہوں نے اصول فقہ کی کتاب اصول الشاشی کا بھی حوالہ دیا۔ حالانکہ علمائے احناف پر یہ ایک بہتان ہے، حنفی دبستان میں یہ کچھ فقہاء کی رائے ضرور ہو سکتی ہے، لیکن اس کو تمام فقہائے حنفیہ کی رائے قرار دینا سراسر غلط ہے، پھر جن فقہاء نے حضرت ابوہریرہ کو فقیہ نہیں مانا، ان کے نزدیک بھی حضرت ابو ہریرہ کی توہین و تنقیص مقصود نہیں تھی۔ اصول الشاشی کی جس عبارت کا انہوں نے حوالہ دیا، اس کے نیچے حاشیے میں یہ نوٹ بھی موجود ہے جس کی بنیاد پر وہ اپنے اس مفروضے سے بچ سکتے تھے، نوٹ کے مطابق: "وهذا ليس ازدراء بأبي هريرة واستخفافا به حاشا وكلا”۔ یعنی حضرت ابوہریرہ کی روایت پر قیاس کو ترجیح دینے کا مقصد حاشا وکلا ان کی توہین و تنقیص کرنا نہیں ہے۔ یہی مبحث اصول فقہ کی دوسری کتاب نور الانوار میں بھی ہے، وہاں بھی متن میں اسی طرح کی عبارت ہے جو اصول الشاشی میں مذکور ہے، لیکن حاشیہ میں علامہ ابن الہمام کے حوالے سے اس کی سختی سے تردید بھی کی گئی ہے اور یہ واضح کردیا گیا ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان کے نزدیک فقیہ تھے۔ لہذا حضرت ابوہریرہ کے فقیہ نہ مانے جانے کو تمام علمائے احناف کا متفقہ فیصلہ قرار دینا اور پھر اس کو حضرت ابوہریرہ کی تنقیص اور توہین مان کر اس کی آڑ میں اپنے قابل مذمت بیان کو چھپالینا ایک عالم دین کے شایان شان نہیں ہوسکتا۔ اگر سلمان حسینی کا مقصد یہ تھا کہ حضرت ابو ہریرہ حضرت معاویہ کے کیمپ کے تھے، اس لیے احناف نے ان کو فقیہ نہیں مانا، جس کی بنا پر ناصبیوں نے ان کی سخت تردید کی اور انھیں مرجئہ کہا تو یہ بھی غلط ثابت ہوچکا ہے۔ احناف کے اوپر مرجئہ ہونے کا الزام کیوں لگا، اس کے لیے سلمان حسینی کو اپنے استاذ شیخ عبد الفتاح ابو غدہ کی مولانا ظفر احمد عثمانی کی کتاب قواعد فی علوم الحدیث پر لکھے حواشی پڑھنے چاہییں۔

 

سلمان حسینی نے ویڈیو میں اپنے علمی کمالات بتاتے ہوئے اپنے شیخ عبدالفتاح ابوغدہ کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ کیسی شاگردی ہے کہ اپنے استاذ کی تحقیقات سے واقفیت نہ ہو؟ مولانا عبد الحی لکھنوی کی کتاب ظفرالامانی پر شیخ عبدالفتاح ابوغدہ کا کام موجود ہے۔ مولانا عبد الحی لکھنوی نے فتوی دینے والے صحابہ کی فہرست میں حضرت ابوبکر حضرت عثمان اور حضرت ابو موسی اشعری وغیرہ کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ کا نام ذکر کیا ہے، نیز یہ بھی وضاحت کردی ہے کہ بعض حنفی اصول کی کتابوں میں جو یہ لکھا ہے کہ ابو ہریرہ فقیہ نہیں تھے یہ بات غلط ہے۔ حضرت ابو ہریرہ تو دور نبوی میں فتوی دیا کرتے تھے اور اس دور میں فقیہ ہی فتوی دیا کرتا تھا۔ (ظفر الامانی 543)

 

حقیقت یہ ہے کہ صحابی کا قول خواہ قیاس کے مطابق ہو یا اس کے خلاف اکثر حنفی فقہاء کے نزدیک حجت ہے۔ امام ابو حنیفہ، جصاص، قدوری، بزدوی، صدر الشریعہ، ابن الہمام اور اکثر متاخرین کا یہی قول ہے اور یہی قابل اعتماد بھی ہے۔ (دراسات فی اصول الحدیث 451)

 

البتہ امام ابو حنیفہ سے پہلے ان کے استاذ الاستاذ ابراہیم نخعی کا قول ملتا ہے کہ "ہمارے مشائخ احکام میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات نہیں لیتے تھے”۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فقہ میں دبستان عراق حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت علی کی روایات اور فتاویٰ پر موقوف ہے، بالکل ایسے ہی جیسے امام مالک حضرت عبداللہ بن عمر کی روایات کو مقدم رکھتے ہیں، لیکن اگر کسی مسئلے میں صرف حضرت ابو ہریرہ کی حدیث ہو بلکہ خود ان کا عمل بھی ہو، تو بھی حنفیہ کے یہاں وہ قیاس سے مقدم ہے۔ مثلا کتا اگر برتن میں منہ ڈال دے تو اس برتن کی پاکی کے تعلق سے حضرت ابوہریرہ کی یہ روایت ملتی ہے کہ اس کو سات مرتبہ دھویا جائے، لیکن حضرت ابو ہریرہ کا فتوی یہ ہے کہ اس کو تین مرتبہ دھویا جا سکتا ہے، احناف نے اس مسئلے میں حضرت ابوہریرہ کے فتوے پر عمل کیا ہے۔

 

ان تفصیلات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سلمان حسینی نے اپنی تحریری وضاحت میں جو بات لکھی ہے وہ حقیقت کے خلاف ہے۔ اب آئیے اس روایت کی طرف جس کی بنیاد پر انھوں نے یہ سارا فساد کھڑا کیا ہے۔

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو تھیلے بھر احادیث لی تھیں، ایک تھیلا میں پھیلا چکا ہوں، دوسرا اگر پھیلا دوں تو یہ گردن کاٹ دی جائے۔ (بخاری: رقم 120) اس روایت کے ساتھ فتح الباری میں مذکور ایک روایت بھی جوڑ دی جاتی ہے کہ: "أعوذ بالله من رأس الستين، وإمارة الصبيان، یعنی سن ساٹھ کے آغاز اور بچوں کی حکمرانی سے میں پناہ مانگتا ہوں۔ سنہ ساٹھ میں یزید کی امارت کی ابتدا ہے اور سنہ 59 میں حضرت ابوہریرہ وفات پا گئے۔ (فتح الباری 1/216)۔ ان دونوں روایتوں کو پیش کرنے کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی تحقیر کی جائے، اگر مقصد یزید کی مذمت ہوتا تو ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن سلمان حسینی اپنی ویڈیو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ آل حسن شرمندہ ہوں گے اگر وہ یزید یا اس شخص کی طرف ادنیٰ جھکاؤ رکھیں گے "جس کے نطفے” سے یزید پیدا ہوا ہے۔ لوگ خود فیصلہ کرسکتے ہیں کہ یہ زبان عالمانہ ہے یا متعصبانہ۔ کیونکہ سلمان حسینی کا مقصد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی توہین ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان روایات کی تحقیق کی جائے۔

 

فتح الباری میں موجود رأس الستین والی روایت ان الفاظ کے ساتھ طبرانی نے المعجم الاوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، البتہ رأس السبعین (سنہ ستر کا آغاز) کے الفاظ کو ابن ابی شیبہ، احمد اور بزار نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں ابو صالح راوی مجہول ہیں۔ الادب المفرد میں صحیح سند کے ساتھ یہ الفاظ ہیں: أبو هريرة يتعوذ من إمارة الصبيان والسفهاء. (الادب المفرد، رقم 66) اس روایت میں نہ رأس الستین کے الفاظ ہیں اور نہ رأس السبعین کے۔ مصنف ابن ابی شیبہ کے حاشیے میں مشہور محدث شیخ محمد عوامہ لکھتے ہیں کہ: سنہ 70 ہجری کے آس پاس رونما ہونے والے افسوس ناک واقعات کی جانب اس حدیث میں اشارہ ملتا ہے، جن میں عبداللہ بن زبیر اور حجاج بن یوسف کا واقعہ شامل ہے جس میں حضرت عبداللہ بن زبیر کو شہادت حاصل ہوئی۔ (حدیث رقم 38390)

 

دونوں طرح کی روایات کو اگر درست بھی مان لیا جائے تو بھی ان کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے تعلق نہیں بنتا۔ بلکہ ان روایات میں حضرت ابوہریرہ قریش کے نوجوانوں کی امارت اور اس کے نتیجے میں ہونے والی امت کی ہلاکت سے پناہ مانگ رہے ہیں۔ اس کی تائید بخاری کی ہی روایت سے ہوتی ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ میری امت کی ہلاکت قریش کے چند نوجوانوں کے ہاتھ ہوگی، مروان نے یہ روایت سن کر کہا کہ اللہ کی لعنت ہو ان نوجوانوں پر، جواب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں چاہوں تو میں بتلا سکتا ہوں کہ وہ بنی فلان اور بنی فلان ہیں۔

 

اس حدیث سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو حضرت معاویہ یا ان کے گورنر مروان سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ مروان نے تو قریش کے ان نوجوانوں پر خود ہی لعن طعن شروع کردی تھی، دوسری بات یہ ہے کہ اگر حدیث میں موجود بنی فلان سے بنو امیہ مراد ہیں تو لامحالہ دوسرے بنی فلان سے بنو ہاشم مراد ہوے، بنو ہاشم اگرچہ برحق تھے، لیکن خون تو امت کا بہا۔ اسی خون خرابے سے بچتے ہوئے اس سے پہلے حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ سے صلح کی تھی۔ لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مقصد امت کی ہلاکت کی خبر دینا ہے، کسی قبیلے کی مذمت کرنا نہیں ہے۔ چنانچہ رأس الستین یا رأس السبعین والی روایات کو بھی اسی پر محمول کیا جائے گا، ان سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مذمت کا پہلو ڈھونڈنا روافض کا قدیم طریقہ رہا ہے۔

 

رہی یہ بات کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فتنوں کے تعلق سے کچھ روایات بیان نہیں فرمائیں، تو اس کی ایک وجہ ابن کثیر نے بیان کی ہے، وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فتن اور ملاحم سے متعلق تمام روایات بیان کر دیتے، تو ہو سکتا تھا کہ بہت سے لوگ ان روایات کو نہ مانتے اور احکام کے حوالے سے ذکر کردہ ان کی روایات کو بھی مسترد کر دیا جاتا۔ (البدایہ والنہایہ 8/106)

 

اگر فرض کرلیا جائے کہ ان احادیث میں ایک احتمال کے مطابق بنو امیہ کے کچھ فسادی عناصر کے نام تھے، تو وہ فسادی لوگ حضرت ابوہریرہ کی جان کے پیچھے بھی پڑ سکتے تھے۔ فسادی لوگوں نے حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم جیسے حضرات کو امیرالمومنین رہتے ہوئے نہیں چھوڑا، بلکہ ناصبیوں نے تو حضرت عثمان کی شہادت کا الزام حضرت عمار اور ان کے واسطے سے حضرت علی پر لگانے کی کوشش کی ہے، کیوں کہ حضرت عمار مصری ٹولہ کو جب سمجھانے کے لیے مصر پہنچے، تو تاریخی روایات کے مطابق ان لوگوں کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر وہیں رک گئے تھے، وہ حضرت عثمان غنی سے ناخوش تھے۔ یہ مصری سبائی ٹولہ ہی تھا جس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا، یقینا حضرت عمار اور حضرت علی، امیر المومنین حضرت عثمان کی شہادت سے مکمل بری ہیں۔ لہذا حضرت ابوہریرہ کی زیر بحث روایت کے مطابق یہ امکان کیوں نہیں ہے کہ اگر حضرت ابو ہریرہ وہ احادیث بیان کردیتے، تو حضرت معاویہ ان روایات کی روشنی میں حکومتی امور میں دخیل ان عناصر کو باہر کا راستہ دکھا دیتے اور پھر وہ فسادی طبقہ حضرت ابو ہریرہ کو فتن سے متعلق روایات بیان کرنے کے نتیجے میں شہید کردیتا۔ اس امکان کے بجائے دوسرے امکان کو اختیار کرنا اور یہ نتیجہ نکالنا کہ یہ کارروائی حضرت معاویہ یا مروان کے حکم پر ہوتی، سراسر غلط اور رافضی پروپیگنڈہ ہے اور اسی ناصبی پروپیگنڈے جیسا ہے جس کے مطابق حضرت علی اور حضرت عمار کو حضرت عثمان کے خلاف سازش میں شریک مانا جاتا ہے۔ کامن سینس کی بات ہے کہ جب حضرت ابو ہریرہ نے وہ روایات بیان ہی نہیں کیں تو آج ان کے اس عمل سے جو بھی نتیجہ نکلے وہ محض امکان ہی ہوگا، تو ایسے امکان کو کس مقصد سے ترجیح دی جاتی ہے جس سے حضرت معاویہ کی تنقیص لازم آتی ہو؟

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہ مظلوم شخصیت ہیں، جن پر ان کے بعض مخالفین نے یہ الزام لگایا کہ وہ اتنی کثرت سے روایات کیسے بیان کرتے ہیں۔ حضرت عمر ابن الخطاب کی طرف یہ جھوٹ منسوب کردیا گیا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ کو کذاب کہا ہے۔ مستشرقین نے یہ الزام لگایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جھوٹی احادیث بیان کرتے تھے اور اب ان پر احادیث کو غلط نیت سے چھپانے کا الزام لگا کر انہیں سرکاری مولوی قرار دے دیا گیا۔

 

لہذا سلمان حسینی اگر تاریخی روایات بیان کرنے کا شوق رکھتے ہیں، تو تمام تاریخی روایات کو ان کے سیاق و سباق کے ساتھ بیان کریں، لیکن بہتر یہ ہے کہ وہ اس مشغلہ سے باز آجائیں، اگر ان کو لگتا ہے کہ وہ اس مسئلے میں حق بجانب ہیں، تو وہ اپنا نقطہ نظر اپنی کتابوں میں ذکر کر چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس موضوع کو چھیڑنے سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے بغض میں اصافہ تو ہوہی رہا ہے، ان کی یوٹیوب ویڈیو پر موجود ایک کمنٹ کے وائرل اسکرین شاٹ کے مطابق (مجھے اس کمنٹ کی حقیقت کا علم نہیں ہے، سنا ہے کہ اس کو ڈیلیٹ کردیا گیا ہے) ایک شخص ان کی تقریر کو بنیاد بنا کر مرتد بھی ہوا ہے، کمنٹ کرنے والا اگر سلمان حسینی کو بدنام کرنا چاہتا تھا تب بھی کفر کا مرتکب ہوا اور اگر کمنٹ حقیقی ہے تو اس کے ارتداد میں کوئی شک ہی نہیں۔ لہذا اگر وہ اس طرح کی گمراہیوں کا سبب بنتے ہیں تو یہ انھی کے لیے نقصان دہ ہے۔ نیز اگر وہ ہندوؤں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے رام کی تعریف کرسکتے ہیں، تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اہلسنت والجماعت کے جذبات جس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے وابستہ ہیں اسی طرح حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے بھی وابستہ ہیں۔ یہ دہرا معیار کیسا کہ غیر مسلموں کے جذبات کی قدر ہو لیکن مسلمانوں کے جذبات کی کوئی قدر نہ ہو؟

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*