ہاۓ اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا-صفدرامام قادری

۶؍دسمبر۱۹۹۲ء کو بابری مسجد شہید کر دی گئی۔ اس کی زمین کے مالکانہ حق کے سلسلے سے انگریزوں کے زمانے سے مقدمات چل رہے تھے۔ مقامی اور قومی سطح کی تحریکیں پیدا ہوتی رہیں اور ابھی پچھلے برس سپریم کورٹ نے اپنا آخری فیصلہ سُناتے ہوئے اس اراضی کو رام للّا کی جاے پیدایش تسلیم کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ چیف جسٹس کو سبک دوشی کے فوراً بعد پارلیمنٹ کی رُکنیت سے نوازا گیا۔ دانش وروں اور ماہرینِ قانون نے حکومت ، عدالت اور پارلیمنٹ رُکنیت سے لے کر بابری مسجد کے سلسلے سے کیے گئے فیصلے میں کوئی اشتراک کا پہلوٗملاحظہ کیا۔ اب نہ بابری مسجد بچی تھی کہ کوئی اضافی پیش رفت ہوتی اور اب توپانچ اگست کو اس مقام پر وزیرِ اعظمِ ہند ایک عظیم الشّان رام مندر کی بنیاد رکھ دیں گے۔ اس کے بعد تاریخ میں نہ جانے کتنے واقعات اور قصّے ہمیشہ کے لیے معدوٗ م ہو جائیں گے۔
کئی مصنّفین نے بابری مسجد کے سلسلے سے مقدّمات اور محکمۂ آثارِ قدیمہ کی کھُدائی کے سلسلے سے مکمّل کتابیں لکھی ہیں۔ چندر شیکھر جب وزیرِ اعظم تھے، اس وقت دونوں فریقین کے ماہرین کو جمع کر کے علمی اعتبار سے بحث و مباحثہ کے لیے مواقع پیدا کیے گئے تھے۔ اس زمانے میں لاکھوں صفحات کے دستاویزات سپرد ہوئے تھے مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ابھی سپریم کورٹ کے آخری فیصلے کے بعد کھدائی میں بودھ آثار ملنے کے بعد بعض حلقوں سے آوازیں اٹھیں مگر کون سنتا ہے فغانِ درویش!
بابری مسجد انہدام کے بعد بہت طرح کے مقدّمے ہوئے۔ جانچ کمیشن بنائے گئے۔ لبر اہن کمیشن کو یہ ذمّے داری دی گئی کہ وہ اس سازش کا پتا لگائے کہ کس طرح مرکز اور صوبائی حکومت اور سپریم کورٹ کی آنکھ میں دھوٗل جھونک کر ۶؍ دسمبر کو بابری مسجد یا قانون کی نظر میں متنازعہ ڈھانچہ گرا دیا گیا۔ اس جانچ کمیشن کی میعاد میں اتنی بار توسیع کی گئی جسے اب گِننا بھی مشکل معلوم ہوتاہے۔ مرکز میں حکومتیں بھی بدلتی رہیں اور ہائی کورٹ ، سپریم کورٹ جانچ کمیشن اور سی ۔ بی ۔آئی ۔عدالت میں گھومتے پھرتے پچھلے سال سپریم کورٹ نے فریقین کی پنچایت مکمّل کر دی۔ بابری مسجد کمیٹی کو بھی پانچ ایکڑ زمین دینے کافیصلہ ہوا اور اس خاص جگہ کو رام جنم بھوٗمی قرار دیتے ہوئے رام للّا کو مالکانہ حق دے دیا گیا۔ توقّع یہی تھی کہ اب یہ سارے معاملات ختم ہو جائیں گے مگر اب ایسا نظرنہیں آتا۔
یہ سب کو معلوم تھا کہ سی۔ بی۔ آئی۔ میں یہ مقدّمہ موجود ہے اور تقریباً اُنچاس(۴۹) افراد پر فردِ جرم عائد ہے۔ اس کے علاوہ بھی چھوٹی بڑی عدالتوں میں بہت سارے مقدّمات ہیں جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی ، بجرنگ دل، شِیو سینا اور مختلف ہندوتو وادی تنظیموں کے افراد ملزم بنائے گئے ہیں۔ پورے ملک میں اور ساری دنیا میں کورونا کی وبا زور وں پرہے مگر سپریم کورٹ نے سی۔ بی۔آئی۔ کو یہ حکم دے رکھا ہے کہ ۳۱؍ اگست سے پہلے اس مقدّمے کی سماعت مکمّل کر لیں۔ مطلب واضح ہے کہ اس کا نپٹارہ ہو جائے گا اور زیادہ توقّع ہے کہ اپنی صفائی کے بعد ملزمین بری کر دیے جائیں گے اور بے داغ ہی نہیں بلکہ رام جنم بھوٗمی تحریک کے حقیقی مجاہدکے طَور پر اپنی خدمات کو ثابت کر سکیں گے۔ فیصلے سے پہلے کچھ کہنا مشکل ہے مگر آثار ہمیں اسی طور پر متوجّہ کر رہے ہیں۔
لبر اہن کمیشن کے سامنے لال کرشن اڈوانی نے اپنے بیان میں اس سے کچھ مختلف باتیں کہی تھیں۔ اس دوران لال کرشن اڈوانی کی عمر بھی بڑھی اور ان کا حافظہ بھی کچھ کمزور ہواہوگا ۔ مذکورہ جانچ کمیشن میں اڈوانی جی نے مکمّل معصومیت کے ساتھ یہ بات کہی تھی کہ ایودھیا میں بھیڑ کو وہ ڈھانچے سے دوٗر رہنے اور اُسے نقصان نہیں پہنچانے کی ہدایت کر رہے تھے مگر انھیں اس بات کا افسوس ہے تھا کہ لوگوں نے ان کی بات نہیں مانی اور متنازعہ ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔ اس روز اڈوانی جی کے بیان پر اپنے تاثّرات کا اظہار کرتے ہوئے انگریزی صحافی اندر ملہوترا نے بی بی سی لندن کے نامہ نگار کو غالب کا وہ شعر سنا یا جس سے آج کے مضمون کا عنوان بنایا گیا ہے:
کی مِرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ
ہاے اُس زوٗد پشیماں کا پشیماں ہونا
خبر نشر کرنے کے دوران سنّاٹا چھا گیا تھا اور غالب کا شعر اپنی سفّاک سیاسی تفہیم سے حیرت انگیزمعنوی منظر نامہ تیّار کر رہا تھا۔
اب بیس برس کے بعد لال کرشن اڈوانی نے صرف اپنی بے گناہی کی دلیل نہیں دی، انھوں نے صاف صاف یہ بات کہی کہ اُس زمانے میں مرکز میں بر سرِ اقتدار حکومت نے سازش کرکے انھیں اس مقدّمے میں شریک کیا اور یہ سیاسی بدنیتی کا نتیجہ ہے ۔ کیوں کہ ڈھانچے کو گِرانے سے ان کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔ لال کرشن اڈوانی سے پہلے ڈاکٹر مُرلی منوہر جوشی کی بھی ویڈیوکانفرنسنگ کے ذریعہ پیشی ہوئی تھی۔ انھوں نے بھی اُس زمانے کی مرکزی حکومت کو سازش کرنے والا قرار دیااور اپنے بارے میں یہ بھی کہا کہ اس موقعے سے تو وہ وہاں موجود ہی نہیں تھے۔ اخبار و رسائل میں وہ تصویر سب نے دیکھی تھی جب بابری مسجد کے انہدام کے بعد جوشی جی نے سادھوی اوٗما بھارتی کو اپنی گود میں اُٹھا لیا تھا مگر اوٗما بھارتی نے بھی اپنے بیان میں یہی کہا کہ اُس ڈھانچے کے گرانے میں وہ ہرگز ہرگز شریک نہیں تھیں اور مرکزی حکومت نے انھیں سیاسی سازش کے تحت مقدّمے کا حصّہ بنایا۔ اس موقعے سے بشیر بدر کا ایک پُرانا شعریاد آتا ہیـ:
اخبار میں تو ایسی کوئی خبر نہیں تھی
جھُلسے مکان جھوٹے افسانے کہہ رہے تھے
لال کرشن اڈوانی، مُرلی منوہر جوشی اور اوٗما بھارتی یا کلیان سنگھ بابری مسجد انہدام میں جب شریک نہیں تھے تو کیا وہ ڈھانچہ اپنے آپ گِر گیا۔ اس وقت اُتّر پردیش کے وزیرِ اعلا کلیان سنگھ نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کرتے ہوئے یہ وعدہ کیا تھا کہ کار سیوکوں کی بھیڑ سے اُس ڈھانچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ کارسیوک چوں کہ مذہبی رسوم کے لیے یک جا ہو رہے ہیں، اس لیے کوئی پریشانی کی بات نہیںہے۔ بارہ بج کر چالیس منٹ سے لاکھوں کی بھیڑ میں تربیت یافتہ کارسیوکوں نے معقول اوزار کا استعمال کرکے ڈھانچے کو گِرانا شروع کیا۔لال کرشن اڈوانی ، مُرلی منوہر جوشی ، اوٗما بھارتی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سارے بڑے تحریک کار اپنے کار سیوکوں کی بہ راہِ راست اور بلا واسطہ حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ لکھنؤ میں کلیان سنگھ سب طرح سے اپنی نگرانی میں اس انہدام کو یقینی بنانے میں لگے رہے۔ صحافیوں کو ماراپیٹا گیا۔ خواتین نامہ نگاروں کے ساتھ تواور بھی سلوکِ ناروا ہوا۔ بین الاقوامی اخبار نویسوں کی جان پر بن آئی۔ جب ڈھانچہ زمیں دوز ہو گیا اور ایک عارضی مندر کی تعمیر مکمّل ہو گئی، اس وقت کلیان سنگھ نے استعفیٰ پیش کیا اور مرکز کی نرسمھّا راو کی حکومت نے انھیں برخاست کیا۔
واقعات اسی قدر ہیں، باقی افسانہ طرازی ہے۔ ابھی لکھنؤ، الٰہ آباد، ایودھیا اور دلّی کے تار ملے ہوئے ہیں۔ ناگ پور، احمد آباد، بھوپال بھی سب ایک بنے ہوئے ہیں۔ اس سے بہتر کوئی موقع نہیں ہو سکتا تھا کہ بابری مسجد مقدّمے کے معاملات ہر طرح سے حل کر لیے جائیں۔ کیوں کہ کون شخص اس کا داغ لے کر جیے۔ پندرہ سے زیادہ ملزمین یوں بھی اس دنیا سے گُزر چکے ہیں۔ اس دوران پانچ برس نرسمھّا راو اور دس برس من موہن سنگھ مرکز میں قیادت سنبھالتے رہے۔ ظاہر ہے کہ ان کا نقطۂ نظر یہی تھا کہ اپنی رفتار سے یہ سلسلہ چلتا رہے ورنہ وہ بھی چاہتے تو ہر عدالت اور مقدّمے کی سماعت میں تیزی آجاتی اور ایک معیّن مدّت میں سارے فیصلے آجاتے۔ عین ممکن ہے کہ موجودہ حکومت سے پہلے کے دور میں زیادہ نابستہ اور بہتر فیصلے سامنے آتے مگر دنیا کو معلوم ہے کہ الگ الگ اوقات میں کانگریس حکومتوں نے اس مسئلے کو اُلجھایا یا اپنے مذہبی اشارے فراہم کرکے یہ ثابت کیا کہ یہ رام للّا کی جگہ ہے اور مندر یا پوٗجا کے لیے مقام یہی متعیّن ہوگا۔ انگریزوں کے زمانے میں بھی یہ ہو ہی چکا تھا۔ کہنا چاہیے کہ اس ڈھانچے کے اندر سینکڑوں برس کی سازش سے مندر کا قیام اور پوٗجا پاٹھ کا سلسلہ جاری و ساری تھا۔
اب اگر سی۔ بی۔آئی۔ کے سامنے اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی بابری مسجد انہدام میں کانگریس کی سازش اور ان سب پر مقدّمات میں کانگریس کی بداندیشی کی بات کر رہے ہیں تو غالباً یہ اچھّا موقع ہوگا کہ سی۔ بی ۔آئی۔ کو ذرا اس رُخ سے بھی چیزوں کو دیکھ لینا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ بابری مسجد کے حوالے سے کانگریس کی طرف سے کردار ادا کرنے والے افراد میں اکثر اس دنیا سے رخصت ہو چکے مگر اس سے مقدّمے کے فیصلے کا کوئی قانونی تعلّق نہیں ہے مگر اس بات کی جانچ ہو جانے میں کوئی بُرائی نہیں ہے کہ اس انہدام ، اس سے پہلے اور بعد میں کانگریس نے کب کب اور کس قدر اس مسئلے کو الجھایا اور ملک میں وہ صورتِحال پید اکی کہ بابری مسجد گرا دی جائے۔
۱۹۸۴ سے ۱۹۸۶ کے دوران لال کرشن اڈوانی کی قیادت میں رام جنم بھوٗمی تحریک شباب پر تھی اور کانگریس کو بھی دوتہائی اکثریت حاصل ہوئی ۔ جب پہلی بار بھارتیہ جنتا پارٹی نے یہ نعرہ بنایا: ’مندر وہیں بنائیں گے۔‘ کانگریس کا ذہن صاف ہو تا تو اس نعرے کے غیرجمہوری رویّے اور غیر قانونی لہجے کو پہچان کر سخت تادیبی کارروائی کرنی تھی مگر کانگریس کے اندر ہی آر۔ایس۔ایس۔ کے تربیت یافتہ ہر دور میں پہلی صف میں موجود رہے ہیں، پرنَب مُکھرجی تو صدارتی میعاد پوری کرکے ر آخری تربیت حاصل کرنے ناگ پور پہنچ گئے تھے۔ گاندھی مرنے سے پہلے کانگریس کی اندروٗنی فرقہ پرستی پر بار بار اشارے کرتے تھے اور ارادہ کرکے کانگریس میں اقلیت آبادی کی بڑے پیمانے میں شمولیت کے طرف دار تھے۔ گاندھی کو بھی اسی جُرم کی سزا میںاپنی شہادت دینی پڑی مگر کانگریس کا داخلی مزاج کم و بیش وہی رہ گیا ۔ اب سی بی آئی کورٹ فیصلہ کرتے ہوئے درجنوں ملزمین کے بیانات کی روشنی میں اصل ملزمین کو بھلے چھوڑ دے مگر ان کے الزامات کے مطابق کانگریس کی مرکزی حکومت کے کردار کو آئینہ دکھادے تو ہندستانی سیاست کا ایک نیا باب شروع ہو گا۔ ممکن ہے اس سے عوام کی آنکھ بھی کھُلے اور کچھ نئے راستے ہی پیدا ہوں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)