ہاتھرس کیس میں ملیشیا کے بعد میانمارکنکشن کاسراغ لگارہی ہے ای ڈی

لکھنؤ:ہاتھرس واقعے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ملیشیا کے نسلی تنازعہ کو بھڑکانے کے سلسلے کی تحقیقات کے بعد اب میانمار کا حوالہ کاروبار بھی ای ڈی کے رڈار پر آگیا ہے۔ لکھنؤ اور مغل سرائے سے ڈی آر آئی کی گرفتاریوں کے بعدمیانمار سے سونے کی اسمگلنگ کا حوالہ کاروبار اور لکھنؤ سے کروڑوں کی نقد رقم کی وصولی کے بعد ای ڈی نے اس پہلو کی بھی چھان بین شروع کردی ہے۔ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹلیجنس یعنی ڈی آر آئی نے سلطان پور کے دو کاروباریوں کو 2 دن قبل پنڈت دین دیال اپادھیائے ریلوے اسٹیشن سے 1.5 کروڑ کی سونے کی اینٹوں کے ساتھ گرفتار کیا تھا۔ جب ان سے پوچھ گچھ کی گئی تو پتہ چلا کہ سونے کی اسمگلنگ کا میانمار کنکشن ہے اور لکھنؤ میں اس پوری اسمگلنگ کا ماسٹر مائنڈ ٹریول ایجنسی کا آپریٹر ہے۔ تفتیش کے بعد ڈی آر آئی کی ٹیم نے لکھنؤ اور پٹنہ میں چھاپے مارے۔ یہ حوالہ کاروبار لکھنؤ کے علاقے حسین گنج چوراہے پر واقع دلکش پلازہ کے ٹریول ایجنسی الطارق کی آڑ میں ہوا تھا۔ ڈی آر آئی نے ٹریول ایجنسی کے ڈائریکٹر راجیش نامی شخص کے خرم نگر میں واقع فلیٹ پر چھاپہ مارا۔ فلیٹ سے 1.01 کروڑ کیش اور 5.50 لاکھ غیر ملکی کرنسی برآمد ہوئی۔ برآمد شدہ غیر ملکی کرنسی کی ایک بڑی رقم ریال اور درہم کی تھی۔انکوائری میں انکشاف ہوا ہے کہ میانمار سے سونے کی اسمگلنگ کی رقم کولکاتہ کے حوالہ کے ذریعے پہنچا دی گئی تھی۔ کولکاتہ میں رقم کی فراہمی کے بعد سونا پٹنہ یا کسی اور جگہ پٹنہ کے راستے پہنچایا جاتا تھا۔ حوالہ کے کاروبار میں 10، 20 اور 50 کے نوٹ بہت اہمیت کے حامل تھے۔ ایک حوالہ کے تاجر سے دوسرے حوالہ کے تاجر کو واٹس ایپ کے ذریعے 10، 20 اور 50 کے نوٹ بھیجے گئے تھے اور جب وہی نوٹ لے کر حوالہ کے تاجر کے حوالے کیا جائے گا تو نمبر ملنے پر نقد اور سونے کی فراہمی ہوگی۔ای ڈی نے بھی ڈی آر آئی کی اس کارروائی پر تفتیش شروع کردی ہے۔ در اصل ای ڈی پہلے ہی ہاتھرس اسکینڈل میں تشدد پھیلانے کے لئے خلیجی ممالک سے ملائیشیا سے سے ملنے والی رقم کی تحقیقات کر رہا تھا اور اب لکھنؤ سے کروڑوں کے سونے کی اسمگلنگ کا انکشاف ہواہے، ای ڈی نے نقد رقم برآمد کرلی اور اب ای ڈی محتاط ہوگئی ہے اور اس نے ہاتھرس واقعے میں ملائیشیا کے ساتھ ساتھ میانمار کے کنکشن کی بھی تحقیق شروع کردی ہے۔