ہاتھرس سانحہ:متاثرہ کے گاؤں سے پانچ سو میٹر کی مسافت پر ٹھاکروں کا احتجاج،عصمت دری کے ملزمین کے لیے انصاف کا مطالبہ

ہاتھرس:ہاتھرس کے اس گاؤں سے محض پانچ سو میٹر کی دوری پر جہاں ایک دلت لڑکی کی چار اونچی برادری کے لڑکوں نے مل کر عصمت دری کی تھی،جمعہ کے دن ٹھاکر برادری کے سیکڑوں لوگ اکٹھا ہوئے اور انھوں نے عصمت دری کے ملزمین کے حق میں مظاہرہ کیا اور ان کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔ انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق صبح دس بجے سے ہی یہ لوگ دھرنے پر بیٹھ گئے،انھوں نے ملزمین کی گرفتاری اور کیس کی تفتیش کے تئیں اپنی تشویش کا بھی اظہار کیا۔ مظاہرے میں شریک ایک شخص اوجویر سنگھ رانا کا کہنا تھا کہ’’ہم ڈی ایم کے امتناعی حکم کا احترام کرتے ہیں مگر ہم نے یہ دھرنا اس لیے کیا ہے کہ ہم ناانصافی کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔ اس ایک واقعے کی وجہ سے ہماری برادری کی شبیہ خراب کی جارہی ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کے پاس ملزمین کے خلاف کافی ثبوت نہیں ہیں۔ اگر وہ مجرم ہیں تو انھیں سزا دیجیے،مگر وہ مجرم نہیں ہیں،انھیں رہا کیا جائے‘‘۔ ایک دوسرے مقامی باشندے گوند شرما کا کہنا تھا کہ’’میرے ایک دوست نے کہا کہ اس معاملے پر بات چیت کے لیے ایک مہا پنچایت بلائی جارہی ہے۔ ہم لوگ ایک کھیت کے پاس بیٹھے جہاں گاؤں کے پردھان اور کچھ دوسرے مقامی افراد نے ملزمین اور ان کی فیملی کے بارے میں باتیں کیں۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ لڑکی کی میڈیکل رپورٹ ریپ کی تصدیق نہیں کرتی ہے۔ ہمیں نشانہ بنایا جارہا ہے اور ہمیں ظالم کہا جارہا ہے جبکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے‘‘۔ جب مذکورہ اخبار کے رپورٹر نے گاؤں کے پردھان رام کمار سے بات کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے نہ تو ان کی کال رسیو کی اور نہ ان کے میسج کا جواب دیا۔ رانا نے کہا کہ ’’ہم تمام برادریوں کی عزت کرتے ہیں،میں خود ایک کسان ہوں اور مزدوری کرتا ہوں۔ میں متاثرہ فیملی کے درد کو سمجھ سکتا ہوں مگر کسی بے قصور پر الزام لگانا اور اسے برادری واد پر مبنی تشدد قرار دینا درست نہیں ہے‘‘۔ قابل ذکر ہے کہ آس پاس کے کئی گاؤں کے ٹھاکر اس دھرنے میں شریک تھے اور انھوں نے ملزمین کے سپورٹ کا اعلان کیا ہے۔