ہاتھرس سانحہ:معاملے کا رخ مسلمانوں کی طرف موڑنے کی کوشش،چار نوجوانوں کی گرفتاری،ایک جامعہ ملیہ کا طالب علم بھی شامل

متھرا:یوپی کے متھرا ضلع میں پولیس نے پیر کی شب مبینہ طور پر پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) اور اس سے وابستہ کیمپس فرنٹ آف انڈیا (سی ایف آئی) سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والے چار افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار شدگان کے پاس سے ہاتھرس اجتماعی عصمت دری کے تناظر میں اشتعال انگیز لٹریچر دستیاب ہوا ہے۔ یہ بھی ا طلاع ہے کہ ان کے موبائل اور لیپ ٹاپ ضبط کرلئے گئے ہیں۔ان کے بارے میں کہا جارہاہے کہ یہ چاروں دہلی سے آئے تھے اور ہاتھرس جارہے تھے۔پولیس اور خفیہ ایجنسیاں ملزمان سے تفتیش میں مصروف ہیں۔خیال رہے کہ اتوار کے روز پولیس نے ہاتھرس سانحہ کے بہانے یوپی میں نسلی تشدد کی سازش کا انکشاف کیاتھا۔ اس میں پی ایف آئی کانام بھی آشکارا ہوا تھا۔ اس تنظیم کے متعلق مبینہ طور پر یہ ا لزام لگایا جاتا رہا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کیخلاف احتجاج کے تناظر میں دہلی کے جعفرآباد سیلم پور علاقہ میں ہونے والے فسادات میں بھی ملوث تھی۔اے ڈی جی لا اینڈ آرڈر پرشانت کمار نے کہا کہ کچھ مشتبہ افراد کے بارے میں دہلی سے ہاتھرس آنے کی خبر ملی تھی ، اس ان پٹ کو انٹیلی جنس ایجنسیوں اورضلع کے ملحقہ تمام تھانہ کو آگاہ کردیا گیا تھا۔ پیر کی صبح 11 بجے کے لگ بھگ متھرا کے ٹول پلازہ پر گاڑیوں کی جانچ پڑتال کی جارہی تھی۔ اسی دوران ایک سوئفٹ ڈیزائر کار کو روکا گیا۔ اس کار میں 4 افراد سوار تھے۔ تفتیش کے دوران ان کی نقل و حرکت مشکوک معلوم ہوئی۔ حراست میں تلاشی لینے اور ان سے پوچھ گچھ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ PFI اور CFI سے وابستہ تھے۔دعویٰ کے مطابق گرفتار ملزمان میں مظفر نگر کارہائشی عتیق ، بہرائچ رہائشی مسعود احمد ، رام پوررہائشی عالم اور کیرالہ کے ملا پورم کا صدیق شامل ہیں۔ بہرائچ کا رہائشی مسعود احمددہلی میں جامعہ ملیہ کا طالب علم ہے۔ وہ ایل ایل بی کر رہا ہے۔