ہاتھرس سانحہ:حکومت کس کو بچا رہی ہے؟ (اداریہ ہندوستان ٹائمس)

ترجمہ:نایاب حسن
عموماً ہندوستانی ریاستوں اور خاص طور پر یوپی میں مضبوط سیاسی ڈھانچہ اور سماجی (طبقاتی) اشتراک ہی الیکشن میں کامیابی حاصل کرتا، اقتدار سنبھالتا اورتھانوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ تھانہ جو انتظامیہ کا سب سے کم تر درجے کا یونٹ ہوتا ہے،مگراس کا شہریوں کے ساتھ سب سے زیادہ رابطہ ہوتا ہے۔ اگر آپ لکھنؤ میں برسرِ اقتدار ہیں تو آپ ہی فیصلہ کریں گے کہ ان مقامی پولیس اسٹیشنوں کے پولیس آفیسر انچارج کون ہوں گے۔ اگر آپ ایک مضبوط ذات پات پر مبنی سیاسی دھارے سے آتے ہیں یا آپ اپنی برادری کے تئیں وفادار ہیں تو ممکن ہے کہ ان تھانوں کے ذمے داران یا تو ایک ہی ذات پات کے ہوں گے یا سیاسی طور پر غالب برادری کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتے ہوں گے۔ اس کا منطقی انجام یہ ہوگا کہ حکمراں برادری اور اس کے اتحادیوں سے باہر کی برادریوں سے تعلق رکھنے والوں کے لیے انصاف تک رسائی مشکل ہوگی۔
ہاتھرس کا چونکانے والا واقعہ سیاسی طاقت، ریاست کے طریقۂ کار اور سماجی حرکیات کے مابین اسی سنگین گٹھ جوڑ کا عکاس ہے۔ جب یوپی میں سماج وادی پارٹی برسر اقتدارتھی ،تب یادو انتظامی ڈھانچے پر حاوی تھے اور مقامی تھانے بنیادی طور پر یادو کا گڑھ مانے جاتے تھے۔ جب بہوجن سماج پارٹی اقتدار میں تھی ، تو دلتوں( جوعموماً اقتدار سے باہر ہوتے ہیں) کو مقامی پولیس تک زیادہ رسائی حاصل تھی۔ مگر بھارتیہ جنتا پارٹی ہندووں کو وسیع تر ہندو شناخت کا احساس دلاکر مجتمع کرکے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہے،جس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی طور پر مسلمانوں کی کوئی نمائندگی نہیں ہوگی ، جو ریاستی اداروں تک ان کی رسائی کو محدود کرتی ہے؛ لیکن خاص بات یہ ہے کہ ہندووں کے داخلی طبقاتی اختلاف کی وجہ سے بی جے پی کی زیرقیادت انتظامیہ نہ صرف مسلمانوں کو ریاستی اداروں سے دور رکھتی ہے؛بلکہ وہ خود ہندووں کی بعض برادریوں کو بعض دوسری برادریوں پر فوقیت دیتی ہے۔
در حقیقت یہی چیز ہمیشہ ہندو ووٹ کو متحد کرنے کی بی جے پی کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ رہی ہے۔ پچھلے چھ سالوں کے دوران پارٹی نے زیادہ سے زیادہ ہندووں کو اپنے اندر سمونے کوشش کی ہے اور بی جے پی کو ایک ایسی پارٹی کے طورپر پیش کیا گیا ، جو تمام ہندو ذاتوں کو قبول کرتی ہے اور روایتی اعلی ذات کی طرف جھکاؤ سے اوپر اٹھ کر سوچتی ہے۔اسی وجہ سے نہ صرف دلتوں نے بڑی تعداد میں بی جے پی کو ووٹ دیا ہے؛ بلکہ اِس وقت بی جے پی میں دلت عوامی نمائندوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور انھیں پارٹی کے بنیادی ڈھانچے میں جگہ دینے کی کوشش کی گئی ہے؛ لیکن یوپی میں بی جے پی کا یہ اصول روایتی طبقاتی کشمکش اور اعلیٰ ذات کی برتری کے رجحان سے مسلسل متصادم ہے۔ یوگی حکومت ٹھاکروں کی حامی مانی جاتی ہے،سو وہاں پولیس کے طریقۂ کار میں واضح تعصب پایا جاتا ہے اورٹھاکروں کے علاوہ دوسرے سماجی طبقات کو حاشیے پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہاتھرس صرف ایک انسانی المیہ اور یوپی حکومت کی انتظامی ناکامی نہیں ہے؛بلکہ یہ بی جے پی کی سیاسی ناکامی بھی ہے۔ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ مختلف برادریوں کے مابین ہم آہنگی انصاف کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*