ہاتھرس متاثرہ لڑکی کی تصویرشائع کرنے پر پابندی لگانے سے سپریم کورٹ نے انکارکردیا

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے میڈیا میں ہاتھرس گینگریپ متاثرہ لڑکی کی تصویر کی اشاعت کے خلاف درخواست پر مداخلت سے انکار کردیا ہے۔ تاہم عدالت نے کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ متاثرہ کی تصویر شائع کی گئی۔ جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس رمنا نے کہا کہ ان امور کا قانون سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لوگ ایسی چیزیں کرنا چاہتے ہیں۔ اظہار رائے کی آزادی کا حق۔ اس کے لیے قانون موجود ہے لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ اس طرح کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ جسٹس رمنا نے کہاکہ ہم قانون پر قانون نہیں بناسکتے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم اس معاملے کو ہمارے علم میں لانے کے لیے درخواست گزار کی کوششوں کی تعریف کرتے ہیں لیکن ہم اس معاملے میں کوئی قانون نہیں بناسکتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ہمیں امید اور یقین ہے کہ مدعا علیہ اس پر غور کریں گے۔