ہاتھر س کیس میں سپریم کورٹ میں درخواست:یوپی میں ہورہی ہے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی، صدر راج نافذ ہونا چاہیے

نئی دہلی:اتر پردیش میں صدرراج کو نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی گئی ہے ۔جو تامل ناڈو کے رہنے والے وکیل سی آر جیاسوکن نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ اس درخواست میں ہاتھرس کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یوپی میں بنیادی حقوق کی پامالی کی جارہی ہے، لہٰذا صدر راج نافذ کیا جانا چاہئے۔ یوپی کے ہاتھرس میں ایک لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت اور قتل پر ملک بھر میں ناراضگی ہے۔ ملک میں متعدد مقامات پر مظاہرے کیے گئے ہیں۔ہاتھرس میں اجتماعی عصمت کا نشانہ بننے والی ایک 20 سالہ لڑکی کی 29 ستمبر کو دہلی کے صفدرجنگ اسپتال میں موت ہوگئی۔ اس واقعہ نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ظلم کی انتہاکو پہنچنے والا یہ واقعہ 14 ستمبر کو یوپی کے ہاتھرس میں پیش آیا۔الہ آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے پر از خود نوٹس لیا ہے۔ ہائیکورٹ کی لکھنؤ بنچ نے جمعرات کے روز کہا کہ ایک مجرموں نے مظلوم کے ساتھ زیادتی کی اور اس کے بعد کیا ہوا اگر یہ سچ ہے تو یہ ان کے کنبہ کے غم کو دور کرنے کے بجائے ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ لاش کو ان کے گھر لے جانا چاہئے، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ یہ معاملہ ہمارے سامنے آیا جس کا ہم نے جائزہ لیا ہے وہ عوامی اہمیت اور عوامی مفاد کا معاملہ ہے کیونکہ اس میں ریاست کے اعلی عہدیداروں پر الزامات شامل ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف مقتولہ بلکہ اس کے کنبہ کے افراد کا بھی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہاتھرس کیس میں تشکیل دی جانے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اپنی پہلی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کی۔ اس رپورٹ کے بعد یوپی سرکار نے ہاتھرس کے ایس پی اور چار دیگر پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا۔ ایس آئی ٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ایس پی اور چار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔