ہاتھ میں ہاتھ دو سوئے منزل چلو-احمد نہال عابدی

بیس کروڑ سے بھی زائد مسلمانوں کی آبادی والے بھارت میں مسلم سیاست کا وجود لگ بھگ ختم ہو چکا ہے ۔ لیکن ابھی بھی کچھہ بگڑا نہیں ہے ۔ مسلمان اگر آپسی اختلافات کو فراموش کرکے اتحاد کو ترجیح دیں تو یقینی طور پر مسلم سیاست کے مستقبل کو تابناک بنایا جا سکتا ہے ۔ مسلمانوں کا یہ المیہ ہی ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود ہمارا نہ کوئی قائد اور نہ ہی صوبائی و ملکی سطح پر سیاسی پارٹی کا وجود ہے جو آبادی کے لحاظ سے مسلم اراکین کی زیادہ تعداد میں پارلیامنٹ تک کا سفر آسان کر سکیں ۔ ہماری قدرو قیمت اور اہمیت آپسی اتفاق میں ہی مضمر ہے ۔ وقت اور حالات کی مناسبت سے مسلمانوں کا یکجا ہونا اور سیاسی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنا بہت ضروری ہے ۔ کچھ نام نہاد مسلم لیڈران کا ذکر یہاں فضول ہے جو اپنے ذاتی فائدے کے لئے قوم و ملت کی سودے بازی کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ مختلف سیاسی پارٹیوں میں مسلمانوں کی موجودگی بس اس بنا پر ہے کہ مسلم قوم کے نام پر ووٹ بٹورے جا سکیں ، قوم و ملت کے مفاد سے انکا کوئی لینا دینا نہیں ۔ مسلمانوں کی سیاسی شعور سے بے اعتنائی، ملک کے حالات سے بے خبری اور لاپرواہی کی بابت مفکر اسلام علی میاں ندوی مرحوم کا قول ہے کہ اگر امت مسلمہ کا سیاسی شعور بیدار نہ کیا گیا اور انہیں ملک کے احوال سےواقف نہیں کرایا گیا تو ممکن ہے ملک میں پانچ وقت کی نمازوں پر بھی پابندی عائد کر دی جائے ۔ سیاست سے علیحدگی کا رجحان اور ملک کے حالات سے بے خبری کا یہ نتیجہ ہے کہ آر ایس ایس کی مسلم دشمنی نے مسلمانوں کو آج غیر ملکی یا گھس پیٹھیا کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے ۔ ریاست کیرالا میں مسلمانوں کی یک جہتی کی مثال یہاں قابل ذکر ہے کہ انتخابات کے موقع پر جی ایم بنات والا مرحوم کی انڈین یونین مسلم لیگ سیاسی میدان میں اپنا سکہ جما چکی ہے ۔ آندھرا پردیش میں بھی کسی حد تک اویسی برادران کی ایم آئی ایم بھی مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔ مذکورہ دونوں سیاسی پارٹیوں کی پالیسی کے مد نظر تمام ریاستوں میں مسلمانوں کی سیاسی پارٹی کی ضرورت ہے تاکہ انتخابات کے موقع پر اپنے بل بوتے یا دوسری جمہوریت پسند پارٹی کے ساتھ مل کر انتخابات لڑے جا سکیں تاکہ دونوں صورتوں میں مسلمانوں کے ووٹ بہر حال فیصلہ کن ثابت ہوں ۔ مجموعی طور پر مسلمانوں کی سیاسی شعور اور سیاسی بیداری کے تئیں عدم توجہی کا خمیازہ ہے کہ مسلمان آج اپنے ملک میں ہی احساس کمتری اور ظلم و زیادتی کے شکار ہیں ۔سیاسی سطح پر مسلم سیاسی پارٹی کا نہ ہونا گویا سیاسی اعتبار سے غیروں کے رحم و کرم پر رہنا ہے ۔ سیاست سے دوری مسلمانوں کے لئے خسارے سے کم نہیں جس سے ابھی تک دوچار ہوتے آئے ہیں ۔ سیکولرزم کی دہائی دیکر تمام سیاسی پارٹیاں انتخابات کے وقت مسلم قوم کا استحصال کرتی ہیں اور مطلب نکل جانے کے بعد بے یاروددگار چھوڑ دینے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے ۔مسلمان بھارت میں سب سے بڑی اقلیتی جماعت ہونے کے باوجود سیاسی طور پر پچھڑی اور سماجی طور پر غیر متحد ، غیر منظم ہیں جس کی وجہ سے دوسری سیاسی پارٹیاں ان کا خوب فائدہ اٹھاتی ہیں ۔ کیرالا میں انڈین یونین مسلم لیگ کو مسلمانوں کی طاقت اور اہمیت جتانے کی بہترین مثال کے طورپر پیش کیا جا سکتا ہے جو مسلم سیاسی پارٹی ہونے کے باوجود انتخابات کے موقع پر علاقائی پارٹی کے ساتھ مل کر فرقہ پرست پارٹی بی جے پی کو باہر کا راستہ دکھانے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے ۔ مذکورہ طرض عمل نے کیرالا میں مسلم لیگ کا سیاسی وقار بڑھایا ہے ۔ عام طور پر مسلمان اپنی سیاسی پارٹی قائم کرنے کے ضمن میں تذبذب میں رہتے ہیں کہ آیا ان کا ایسا عمل غیروں کے لئے تنقید کا سامان نہ فراہم کردے ۔ حلاں کہ اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی اور فلاح و بہبود کی خاطر سیاسی پارٹی کی تشکیل ہمارا آئینی حق ہے ۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ دوسری تمام ریاستوں میں مسلمانوں کا سیاسی و سماجی گروپ آپسی رنجشوں ، لالچ ، موقع پرستی و خودغرضیوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ۔ ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ حکومت بھی مسلمانوں کی مذکورہ خرابیوں کا بھر پور فائدہ اٹھا تی ہے جس کا احساس ہوتے ہوئے بھی مسلمان اپنی بے حسی کے باعث دشمنوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ آزادی کے دوران مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم اور ان کے رفقا کو احساس ہو چلا تھا کہ مسلم قوم جہالت اور آپسی اختلافات کے باعث مغلوب و محکوم ہو جائےگی ۔ آزادی کے دوران ملک میں مسلمانوں کو جو عروج اور بالادستی حاصل تھی ان کی وفات کے بعد مسلمان قوم اپنی نا عاقبت اندیشی اور نااہلی کے سبب زوال پزیر ہو تی چلی گئی اور موجودہ دور تک آتے آتے مسلمان احساس کمتری کا شکار ہوکر پژمردہ قوم میں تبدیل ہو گئے ۔ یہ انتہا کیا کم تھی کہ مسلکی نفرتوں نے مسلمانوں کی بچی کھچی عزت بھی تار تار کر دی ۔ علاوہ ازیں حکومت کی عصبیت پرستی و تنگ نظری آہستہ آہستہ بھارت کے مسلمانوں سے سیاسی حق بھی چھین لینے کے در پے ہے ۔ جس قوم نے ملک کی آزادی میں کر نمایا کردار ادا کرتے ہوئے وطن عزیز کی خا طر سب سے زیادہ قربانی دی تھی آج اسی قوم کو ملک بدر کرنے کی سازش رچی جا رہی ہےـ تقسیم ہند کا احمقانہ فیصلہ اگر ظہور میں نہیں آیا ہوتا تو ہندوستان کی صورت کچھ اور ہوتی ۔ تقسیم ہند کا سانحہ بھارتی مسلمانوں کے لئے کربناک تھا، جس سے مسلم قوم آج تک نبرد آزما ہے ۔ دوسری طرف پاکستان کا وجود بھی خوش آئند ثابت نہیں ہو سکا کیوں کہ مسلم لیگ اور جناح کا مقصد”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الللہ ” پاکستان میں نافذ نہیں ہو سکا ۔ اسلامی حکومت کے نفوذ کے شوق میں لاکھوں افراد اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر پاکستان منتقل ہوئے لیکن وہاں انہیں سوائے افسردگی اور پچھتاوے کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ۔
محمد علی جناح کے ذریعے تقسیم ہند کا جذباتی فیصلہ کامیاب نہیں ہوا ہوتا تو آج بھارت کے فیصلے ہمارے ہاتھوں ہوتے ۔ مگر مفاد پرستی اور قائد اعظم کہلانے کے شوق میں محمد علی جناح نے پاکستان کی بنیاد ڈال کر ہندوستانی مسلمانوں کی بنیادیں ہلا ڈالیں ۔ بہر حال بھارتی مسلمانوں کی کھوئی ہوئی طاقت اور وقار پھر سے اس ملک میں بحال ہو سکتی ہے اگر ہم سیاسی طور پر اکھٹے ہو جائیں اور مل جل کر انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کریں، کیوں کہ” زندہ ہے فقط وحدتِ افکار سے ملت”۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)