حسرت ان غنچوں پہ ہے (مظفرؔ ، انیقہؔ اور شکیبؔ کے نام) ـ ڈاکٹر عطاعابدی

 

شہادت کی بدولت وہ کئی معنوں میں زندہ ہے
زمیں پر سرخرو ہو کرفلک والوں میں زندہ ہے
مری آنکھوں میں وہ رنگوں کی صورت جھلملاتا ہے
مرے ماضی کا یہ قصہ مرے خوابوں میں زندہ ہے
قضا تو آنی ہے سب کو فنا ہوتے ہیں سب لیکن
محبت درد کی صورت سب انسانوں میں زندہ ہے
اسی کا یاد پر غلبہ ،اسی کا روح پر قبضہ
جدا مجھ سے ہوا ہے وہ مگر سانسوں میں زندہ ہے
مرے شامل نہیں ہے وہ یہ کیسے مان لوں آخر
وہ میرے گھر میں رہتا ہے مرے اپنوں میں زندہ ہے
گلستاں سے مرے جس گل کو کل گلچیں نے توڑاتھا
وہ خوشبو بن کے اب ہر سوچمن زاروں میں زندہ ہے
مجھے رستہ دکھاتا ہے مرے شب ہائے غم میں وہ
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ تاروں میں زندہ ہے
میں اس سے بات کرتا ہوںمیں اس کی بات سنتا ہوں
عجب احساس کی دنیا مری یادوں میں زندہ ہے
یوں غم ہائے انیقہؔ و شکیبؔ اترے مظفرؔ پر
لگا ماضی کا زخم اب حال کے لمحوں میں زندہ ہے
مجھے دنیا کی رونق یونہی بے معنی نہیں لگتی
عطاؔ اک شہر خاموشاں مری آنکھوں میں زندہ ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*