Home ستاروں کےدرمیاں رفتی و ما را ز حسرت سوختی – عزیز ابن الحسن 

رفتی و ما را ز حسرت سوختی – عزیز ابن الحسن 

by قندیل

طوس کے امام ابو حامد محمد الغزالی کا تو معاملہ اور ہے کہ خاکسار اور حضرت کے درمیان میں صدیوں کا فاصلہ حائل تھا مگر اسلام آباد والے محمد الغزالی سے زیادہ ملاقاتیں نہ رہنے کا رنج فزوں تر ہے کہ اسی شہر اور اسی یونیورسٹی میں ہونے اور ان سے راست استفادے کے موقعے نکلنے کے باوجود ملاقاتوں کی جرأت کم ہی کر سکا جس کا افسوس شاید زندگی بھر رہے گا۔ وجوہ دو ہی تھیں: ایک تو اپنی طبیعت کی گریز پائی کہ ادیبوں شاعروں اور بڑے لوگوں سے میل ملاقات کا شوق، سال ہا سال پہلے لاہور ہی میں وفاتِ حسرت آیات پاچکا تھا جب چند نام آور لوگوں سے ملنے کے بعد یہ احساس ہوا کہ ان لوگوں سے ملاقات ان کی تحریروں اور کتابوں میں ہی بہتر ہوتی ہے کیونکہ ان سے راست تعلق اور مواجہ اکثر مایوسی پر منتج ہوتے دیکھا تھا لیکن ڈاکٹر غزالی سے ملاقاتیں نہ کر سکنے کا سبب یہ قطعی نہیں تھا بلکہ یہاں مانعِ تعلق امر ان کی ادائے بےنیازی علمی دبدبہ اور سب سے بڑھ کر ان کا شخصی رعب رہا تھا۔

 

ان سے زیادہ تر ملاقاتیں اور مواجہتیں گو دور دور ہی کی تھیں مگر ان کی شخصیت، علمی استحضار زبان دانی طرز گفتگو جرأت اظہار ، طلاقت لسانی اور مثالی بےخوفی کا تاثر ہر مشاہدے میں پہلے سے زیادہ گہرا ہوتا رہا تھا۔

اردو زبان کو دفتری زبان بنانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہم نے بھی متعدد کوششیں کر دیکھیں، اور پھر ہانپ کر رہ گئے، کہ عربی اور انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی اسلامی یونیورسٹی کی دفتری زبان کے طور مؤثر کروایا جائے۔ اسی سلسلے میں یہ "مسئلہ کشمیر” متعدد دفعہ حکام بالا کے سامنے رکھا گیا جس پر ملکی سطح پر بننے والے کمیشنوں کی طرح کمیٹیوں پر کمیٹیاں بنتی رہیں جو بفضلِ خدا گزشتہ تین چار برس سے کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچے بغیر، نشستن گفتن برخواستن و چائے نوشیدن کے فرائض سر انجام دینے کے لیے اب بھی جاری رہتی ہیں۔ اکیڈمک کونسل کی ایک اسی طرح کی کمیٹی میں ڈاکٹر غزالی بھی رکن کمیٹی تھے انہوں نے اس ‘مزمن مرض’ یعنی "کٹھن اور پیچیدہ مسئلے” کو حتمی طور پر حل کر کے نافذ کرنے کی نہایت دبنگ الفاظ اورگرج دار دلائل سے تائید کی تھی۔ مگر مسئلہ کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے نقش قدم پر یونیورسٹی میں نفاذِ اردو کی یہ تجویز شاید اب بھی زیر غور یعنی التوا کا شکار چلی آتی ہے۔ یادش بخیر ، دو تین سال پہلے اردو کو سرکاری سطح پر نافذ کرنے کا فیصلہ دینے والے اس وقت کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اسلامی یونیورسٹی کی ایک تقریب میں خطاب کے دوران اس وقت کے ریکٹر جامعہ ڈاکٹر معصوم یاسین زئی کو اسلام کے نام پر بننے والی اس یونیورسٹی تک میں اردو نافذ نہ ہونے پر برسرِ سٹیج شرمندہ کرنے کی اپنی سی کوشش کی تھی مگر جسٹس صاحب کو شاہد معلوم نہیں تھا کہ ہمارے اہل اقتدار اور پاٹھ شالوں کے مُکھیاؤں کے ہاں ایسی باتوں پر شرمندہ ہونے کی روایت مدتوں سے ختم ہو چکی ہے!

 

خیر ذکر تھا متبحر عالم، دبنگ، نڈر اور بے خوف پروفیسر ڈاکٹر الغزالی کا جن کے نام سے اولین تعارف 20، 25 برس پہلے شاہ ولی اللہ کی عمرانی فکر پر ان کی تحریروں سے ہوا تھا مگر جنہیں پہلی مرتبہ دیکھنے کا موقع 1995-96 میں اس وقت ملا جب ادارۂ تحقیقات اسلامی میں ابن عربی پر کئی کتابوں کے مصنف ولیم سی چیٹک نے "ابن عربی اور وحدت الوجود” کی اصطلاح پر ایک لیکچر دیا تھا۔ راقم کو اس وقت حشمت علی کالج راولپنڈی میں آئے تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا۔ ولیم چٹک کی ضخیم کتاب Sufi path of knowledge کو چونکہ جستہ جستہ دیکھ چکا تھا اس لیے چٹک کی اسلام آباد آمد کو غنیمت جانا اور ادارۂ تحقیقات اسلامی جا پہنچا۔ اس وقت اس ادارے میں میری واقفیت سوائے ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کے اور کسی سے نہیں تھی۔ پہنچا تو ولیم چٹک گفتگو کر رہے تھے۔ زبان میں لکنت یا کسی اور سبب سے ان کی باتیں کچھ خاص سمجھ میں نہ آئیں۔ تاہم لیکچر ختم ہونے کے بعد ایک شخص کو نہایت ستواں و متین، خوبصورت لہجے شستہ انگریزی زبان مگر متبختر انداز میں چٹک پر سوالات کی بوچھاڑ کرتے دیکھا جس کا چٹک نقطہ بہ نقطہ جواب تو دے رہے تھے مگر انگریزی مادری زبان ہونے کے باوجود سوال کنندہ کے تابڑ توڑ استفسارات پر وہ برابر کے نکھرے نکھرے انداز میں پورے نہیں پڑ رہے تھے۔ میں ولیم چٹک کے ابن عربی کے بارے میں موقف کو ان کی کتاب سے جانتا، اور اپنی حد تک، درست سمجھتا تھا لیکن اس کے باوجود سوالات کنندہ کی طرفہ بے نیازی، کرسی پر لاپروا انداز نشست اور طرز گفتگو کی دلربائی کی وجہ سے ولیم چٹک سے متفق رہنے کے باوجود زیادہ متاثر سوال کنندہ سے ہی ہوا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ بے تکان انگریزی میں عالمانہ گفتگو کرنے والا یہ شخص معروف و محترم عالم دین ڈاکٹر محمود احمد غازی کا بھائی ڈاکٹر الغزالی تھا! اس محفل میں راقم چونکہ ایک شوقیہ مہمان اور بالکل نو آموز اور ان گھڑ سے طالبعلم کے طور پر شریک تھا اس لیے تجسس اور خواہش کے باوجود ڈاکٹر غزالی سے ملے بغیر چپکے سے واپس آگیا۔

 

اس واقعے کے 10، 15 برس بعد پھر ڈاکٹر غزالی کو زیادہ قریب سے یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل کی اجلاسوں میں تب دیکھا جب وہ اس وقت کے صدر جامعہ درویش صاحب کے سامنے جراتِ بے بہا کا مظاہرہ کیا کرتے تھے کہ جب دیگر شرکائے محفل صدر جامعہ کی طول طویل لاحاصل تقریروں پر اکثر واہ واہ ہی کرتے اور کسی بالکل غلط امر پہ بھی ٹوکنے کی کم ہی ہمت جٹا پاتے تھے۔ غزالی صاحب کی بے باکی اور خم ٹھونک کرکلمۂ حق بلند کرنے کا ایک اور واقعہ جس کا میں ذاتی شاہد تو نہیں مگر جو متعدد روایتوں سے راقم تک پہنچا، یہ تھا کہ انہوں نے فیصل مسجد میں خطبہ جمعہ دیتے انہی صدر جامعہ کو سعودی بادشاہوں کی شان میں قصائد پڑھنے سے اس وقت روک دیا تھا جب انہیں اسی یونیورسٹی میں پروفیسر امریطس بنانے کی تجاویز گردش میں تھیں۔ خطبہ جمعہ کے دوران فیصل مسجد کی بھری پری صفوں کے اندر سعودی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ صدرِ جامعہ اسلامی یونیورسٹی، جسے موقعہ بے موقعہ لمبی لمبی تقریریں ہانکنے اور فضول طول کلامی کا شوق منبر مسجد پر خطبے جھاڑنے پر بھی مائل رکھتا تھا۔ اس خطیبِ زٹل گو کو ڈپٹ کر بے توقیر کرنے کی جرأت دکھانے کا حوصلہ بھی وابستگان یونیورسٹی میں سے صرف ڈاکٹر غزالی ہی کو ارزانی ہوا تھا۔ یہ انہی کا حوصلہ تھا کہ انہوں نے امریطسی پانے کا موقع ضائع ہونے کی رتی بھر پرواہ کیے بغیر جو درست سمجھا وہ کیا!

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

 

اس مرد آزاد و بے باک نے راقم کو ایک موقعے پر سخت حیرت میں اس وقت ڈال دیا جب ایک روز صدرِ شعبۂ اردو کے دفتر میں فون کی گھنٹی بجنے پر جو چونگا اٹھایا تو دوسری طرف کی آواز نے بتایا کہ:

"میں محمد الغزالی بول رہا ہوں”۔

 

ایک تو نام اتنا منفرد اور دوسرے آواز اور لب و لہجہ ایسا دلدار کہ سینکڑوں ہزاروں میں پہچانا جائے۔ راقم تو سٹپٹا کے رہ گیا۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصے ہی میں پہچان لیا اور زبان سے سوائے "زہے نصیب زہے نصیب!”

کے اور کچھ نہ نکلا۔ اس حواس باختہ کو یوں سٹپٹاتے دیکھ کر از رہِ بندہ پروری ڈاکٹر صاحب بڑی اپنایت سے بولے:

 

"میں آپ کی ادارت میں نکلنے والا شعبۂ اردو کا جریدہ "معیار” اکثر دیکھتا رہتا ہوں۔ ماشاءاللہ بہت عمدہ رسالہ ہے۔ ہمارے فلاں دوست کی ایک عزیزہ کا فلاں مضمون اشاعت کیلیے آپ کی طرف آیا ہوگا اسے ذرا دیکھ لیجئے”۔

میں ابھی سحر زدہ کرنے والی اس آواز کے تحیر میں گم تھا کہ ڈاکٹر غزالی مجھ سے یوں بےتکلفانہ ہم کلام ہیں، وہ بولے

"پچھلے کسی شمارے میں مشتاق احمد یوسفی پر آپ کا مضمون بہت اچھا تھا میں نے بڑے شوق سے پڑھا تھا”!

اس پر تو یہ بندۂ بےنام بالکل گنگ ہوگیا۔ کہاں مجھ سا گوشہ گیر اور محفل گریز طالب علم اور کہاں ڈاکٹر غزالی کی سطح کا ایک بے نیاز و آزاد طبع عالم جو صدر جامعہ کو بلا لحاظ ٹوک دینے کی جرأت اور صدر مملکت تک کی ملاقات کی خواہش کو اپنے نظم اوقات کی پاسداری نہ کرنے کی بنا پر رد کردینے کا شاہانہ مزاج رکھتا تھا!

 

ڈاکٹر محمد الغزالی ڈاکٹر محمود احمد غازی، ڈاکٹر ممتاز احمد ڈاکٹر ظفر اور اسحاق انصاری جیسے ان بقیۃ السلف پروفیسروں کے سلسلۃ الذہب کے شاید آخری فرد تھے جو کسی ادارے کے وقار کی ضمانت ہوا کرتے ہیں جنہوں اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے مختلف شعبوں کو اپنے خون پسینے سے سینچا تھا۔ پچھلے کچھ عرصے سے یونیورسٹی میں ہونے والے علمی سانحات و انتظامی بے ضابطگیوں اور اس سبب سے یونیورسٹی کی نیک نامی و ساکھ کو پہنچنے والے نقصان و خسران پر ڈاکٹر غزالی بہت دلگیر رہتے تھے۔ اس پس منظر میں پرسوں ان کے سانحۂ ارتحال پر جناب آصف محمود نے اپنے کالم میں بجا طور پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ ڈاکٹر غزالی کی موت اگرچہ ہارٹ اٹیک کے سبب ہوئی مگر ان واقعات و سانحات کا کیا ہوگا جن کے کارن انہیں ہارٹ اٹیک ہوا؟

 

پچھلے دنوں جناب معین نظامی نے سلطانِ باجبروت سنجر سلجوقی کے نام امام غزالی (رح) کا ایک خط نقل کیا ہے جو بےنیازی و استغنا، لاتعلقی و بےخوفی کا شاہکار ہے۔ یہ خط بادشاہ کے ایک خط کا جواب ہے جو اس نے حضرت امام کو اپنے ہاں طلب کرنے کے لیے لکھا تھا۔ امام صاحب کے جوابی خط کے کچھ چیدہ جملے یوں ہیں:

 

"یہ بندۂ ناچیز اب ترپن سال کا ہو چکا ہے۔ مَیں نے علوم و فنون کے سمندر میں چالیس سال یوں غوطہ زنی کی کہ میری باتیں بیشتر اہلِ زمانہ کی سمجھ بوجھ سے بالاتر ہو گئیں۔ مَیں نے آپ سے پہلے بیس سال سلطان شہید کے زمانے میں بھی گزارے اور اصفہان اور بغداد میں ان کی عنایتوں سے بہت سرفراز ہوا ہوں۔ سلطان نے بعض اہم معاملات میں مجھے کئی بار سفیر بنا کر امیر المومنین کی خدمت میں بغدادبھی بھیجا.

مَیں نے دینی علوم میں تقریباً ستّر کتابیں لکھی ہیں. مَیں نے حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کے مزارِ مبارک پر یہ قسم کھائی ہے کہ کبھی کسی سلطان کے پاس نہیں جاؤں گا، کسی سلطان سے مال نہیں لوں گا، مناظرہ نہیں کروں گا اور تعصب سے بچوں گا۔ مَیں بارہ سال سے اسی طرزِ عمل پر ڈٹا رہا ہوں. امیر المومنین اور دیگر تمام بادشاہوں نے اس عرصے میں مجھے اس معاملے میں معذور ہی رکھا اور کبھی مجبور نہیں کیا۔

اب مَیں نے سنا ہے کہ آپ نے میرے حاضر ہونے کا فرمان جاری کیا ہے۔ مَیں آپ کے حکم کی تعمیل میں مشہدِ مقدس میں تو حاضر ہو گیا ہوں لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیے ہوئے وعدے کے مطابق شاہی لشکر گاہ میں حاضر نہیں ہوا ہوں۔ مَیں حضرت امام رضا کی بارگاہ میں فریاد کر رہا ہوں کہ اے فرزند رسول، آپ شفیع بن جائیے کہ اللہ تعالی بادشاہ اسلام ۔ سلطان کو یہ توفیق نہ دے کہ وہ مجھ جیسے ایک ایسے شخص کے دل کو پراگندہ کرے جس نے مخلوق سے منہ موڑ لیا ہے اور ساری توجہ خدا کی طرف کر لی ہے”۔

 

حضرت امام غزالی کے محولہ بالا خط کے یہ جملے جب سے پڑھے ہیں رہ رہ کر خیال بے نیازانہ زیست کرنے والے ڈاکٹر محمد الغزالی کی طرف لوٹ رہا ہے جن سے راقم کا اگرچہ راست تعلق نہیں رہا مگر ان کے انتقال کے بعد سے دل پر ایک بے نام سی اداسی طاری ہے۔ بلا شبہ ڈاکٹر غزالی ایسے لوگوں میں سے تھے جن سے براہ راست تعلق نہ ہونے کے باوجود محض ان کے ہونے کا احساس ہی دل کو شاداں اور طبیعت کو شاداب رکھتا ہے!

ایسی دوری و لاتعلقی بلا شبہ سینکڑوں تعلقات اور وابستگیوں پر فوقیت رکھتی ہے۔

ڈاکٹر غزالی کے یوں اچانک سفر آخرت پر روانہ ہوجانے کی خبر کے بعد وحشی بافقی کے یہ اشعار تو جیسے دل میں کھب کے رہ گئے ہیں:

 

آتشی در جان ما افروختی

رفتی و ما را ز حسرت سوختی

 

بی‌وداع دوستان کردی سفر

از که این راه و روش آموختی

 

گرنه از یاران بدی دیدی چرا

دیده از دیدار یاران دوختی

 

بی‌رخ او طرح صبر انداختی

ای دل این صبر از کجا آموختی

 

وحشی از جانت علم زد آتشی

خانمان عالمی را سوختی

You may also like