ہریانہ میں ہزاروں کسان سڑکوں پر، مرکزی  حکومت کے آرڈیننس کی مخالفت

کوروکشیتر:مرکزی حکومت کے تینوں زرعی آرڈیننس کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے ہریانہ کے کروکشیتر میں جمعرات کے روز ہزاروں کسان سڑکوں پر نکلے۔بھارتیہ کسان یونین اور دیگر کسان تنظیموں نے کوروکشیتر کے پپلی میں قومی شاہراہ پر جام لگادیا۔بھارتیہ کسان ایسوسی ایشن نے دعوی کیا کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا۔دراصل ہریانہ میں سڑک پر کسان مرکزی حکومت کے ان تین آرڈیننس کی مخالفت کر رہے ہیں، جن کا تعلق منڈیوں اور کسانوں سے ہے۔ مرکزی حکومت نے تین آرڈیننسوں کے ذریعے فصلوں کی خریداری سے متعلق نئے قواعد نافذ کئے ہیں، جس سے کسانوں میں شدید غم و غصہ ہے۔پہلے آرڈیننس کے مطابق اب تاجر کسانوں کی فصل کو مارکیٹ کے باہر خرید سکیں گے۔ پہلے کسانوں کی فصل صرف منڈی سے خریدی جاسکتی تھی۔ اسی کے ساتھ مرکز نے دال، آلو، پیاز، اناج، خوردنی تیل وغیرہ کو ضروری اجناس کے دائرے سے خارج کرکے اپنی اسٹاک کی حد کو ختم کردیا ہے۔ ان دو کے علاوہ، مرکزی حکومت نے معاہدہ سازی کو فروغ دینے کی پالیسی پر بھی کام شروع کیا ہے، جس سے کسانوں میں سخت ناراضگی ہے۔جمعرات کو کسانوں نے ان امور پر شدید نعرے بازی اور مظاہرے کئے۔ کوروکشیتر کے پولیس سپرنٹنڈنٹ آستھا مودی نے کہا کہ مظاہرین نے قومی شاہراہ کو جام کر دیا۔ ایک پولیس افسر نے بتایاکہ سیکڑوں کسان پپلی چوک پہنچے اور پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔