ہریانہ کے وزیر اعلیٰ کا بیان :اگر ایم ایس پی پر ہوگاکسی قسم کا خطرہ تو سیاست چھوڑ دوں گا

چندی گڑھ:

ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے مرکزی حکومت کے نئے زرعی قوانین کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ سیاسی وجوہات کی بناء پر ان بلوںکی مخالفت کر رہے ہیں۔ کھٹر نے کہا کہ جمہوری نظام میں ہر ایک کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے لیکن سڑک بند کرکے دباؤ ڈالنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ جنوبی ہریانہ کے نارناول میں خطاب کرتے ہوئے کھٹر نے کہا کہ مرکزی حکومت 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ اس ریلی میں بی جے پی کے سینئر قائدین شریک ہوئے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ کسانوں کی آمدنی کئی مراحل میں دوگنی ہوجائے گی ، ان میں سے ایک زرعی اصلاحات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ سیاسی وجوہات کی بناء پر ان قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں ، جن کو میں کسانوں کا نمائندہ نہیں کہوںگا۔کھٹر نے کہا کہ احتجاج کرنے کے بہت سے راستے ہیں۔ یہ اسمبلی میں کیا جاسکتا ہے ، میڈیا کے ذریعہ بھی کیا جاسکتا ہے ، لوگوں میں کیا جاسکتا ہے اور بڑے یا چھوٹے جلسوں کے ذریعے بھی کیا جاسکتا ہے ، لیکن 50-70 ہزار لوگ جمع ہوجائیں سڑکیں جام کردیں اوردباؤ بنائیں۔جمہوریت ایسی چیزوں کے لیے نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت اس کے آگے جھک جاتی ہے توملک غلط سمت میں گامزن ہوگا۔ بڑی مشکلات سے ہم نے یہ جمہوریت قائم کی ہے۔دہلی کی سرحدوں پر پنجاب اور ہریانہ سمیت ملک کے مختلف ریاستوں کے کسان گذشتہ چار ہفتوں سے زرعی قوانین کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ وہ ان زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکمران جماعت کا دعویٰ ہے کہ یہ قوانین کسانوں کے مفاد کے لئے ہیں۔