ہرش مندر کا قصور یہ ہے۔ معصوم مرادآبادی

 

انسانی حقوق کے ممتاز کارکن ہرش مندر کے ٹھکانوں پر گزشتہ جمعرات کوای ڈی نے چھاپے مارے ۔ یہ کارروائی اس وقت انجام دی گئی جب ہرش مندر دہلی میں موجودنہیں تھے۔نہ صرف یہ کہ ان کی غیر حاضری میں ان کے گھر پرچھاپہ مارا گیا بلکہ ان کی رضا کار تنظیموں پر بھی دبش دی گئی ۔سبھی جانتے ہیں کہ ہرش مندر حکومت کے ناقدین کی صف اوّل میں شامل ہیں اور انھوں نے مظلوموں کی دادرسی کے لیے جو عملی اقدامات کئے ہیں ، وہ کم ہی لوگوں کے حصے میں آئے ہیں۔ان کا خاص میدان فرقہ وارانہ فسادات میں یتیم ہونے والے بچوں کی پرورش اور ان کی تعلیم وتربیت کا بندوبست کرنا ہے تاکہ وہ باعزت زندگی بسر کرسکیں۔ اس کا م کے لیے انھوں نے دہلی میں دوادارے بھی قایم کررکھےہیں۔ حکومت کو پریشانی یہ ہے کہ ہرش مندر ان بچوں کی پرورش اور تعلیم پر جو پیسہ خرچ کرتے ہیں، وہ کہاں سے آتا ہے اور اس میں کتنا ’ گول مال ‘ ہوتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت ای ڈی ان کے اداروں کی چھان بین کررہا ہے اور ان کے خلاف مختلف عنوانات کے تحت کارروائی انجام دے رہا ہے ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت اس کام میں ان کا ہاتھ بٹاتی اور ایک نوبل کاز کے لیے کی جارہی ان کی خدمات کا اعتراف کرتی ، مگر اس کے برعکس حکومت کی مشینری ان کے حوصلوں کو توڑنے کا کام کررہی ہے تاکہ وہ عاجز آکر ان اداروں کو بند کردیں اور مصیبت کے مارے بچوں کو سڑکوں پر بھیک مانگنے کے لیے تنہا چھوڑ دیں، لیکن ہرش مندرتمام تر مشکلات اورمسلسل ہراسانی کے باوجود ان اداروں کو قایم رکھنے کے لیے تن من دھن سے لگے ہوئے ہیں اور وہ ظلم کے سامنے ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں ہیں۔

سبھی جانتے ہیں کہ ہرش مندرگجرات کیڈر کے آئی اے ایس آفیسر تھے مگر 2002 کی نسل کشی کے بعد انھوں نے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔وہ گاندھی کی سرزمین پر آخری درجے کی ظلم و بربریت دیکھ کر چیخ اٹھے تھے ۔ انھوں نے بطوراحتجاج یہ کہتے ہوئے سرکاری پوزیشن سے استعفی دے دیا تھا کہ انھیں خود کو انسان کہتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔ استعفیٰ کے بعد انھوں نے کافی عرصہ ان ریلیف کیمپوں میں گزارا جہاں گجرات نسل کشی کے متاثرین ناگفتہ بہ حالت میں تھے۔ تب ہی سے انھوں نے اپنی زندگی مظلوموں کے لیے وقف کررکھی ہے اور ان کا دائرہ کار فساد میں یتیم ویسیر ہوجانے والے بچوں کو نئی زندگی دینا ہے۔اس کے ساتھ ہی وہ ہر اس معاملے میں پیش پیش نظر آتے ہیں ، جہاں انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے یا کمزور طبقوں پر ظلم ڈھایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہرش مندر ملک میں مظلوموں کی ایک مضبوط آواز بن گئے ہیں ۔ شاید اسی لیے حکومت اور فسطائی طاقتیں ان کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں ۔ان کے اداروں کے خلاف ای ڈی کی تازہ کارروائی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔

ای ڈی نے منی لانڈرنگ کے معاملے میں جنوبی دہلی کے ادھ چینی،وسنت کنج اور مہرولی علاقوں میں واقع ہرش مندر کے تینوں ٹھکانوں پر ایک ساتھ کارروائی انجام دی۔ ہرش مندر سے وابستہ دو رضاکار تنظیموں کی مالی اور بینکنگ دستاویزوں کی جانچ پہلے سے ہی چل رہی ہے اور اس معاملے میں وہ سرکاری مشینری کے ساتھ پورا تعاون بھی کررہے ہیں۔دراصل دہلی پولیس کی معاشی جرائم سے متعلق شاخ ای او ڈبلیو نے گزشتہ فروری میں ان کی این جی او سینٹر فار ایکویٹی اسٹڈیز(سی ایس آئی)کے خلاف کیس درج کیاتھا۔ ہرش مندر اس ادارے کے سربراہ ہیں اور ای ڈی کی تازہ کارروائی اسی معاملے میں کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں تحفظ حقوق اطفال کمیشن کے رجسٹرار نے ایک شکایت درج کرائی تھی جس میں ہرش مندر کی طرف سے دہلی میں غریب اور نادار بچوں کے لیے قایم کئے گئے دواداروں ’ امید امن گھر‘ اور ’خوشی ریمبو ہوم‘ پر ضابطوں کی خلاف ورزی کا الزام تھا۔ اس معاملے میں ہرش مندر کے خلاف تعزایرات ہند کی دفعہ 188 سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔مذکورہ دونوں ہی ادارے ان بچوں کی پناہ گاہ کے طور پر سرگرم ہیں، جو فرقہ وارانہ فسادات یا دیگر مصائب میں یتیم ویسیر ہوئے ہیں۔ ہرش مندر ایسے بچوں کو ان اداروں میں رکھ کر ان کی تعلیم وتربیت اور کھانے پینے کا بندوبست کرتے ہیں، لیکن سرکاری ایجنسیوں نے ہرش مندر کا ناطقہ اس طرح بند کررکھا ہے، گویا وہ کوئی بہت غلط اور خلاف قانون کام انجام دے رہے ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں ہراساں کرنے کے لیے ان اداروں پر طرح طرح کی بدعنوانیوں کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ یہاں تک کہ انھیں بدنام کرنے کے لیے ان اداروں میں بچوں کے جنسی استحصال جیسے شرمناک الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔ ان اداروں کے مالی وسائل کی چھان بین بھی کی جارہی ہے اور انھیں طرح طرح سے پریشان کیاجارہا ہے۔

سی ای ایس بورڈ نے اس چھاپہ ماری کے بارے میں بیان جاری کرکے کہا ہے کہ’’ ہمارے ادارے کے خلاف کارروائی دراصل انسانی حقوق کے لیے ہرش مندر کی جدوجہد کو خاموش کرنے کی خاطرکی جارہی ہے۔‘‘ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ’’ گزشتہ کئی ماہ سے ہماری تنظیم دہلی پولیس سمیت حکومت کی کئی ایجنسیوں کے نشانے پر ہے۔ سرکاری اداروں سے ہر قسم کے تعاون اور مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے کے باوجود ہمارے خلاف چھاپہ ماری اورتحقیقات کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے ہمارے لیے کام کرنا مشکل ہوگیا ہے۔بیان میں مزیدکہا گیا ہے کہ ’’ہماری پوری ٹیم ہراسانی کا شکار ہے۔ ہم چونکہ غریب ترین اور حاشیہ پر پھینک دئیے گئے لوگوں کے لیے کام کرتے ہیں، اسی لیے ہمیں یہ سب بھگتنا پڑرہا ہے۔‘‘

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ای ڈی، انکم ٹیکس ،پولیس اور سی بی آئی جیسے محکموں کی کارروائیاں ہرش مندر اور ان کے اداروں تک ہی محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کے نشانے پر وہ تمام ادارے اور افراد ہیں جو حکومت پر تنقید کرتے ہیں اور سماج کے کمزور طبقوں خاص طور پر اقلیتوں کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے دنوں کئی ایسے ڈیجیٹل نیوز پورٹل کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے تھے جو حکومت کو آئینہ دکھانے کا کام کرتے ہیں۔انھیں خاص طور پر غیرملکی چندوں کے نام پرنشانہ بنایا جارہا ہے اور انھیں حق گوئی کی سزا دی جارہی ہے۔ پچھلے ہفتہ ’ نیوزکلک اور’ نیوزلانڈری ‘کے دفاتر پر بھی ایسے ہی چھاپے مارے گئے تھے۔ اسی طرح ایک آزاد صحافی رعنا ایوب کے خلاف بھی غازی آباد میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنے والی میڈیا آرگنائزیشن ’ دی وائر‘ اور اس کے سربراہ سدھارتھ وردھا راجن بھی مستقل حکومت کے نشانے پر ہیں۔ غرض یہ کہ ہر وہ شخص جو رات کو رات اور دن کو دن کہنے کی جرات رکھتا ہے ، سرکاری ایجنسیوں کی نگاہ میں سب سے بڑا مجرم ہے ۔اتنا ہی نہیں جو لوگ حکومت کے غیرجمہوری اور غیردستوری کاموں پر تنقید کرتے ہیں ، ان کے خلاف وطن دشمنی اور غداری کی دفعات کے تحت مقدمات قایم کئے جاتے ہیں۔

ہرش مندر کے خلاف حالیہ کارروائی پرملک کی اہم شخصیات نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ملک کی565 سرکردہ شخصیات نے جن میں کئی دانشور اورسرکردہ سماجی کارکن شامل ہیں ، اپنے بیان میں ای ڈی کی کارروائی کی مذمت کی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ’’ ای ڈی کی کاروائیوں کا یہ سلسلہ درحقیقت حکومت پر تنقید کرنے والوں کو خاموش کرنے کی کوشش ہے۔ بیان پر دستخط کرنے والوں میں ممبر پارلیمنٹ ششی تھرور، منصوبہ بندی کمیشن کی سابق رکن سیدہ حمید،ماہر معاشیات جین ڈریزا،سینئر ایڈووکیٹ اندرا جے سنگھ،دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروا نند، خواتین کے حقوق کی کارکن کویتا کرشنن، میدھا پاٹیکراور بمبئی کے سابق پولیس کمشنر جولیو ربیرو وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر حکومت کب تک ملک میں جمہوری آزادیوں کا گلا گھونٹتی رہے گی اور ان لوگوں کو نشانہ بناتی رہے گی ، جو اس کی عوام بیزار پالیسیوں کے ناقد ہیں۔ ایک جمہوری ملک میں حکومت کا یہ طرزعمل کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔