ہرکوئی گریہ بہ لب ہے، ہر کوئی مشکل میں ہے ـ شوکت محمود شوکت 

 

ہر کوئی گریہ بہ لب ہے ہر کوئی مشکل میں ہے

محوِحیرت ہے جنوں اور آگہی مشکل میں ہے

 

بندہ پرور ! آپ سے ملنے کا یہ اعجاز ہے

آپ سے جب سےملے ہیں ، زندگی مشکل میں ہے

 

اپنے دیوانے کی جانب اک نظر تو دیکھتے

پوچھتے یہ کون ہے اور کون سی مشکل میں ہے

 

بام پر آیا ہے کوئی کیا شبِ مہتاب میں

چاند مدھم ہو چلا ہے، چاندنی مشکل میں ہے

 

تذکرہ شوکت کروں کیا، عشق کی سوغات کا

دل بھی ہے بےتاب پیہیم ، آنکھ بھی مشکل میں ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*