ہردن نئی ہدایات گھبراہٹ کانتیجہ،دگ وجے سنگھ نےحکومت کو گھیرا

نئی دہلی:کانگریس کے سینئر لیڈر اورمدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ دگ وجے سنگھ نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے پھنسے ہوئے تارکین وطن محنت کشوں اور طلبہ کوہورہی پریشانیوں کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنایاہے۔انہوں نے الزام لگایا ہے کہ وزیراعظم خود کو طاقت ورظاہرکرنے کے لیے پہلے قدم اٹھاتے ہیں اور بعد میں اس قدم کے نتائج کے بارے میں سوچتے ہیں۔جس کی وجہ سے ہی روز روزنئی ہدایات جاری کرنے پڑتی ہیں۔دگ وجے سنگھ نے منگل کوٹویٹ میں کہاہے کہ اگر وزیراعظم کے پاس ملک گیر لاک ڈاؤن کو لے کر واضح وژن اور سمجھ ہوتی تو وہ لوگوں کو واپس لانے کے لیے کم از کم 3-4 دن کا وقت ضرور دیتے۔انہوں نے مزید لکھاہے کہ وزیراعظم کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ ایک طاقتوروزیراعظم ہیں، وہ پہلے کام کرتے ہیں اور بعد میں اپنے طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے نتیجے کے بارے میں سوچتے ہیں۔نوٹ بندی،جی ایس ٹی اور اب ملک بھر میں لاک ڈاؤن۔انہوں نے 31 جنوری 2020 سے کوئی قدم نہیں اٹھایا، جب ملک میں کوروناوائرس کا پہلا معاملہ آیا۔ اس کے 40-50 دنوں کے بعد قدم اٹھایاہے۔کانگریس لیڈر نے آگے لکھاہے کہ ا انہوں نے بغیر نئے نوٹوں کی پرنٹنگ کے 87 فیصد نوٹوں کوبند کر دیا۔ بغیرمکمل تیاری کے جی ایس ٹی لاگوکیااوربغیر ایگزٹ پلان کے لاک ڈاؤن کیا۔بھارت حکومت اب بھی مناسب ایگزٹ پالیسی کے لیے اندھیرے میں تلاش کر رہی ہے۔ روز روز جاری ہونے والی ہدایات اسی کا نتیجہ ہیں۔ اس سے بھرم پھیل رہاہے۔