حقانی القاسمی کے نام ـ محمد انصر

حقانی القاسمی کے نام ـ محمد انصر

فکر انگیز دیکھنا ہے
ولولہ خیز دیکھنا ہے
تحریر رواں دیکھنی ہے
منفرد زباں دیکھنی ہے
"رینو کے شہر میں”جانا ہے
"خوشبو روشنی رنگ” میں نہانا ہے
"طواف دشت جنوں” سے
انداز بیاں ” کی دلکشی سے
رستہ نیا بنانا ہے
تو جاؤ پھر، ملو اس سے
حوصلوں کی جان ہے وہ
مخلص و مہربان ہے وہ
نئی نسل اور نسواں کو
ادب کے ہر قدرداں کو
نئی فکر کے خزانے سے
ذاتی کتب خانے سے
تحریر کی تصحيح تک
متن کی تشریح تک
سب کچھ ہی مہیا کرتا ہے
یعنی ادب کی دنیا سے
بے لوث محبت کرتا ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*