حقانی القاسمی: ایک صحافی، ایک ادیب-ڈاکٹر منور حسن کمال

 

حقانی القاسمی ادب و صحافت کا وہ استعارہ ہیں جن کی تحریروں کے رنگ و آہنگ نے اپنے تو اپنے ،غیروں کو بھی متوجہ کیاہے۔ نئی نسل کے ممتاز قلم کاروں کا ادبی و صحافتی منظرنامہ حقانی کے تذکرے کے بغیر اپنی بے بصیرتی پر آٹھ آٹھ آنسو روئے گا۔ انھوں نے اپنی تحریروں سے ادب و صحافت کو جو وقار بخشا ہے، اس کے لیے اردو برادری ان کے احسان سے دست کش نہیں ہوسکتی۔ اب وہ نئی نسل کے پڑاؤ کو عبور کرکے قلم کاروں کے اس قافلے میں شامل ہوچکے ہیں، جن کی تحریروں سے نہ صرف روشنی حاصل کی جاسکتی ہے بلکہ وہ ادب و صحافت کے ایک خاص رجحان کے فروغ کا بھی ذریعہ بن رہے ہیں۔

حقانی القاسمی سے میرے تعلقات کم و بیش ربع صدی پر محیط ہیں۔ وہ ’اخبارِنو‘ سے ہوتے ہوئے جب ’نئی دنیا‘ کے شعبۂ ادارت میں آئے تو میں ان دنوں ’نئی دنیا‘ اور روزنامہ ’عوام‘ سے وابستہ تھا۔روزنامہ ’عوام‘ کے ادبی صفحات کی ایڈیٹنگ میرے ذمے تھی اور نئی دنیا کا تبصراتی کالم ’کتاب نما‘ پابندی سے لکھا کرتا تھا۔ یوں تو ’سرِراہے‘ حقانی سے ملاقات روزکا معمول تھا،لیکن نئی دنیا کے دفتر میں خوب ملاقاتیں ہونے لگیں، وہیںایک روز مجھ پر یہ انکشاف بھی ہواکہ حقانی بہت اچھی نظمیں بھی کہتے ہیں۔ اس زمانے میں ان کی ایک نظم روزنامہ ’عوام‘ کے ادبی صفحہ پر شائع کی تو اس کی خوب پذیرائی ہوئی، حالانکہ انھوں نے اپنے اس شوق کو خود ہی پروان نہیںچڑھایا یا ادبی اور صحافتی تحریروں نے انھیں اس کاموقع نہیں دیا، اس بارے میں راوی اور شاعر دونوں خاموش ہیں۔

حقانی کی صحافتی زبان میں جو تازگی، بلند حوصلگی اور جولانیِ فکر ہے، وہ ان کے ہم عصروں میں دور دور تک نظر نہیں آتی۔ اس لیے کہ ان کی ہر ہر سطر میں تخلیقی آہنگ کے جو نمونے ملتے ہیں اور ادبی و تنقیدی مزاج میں جو مماثلتیں پائی جاتی ہیں ان سے اردو ادب و صحافت کے وقارمیں بیش از بیش اضافہ ہوتا ہے۔ نئی دنیا میں جب وہ ’تکلف بر طرف‘ اور ’لا تخف‘ میں شامل مضامین قلم بند کررہے تھے، اسی وقت سے ادب و صحافت کی دنیا میں وہ اپنا الگ مقام بنا رہے تھے۔ پھر صلاح الدین پرویز کے سہ ماہی ’استعارہ‘ سے وابستگی کے بعد ان کے مقام و مرتبہ کو پنکھ سے لگ گئے اور وہ ادب و صحافت کی دنیا میں اعتبار کی نگاہ سے دیکھے جانے لگے۔ یہ بات تو اسی وقت مشہور ہوگئی تھی کہ سہ ماہی ’استعارہ‘ کے ہر صفحہ کی ہر ہر سطر پرحقانی کے دستخط ثبت ہیں۔اس کے مالک و مدیر صلاح الدین پرویز بے پناہ مصروفیتوں کی وجہ سے استعارہ کو زیادہ وقت نہیں دے پاتے تھے اور حقانی القاسمی ’استعارہ‘ کے با اختیار مدیر تھے۔

حقانی القاسمی کے ادب و صحافت کے اس سنہرے سفرمیں تنقید کے جوہر بھی کھل کر سامنے آنے لگے، اس لیے کہ اب ان کے پاس ایک مضبوط پلیٹ فارم ’استعارہ‘ کی شکل میں موجود تھا۔ علی الخصوص ان کے مقبول عام کالم ’حقانی تبصرے‘ نے ادبی جرائد کی دنیا کو ورطۂ حیرت میںڈال دیا۔ جو تنقیدی روش ان کے مزاج کا آہنگ تھی، اس پر انھوں نے کتابوں کے ایسے گل بوٹے سجائے کہ آج بھی تبصراتی دنیا میں اردو کتابوں کے تبصروں پر اگر کہیں گفتگو ہوتی ہے تو ’حقانی تبصرے‘ کے عنوان کے بغیر وہ گفتگو ادھوری ہی قرار دی جائے گی۔ انھوں نے اپنے جادو نگار قلم سے ایسی کرشمہ سازیاں کیں اور اپنی غیرمعمولی صحافتی بصیرت سے تبصروں کو ایسی تخلیقی روحانیت عطا کی کہ وہ تحریریں تنقیدی تبصرے نہ ہوکر ایک مکمل تخلیق کے لباس میں نظر آئے۔

استعارہ کا ایک مستقل عنوان ’بدن کی جمالیات‘ بھی تھا جس میں حقانی نے ایسے ایسے جمالیاتی پہلوؤں کی نشاندہی کی، جن پر انگلیاں اٹھنا فطری تھا، لیکن انھوں نے ہار نہیں مانی اور ’بدن کی جمالیات‘ کی روشن تعبیریں ان کے تخلیقی سفر میں چار چاند لگاتی رہیں۔ انھوں نے صرف اپنے تجربات اور مشاہدات سے اپنی تخلیقی جمالیات کو اساطیری جمالیات کے مماثل کرنے کی ممکنہ کوششیں کی ہیں۔ کہیں کہیں ان کی جمالیات پر ماہر جمالیات شکیل الرحمن کی جمالیات کا عکس بھی نظر آتا ہے اور کیوں نہ نظر آئے تخلیق جب متن سے مکالمہ کرتی ہے تو اس کے تمام جمالیاتی پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے؟ تبھی تخلیق ناقدوں کی نظر میں قابلِ اعتنا ٹھہرتی ہے ورنہ کتنی تخلیقات ایسی ہیں جو اپنے متن کی جمالیات کے باوجود ناقدوں کی نگاہ میں کسی قابل نہیں ٹھہرتیں اور اپنے بہترین اسلوب نگارش کے باوجود کاغذی ثابت ہوتی ہیں۔

’استعارہ‘ نے ادبی صحافت کو جو رنگینی اور اسلوب عطا کیا، اس نے نئی دہلی اور ہندوستان کی ادبی صحافت کو نئی راہ دکھائی اور اس کا ہر شمارہ ایک تاریخ بنتا چلا گیا۔ صلاح الدین پرویز، حقانی القاسمی اور ’استعارہ‘ کی پوری ٹیم کی پذیرائی کی جاتی رہی ہے اور یہ ضروری بھی ہے، ورنہ پوری اردو برادری اس ٹیم کی قرض دار ہوتی۔

حقانی القاسمی کی اگلی منزل راشٹریہ سہارا نئی دہلی تھی۔ ان کا تقرر سہارا کے ادبی و ثقافتی ترجمان ماہنامہ ’بزمِ سہارا‘ کے شعبۂ ادارت میں ہوا۔ ’بزمِ سہارا‘ اپنے پہلے شمارے سے ہی اردو دنیا کو اپنا گرویدہ بنا چکا تھا۔ اس وقت کے راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر عزیزبرنی نے ’راشٹریہ سہارا‘ کے مینجمنٹ ایڈیٹر سے ’بزمِ سہارا‘ کے اخراجات کے لیے خصوصی فنڈ کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا۔ ورنہ سفید گلیزڈ کاغذ پر ملٹی کلر نفیس طباعت اور دیدہ زیب جاذب نظر سرورق کے بغیر شاید ’بزمِ سہارا‘ وہ مقبولیت حاصل نہ کرپاتا، جس کے لیے اسے یاد کیا جاتا ہے۔

حقانی نے اپنی منفرد اور بے باکانہ صلاحیتوں سے ’بزمِ سہارا‘ کی مقبولیت کو مزید جلا بخشی اور یہ رسالہ کامیابیوں کی بلندیوں پر پہنچتا چلا گیا۔ ’بزمِ سہارا‘ اردو کا وہ واحد رسالہ ہے، جسے ہندوستان کی ایئرلائن میں پہنچنے کا شرف حاصل ہے۔ اپنی کامیابیوں کے دور میں کیا اس کے بعد بھی اتنا خوب صورت، جامع اور وقیع ادبی اور ثقافتی رسالہ اردو برادری پیش نہیں کرسکی ہے۔ اس میں تخلیقات کے نئے نئے عنوان بھی قارئین کو اپنی جانب متوجہ کرتے تھے۔ حقانی نے ’شہر سخن‘، ’جہانِ دانش‘، ’گہوارۂ دانش‘، ’بادۂ کہن‘، اور ’مباحثہ‘ عناوین کے تحت ’بزمِ سہارا‘ کو ترقی کی نئی منزلوں سے آشنا کیا۔ پانچ برس میں ’بزمِ سہارا‘ نے قارئین کے ذہنوں میں ایسی شمعیں روشن کیں کہ آج بھی اپنے رنگ و نور سے وہ اردو دنیا کا ایک منفرد ’شناخت نامہ‘ ہے۔ ادب و صحافت کے فروغ میں جو سنگ میل اس رسالے نے قائم کیے اس میں بزم سہارا کی ایڈیٹوریل ٹیم کے ساتھ حقانی القاسمی کی چھاپ نمایاں نظر آتی ہے۔

’بزمِ سہارا‘ کی اشاعت بند ہونے کے بعد حقانی القاسمی ہفت روزہ ’عالمی سہارا‘ سے وابستہ ہوگئے۔ اور اس کا ادبی حصہ ’باب ادب‘ ترتیب دینے لگے۔ یہاں بھی ان کی ادبی صحافت نکھری نکھری لگتی ہے۔ یوں سمجھنا چاہیے کہ ’بزمِ سہارا‘ کی اشاعت بند ہونے کے بعد ’باب ادب‘ سہارا کو قارئین کے لیے ایک تنکے کے سہارے کی طرح تھا جس میںان کی وارفتگیِ شوق کو معمولی سا سہارا مل جاتا تھا۔

حقانی القاسمی ادیب بھی ہیں اور صحافی بھی لیکن وہ اپنے نام کے ساتھ کسی ٹیگ کو پسند نہیں کرتے۔ انھوں نے خود اس بات کاا عتراف کیا ہے کہ میری حالت تو بالکل خواجہ احمد عباس کی طرح ہے کہ صحافی انھیں کہانی کار سمجھتے تھے اور ادیب انھیں صحافی….. ان کا بھی اسی طرح کا معاملہ ہے۔ ادبی حلقہ انھیں صحافی سمجھتا ہے اور صحافی برادری ادیب گردانتی ہے۔ انھوں نے یہ بات بالکل صحیح کہی ہے کہ صحافت ہو یا ادب اس کابنیادی کام سوتے ہوئے معاشرے کو بیدار کرنا ہے….. اور ادب اور صحافت دونوں ایک دوسرے سے باہم پیوست ہیں۔ دونوں میں ایک داخلی ربط ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ صحافت میں خبر پر ارتکاز ہوتا ہے اور ادب میں نظر پر….. اسی طرح یہ بات بھی حقیقت ہے کہ بغیر ادبی شعور کے اچھی صحافت ممکن نہیں ہے اور بغیر صحافتی بصیرت کے اچھے ادب کی تخلیق دشوار ہے۔ انگریزی اور اردو صحافت سے متعلق حقانی کا خیال ہے کہ انگریزی صحافت قاری کو اپنی سطح پر لانے کی کوشش کرتی ہے اور اردو صحافت قاری کی سطح پرا تر جاتی ہے جس کی وجہ سے اردو صحافت کا معیار مجروح ہوتا ہے۔

شاہدالاسلام کی صحافت پر کتاب ہم عصر صحافت… پر گفتگو کرتے ہوئے حقانی القاسمی لکھتے ہیں:

’’شاہد الاسلام نے ’جذباتی معروضیت‘ کے ساتھ صحافت کے جملہ عناصر و عوامل کا تجزیہ کیا ہے۔ جذباتیت اور معروضیت کے متضاد رشتوں کو بڑی خوب صورتی سے مربوط کیا ہے۔ مسائل کے تجزیے میں جتنی معروضیت ہے بیان میں اتنی ہی جذباتیت۔ یہ ہنر بہت لوگوں کو نصیب ہے۔ ورنہ صحافت سے جڑے ہوئے بیشتر افراد جذباتیت میں الجھ کر معروضیت کادامن چھوڑ دیتے ہیں۔ صحافت کا سماجیات، لسانی مذہبی تعصبات، مالکوں کے منفعت پسندانہ مزاج، ملازمین کا استحصال، اخبارات کے مذہبی جنون، فرقہ وارانہ خطوط پر صحافت کی تقسیم، قاری کی کمی اور صحافت کی اشتعال انگیزی، سرکولیشن اور نظام تقسیم کے حوالے سے لکھتے ہوئے بھی معروضی اور منطقی انداز اختیار کیا ہے اور ہر ایک بات دلائل و شواہد کے ساتھ کہی ہے۔‘‘

اس تبصراتی مضمون میں حقانی نے ’جذباتیت اور معروضیت‘ جیسے الفاظ سے شاہد الاسلام کی جس انداز میں توصیف کی ہے، اس کو سمجھنے والے بہت دور کی کوڑی سے تعبیر کرتے ہیں۔

حقانی القاسمی اردو زبان کی خوش بختی کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی بتاتے ہیں کہ اردو زبان معاش سے مکمل طور پر مربوط نہیں ہے۔ پھر بھی اس دشت میں بہت سے قیس اور کوہ میں بہت سے فرہاد ہیں جو نفع و ضرر اور سود و زیاں کی پروا کیے بغیر اردو زبان و ادب کے وجود کو استحکام بخش رہے ہیں اور اردو کوعالمی ادبیات کے مقابل لارہے ہیں۔

انھوں نے معروف ناقد و ادیب ڈاکٹر انور سدید (پاکستان) کے حوالے سے ادبی رسائل کے مقاصد کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ اس کا بڑا مقصد علوم نو کا تعارف اور علوم قدیم کی بازیافت، نظریات، ادب کی اشاعت، فکری رجحانات کی افزائش ادبی تحریکوں کا فروغ اور فنی تخلیقات کی پیش کش ہے۔ ادبی رسالے کا مقصد ادبا کی تخلیقی اور ذہنی کروٹوں کو فن پاروں کی صورت میں پیش کرنا اور مستقبل کے ادوار کے لیے محفوظ کرنا بھی ہوتا ہے۔ ادبی رسالہ نئے لکھنے والوں کی ذہنی تربیت کرتا ہے اور پرانے لکھنے والوں کے ذہن کو جلا اور مزید غور و فکر کی دعوت دیتا ہے— ادبی صحافت کے اثر و عمل کا دائرہ وسیع ہے اور ادبی رسائل وجرائد میں مختلف ادوار کی ذہنی اور فکری تاریخ ہی محفوظ نہیں ہوجاتی، بلکہ مختلف ادوار میں پروان چڑھنے والی تحریکوں اوررجحانات کاا حوال بھی رقم ہوتا چلا جاتا ہے اور اسے مستقبل میں سماجی تجزیہ اور تہذیبی تحلیل میں بھی معاونت ملتی ہے۔ اس لحاظ سے ادبی رسالے کو ایک ایسا اہرام سمجھیے جس کے باطن میں ایک دور کی سماجی، معاشرتی، فکری اور تخلیقی کروٹیں محفوظ ہوجاتی ہیں۔ (معاصر ادبی صحافت: حقانی القاسمی بہ حوالہ مخزن، لندن 5)

حاصل کلام یہ ہے کہ اردو کی ادبی صحافت اپنی کم مائیگی اور وسائل کی کسی نہ کسی سطح پر عدم دستیابی کے باوجود برابر پروان چڑھ رہی ہے۔ ملک کے بہت سے بڑے شہروں سے معیاری ادبی رسائل شائع ہورہے ہیں اور اپنی اپنی سطح پر اردو کی ادبی صحافت کے بہترین مستقبل کی کلید بھی ہیں جس سے اردو کی ادبی صحافت کے وقار میں اضافہ ہورہا ہے اور معیار و مزاج بھی اپنے نئے نئے زاویوں کے باوصف قبول عام کی سند سے سرفراز ہورہا ہے۔ اس کو اردو کی صحافت کے لیے خوش آئند علامت کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

حقانی القاسمی نے ادبی صحافت کے حوالے سے بہت سے مضامین لکھے ہیں اور بہت سے اہم نکات کی طرف اشارے بھی کیے ہیں ان کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*