حقانی القاسمی: ادیب اور تنقید نگار-مسعود جاوید

اگر یہ کہا جائے کہ یہ دور اُردو رسم الخط اور اردو زبان و ادب کا دور انحطاط ہے تو شاید غلط نہیں ہوگا۔ اس زبوں حالی کی متعدد وجوہات ہیں۔ ان وجوہات میں ایک بڑی وجہ دوسری زبانوں کی بہ نسبت اردو کے تئیں حکومت کا سوتیلا سلوک ہے۔ گرچہ اب تک اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے انجمن ترقی اردو ، قومی کونسل برائے فروغ اردو اور اردو اکیڈمی جیسے کئی ادارے حکومت کی سرپرستی اور مالی امداد سے چل رہے ہیں۔ حکومت سیمینار سمپوزیم اور مشاعروں کے لئے فنڈ بھی فراہم کرتی ہے۔ مگر اردو رسم الخط، اردو زبان اور اردو ادب کی بقا دستور میں دی گئی ضمانت کے مطابق اس زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے میں مضمر ہے۔ اردو زبان کی بقا ان اسکولوں میں جہاں دس فیصد اور اس سے زائد اردو پڑھنے والے طلبہ ہوں وہاں کے نصاب تعلیم میں اردو شامل کرنے، ٹیچرس کی تقرری کرنے اور نصاب کی اردو کتابیں بروقت فراہم کرانے میں ہے۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا اردو زبان روزگار اور اعلیٰ تعلیم کی زبان نہیں بنے گی۔ اور جو زبانیں job oriented ہوتی ہیں انہی کا اقبال ہوتا ہے۔ شوق سے پڑھنے والوں کی تعداد ہر روز کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے۔ اردو شعر وادب سے شغف رکھنے والے اس نسل میں انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، اس لئے کہ اسکول میں اردو کی بنیاد سے یہ نسل محروم رہی اور بہت کم ایسے محبین اردو ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو گھر پر اردو پڑھانے کے لئے خصوصی اتالیق مقرر کیا ہو۔
ہندوستان میں اردو کے ساتھ ایک اور پیچیدگی یہ ہے کہ اردو زبان و ادب میں اچھی خاصی دسترس رکھنے والے عموماً مدارس کے فارغین وہ لوگ ہیں، جنہوں نے خارجی مطالعہ کو بھی اہمیت دی اور درجۂ کمال تک پہنچےـ ایسے لوگ اردو کے سرکاری اداروں میں حسب صلاحیت و لیاقت مناسب عہدوں پر فائز ہونے کے اہل قرار نہیں دیے جاتے، اس لئے کہ ان کے پاس مطلوبہ ڈگریاں نہیں ہوتیں۔ اس قبیل کے لوگ معمولی تنخواہوں، عارضی ملازمتوں اور کنٹریکٹ بیس پر ان اداروں کے ڈگری ہولڈرز افسران کی خدمت کرتے ہیں۔
اردو زبان کی مختلف اصناف؛ ادبی تخلیقات، نظم و نثر، افسانے، ناول، خاکے، سوانح حیات، یاد داشتیں، سماجی پہلو لیے ہوئے سیاسی مضامین اور ڈراموں کا تنقیدی جائزہ لینے کی بھر پور صلاحیت اسی نقاد کے اندر ہوتی ہے جس کی گرفت زبان پر بہت مضبوط ہو۔ جس کا معاشرے میں موجود مختلف طبقات سے اختلاط اور مطالعہ کے نتیجے میں ان کے رسم و رواج کا گہرا مشاہدہ ہو۔ حالات حاضرہ سے بخوبی واقف ہو اور ماضی کی تاریخی اہمیت کے حامل واقعات کا علم ہو،جبھی وہ کسی ناول کی تنقیدکے ساتھ انصاف کر سکتا ہے۔ جس نے انسانی تجربات اور مشترکہ خاندان کے بکھرنے اور نیوکلیئر فیملی کے وجود میں آنے کے مثبت اور منفی پہلو کو محسوس کرتا ہو۔ لوگوں کے مابین سیاسی، سماجی اور معاشی روابط اور بنتے بگڑتے رشتوں کا کچھ تجربہ اور کچھ مشاہدہ کی شکل میں استیعاب کیا ہو۔
حقانی القاسمی صاحب تقریباً مذکورہ بالا تمام صفات کے حامل ہیں ـ وہ سرکاری اداروں میں ملازمت کی پیچیدگی کے شکار بھی ہوئے اور تنقید نگاری کے لئے لازمی اجزاے ترکیبی ingredients کچھ تو ان کے اندر ودیعت تھیں اور کچھ کسبی ہیں۔ دارالعلوم دیوبند میں دوران قیام خارجی مطالعہ کے توسط سے انہیں اردو زبان و ادب لکھنے پڑھنے کا شوق ملا، اردو زبان پر اچھی گرفت بنی،اردو ادب سے شغف ہوا، اس کے بعد دانش گاہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پروفیسر شہریار کی رہنمائی اور آئیڈنٹیٹی کارڈ ونمرتا کے خالق صلاح الدین پرویز کی شیر و شکر والی رفاقت نے انہیں اردو ادب کے بحر ذخار میں غوطے لگا کر گہر افشانی کا ایسا عادی بنا دیا کہ پھر انہوں نے دنیا و مافیہا سے بے خبر کتابوں کی بستی میں بسیرا کر لیا، مگر پھر فکرِ معاش، عشقِ بتاں،یادِ رفتگاں کی حقیقی دنیا میں آنے پر مجبور ہوئے، تو علی گڑھ سے دہلی کا رخت سفر باندھا، مگر یہاں ہم عصر کولیگس کی طرح بہت دنوں تک تعلیمی سفر جاری رکھنا دشوار ہوتا گیا اور اس طرح سلسلہ منقطع ہو گیا۔ ایک بہت ہی شریف الطبع، متواضع،نام و نمود سے دور ایسا خاکسار انسان، جو اپنے آپ کو اپنی صلاحیتوں کے ساتھ پریزینٹ کرنے میں جھجکتا ہے، دوسرے بات کریں وہ بھی پسند نہیں:
وسیم ذہن کی خودداریاں بھی عجیب شئ ہیں
برا سا لگتا ہے جب کوئی رائے دیتا ہے
کرائے کے دو کمروں کے چھوٹے سے فلیٹ میں سے ایک کمرہ فیملی کے لئے اور ایک حقانی صاحب کے لئے مخصوص ہے، جس میں ہم جیسے ملنے والوں کے لئے بیٹھنے کی جگہ کم اور کتابوں کے لئے زیادہ ہوتی ہے۔ ہر طرف کتابیں ہی کتابیں۔ شیلف کافی نہیں تو فرش پر پڑی ہیں۔
مغربی ممالک میں تنقید نگاروں کی قدردانی اس لئے بھی ہوتی ہے کہ کتاب چھپنے سے پہلے بڑے ناشر کتاب کا مسودہ تنقیدی تبصروں کے لئے تنقید نگار کو دیتے ہیں،اس کے تبصرے اخبارات میں شائع ہوتے ہیں اور قارئین اپنی رائے بناتے ہیں، اس طرح بک اسٹال پر آتے ہی کتاب کے سینکڑوں نسخے روز اول ہی میں فروخت ہو جاتے ہیں اور کتاب بیسٹ سیلر کے زمرے میں آ جاتی ہے۔ ہمارے یہاں کتاب کی اشاعت کے بعد ناشرین کم ہی، مصنفین اور مؤلفین اپنی بعض کتابیں اخبارات کو تنقید کے لئے بھیجتے ہیں،ویسے تو یہ بہت ذمے داری کا کام ہے لیکن بعض اخبارات کسی بھی ادیب سے تنقیدی تبصرہ لکھا کر شائع کر دیتے ہیں، خواہ وہ ادیب کتاب کے فلسفیانہ مضمون کا کما حقہ احاطہ کرنے کا اہل ہو یا نہ ہو۔
ایک اچھے تنقید نگار کی پرکھ ہم جیسے کم مایہ لوگ نہیں کر سکتے، تاہم ایک پرکھنے کا ایک پیمانہ یہ بھی ہے کہ اس تنقید نگار کی رائے جاننے والوں کے متمنی کس قسم کے شاعر،ادیب، افسانہ نگار، ناول نگار مصنف و مؤلف ہیں۔
حقانی القاسمی صاحب کے ادبی مقام کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب عمر کی تفاوت کے باوجود مجتبیٰ حسین صاحب کی حقانی صاحب سے فون پر گفتگو سنی۔ کتنے معتبر تنقید ‌نگار ہیں اس کا اندازہ تو ملک و بیرون ملک سے ان کے پاس آنے والی کتابوں سے ہوا، مگر اس خامہ فرسائی میں ان کی تخلیقات، ادبی شہ پاروں کا ذکر رہ گیا جو کبھی آئندہ ان شاء اللہ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*