حنیف ترین-ایک البیلا شاعر-محمدشرافت علی

 

فون نمبر:9711008414

urdu.author@gmail.com

حنیف ترین(یکم اکتوبر 1951-3دسمبر2020)نے شناخت کے بحران کو دورکرنے کیلئے میدانِ شاعری کو چنا اور ان کی یہ خوش قسمتی رہی کہ40-50 برسوں کی شاعرانہ ریاضت اورتپسیاکے بعدوہ ایک نامور شاعر کی حیثیت سے اپنی شناخت بنانے میں کامیاب بھی رہے۔بہ قول خود موصوف ’جگاڑبندی‘کے ماہر تھے، لیکن جومعراج شاعری کے حوالے سے انہیں حاصل ہوئی،وہ صرف ’جگاڑبندی‘ کانتیجہ ہر گز نہیں،بلکہ شعرگوئی کے اسرار و رموز سے آگہی کے ساتھ فن شاعری پراِن کی گرفت کا کرشمہ ہے کہ انہیں عہد حاضر کے منفردشاعروں کی صف میں مناسب جگہ بھی ملی اورشعورنقدسے آراستہ قلمکاروں نے اِن کی شاعرانہ عظمت کو تسلیم بھی کیا۔ یوں تو70کے دہے میں انہوں نے شاعری شروع کی،مگردلی جذبات کے اظہارکا سلیقہ اور شاعری کے فن کوبرتنے کاشعور اُن میں تیزی کے ساتھ تواناہوتاگیا،جس کی وجہ سے شاعری کو وسیلہئ اظہار بنانے کی ان کی ادبی کوشش بارگاہِ شاعری میں بہت جلدقبول یاب ہوتی چلی گئی۔یوں دیکھتے ہی دیکھتے شاعرانہ فن کاری اور ادیبانہ ہنرمندی کی وجہ سے موصوف اپنے عہد کے شہرت یافتہ شاعروں کی صف میں شامل ہوگئے۔ اپنے مخصوص طرزِ ادا اور منفرد جذبات کے سہارے انہوں نے تقریباً5دہائیوں تک اردو کے شعری ایوان میں شمع جلائے رکھی۔ اس دوران درجن سے زائدشعری مجموعوں کی اشاعت بھی ہوئی، درجنوں صاحبان ادب نے موصوف کے شاعرانہ محاسن کی نشان دہی بھی کی، اعلیٰ پایے کے ناقدین نے ان کی شاعری کی تفہیم کوضروری بھی سمجھا اور ساتھ ہی ساتھ ’من تراحاجی بگویم تومرا حاجی بگو‘کی روایت کو مستحکم کرنے والوں نے مفاداتِ خصوصی کے حصول کی خاطرزمین و آسمان کے قلابے بھی ملائے۔چنانچہ کچھ ایسی تحریریں بھی منصہ شہود پر آئیں جن پر بعضوں نے تحفظات کا اظہاربھی کیا۔ اِن تمام سرگرمیوں سے قطع نظرحنیف ترین نے جو شعری سرمایہ چھوڑا ہے، وہ مقداری و معیاری لحاظ سے خاصا ہے اور اس کی بنیادپریہ رائے قائم کرنے کی پوری گنجائش موجود ہے کہ حنیف ترین کی شعری کائنات کامطالعہ کرنے اور ان کی شاعرانہ فنکاری کو بیان کرنے کی جوبھی سعی اب تک کی گئی ہے،اُسے کوڑے کا ڈھیر کہہ کرمستردنہیں کہاجاسکتا۔

حنیف ترین نے شناخت کے بحران کودورکرنے کیلئے اردو شاعری کو گلے لگایا، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کااظہار انھوں نے خود بھی کیا ہے، لیکن سستی شہرت کی خاطرانہوں نے شاعری کے نام پر صرف ’تک بندی‘ نہیں کی،بلکہ انہوں نے مخصوص پیرایہئ اظہار کو منتخب کیا، جسے ہم جذباتی شاعری، ملّی شاعری، اسلامی شاعری، انقلابی شاعری یا انسانی شاعری کے الگ الگ خانوں میں رکھ کر’حنیف شناسی‘ کے عمل سے گزرسکتے ہیں۔

حنیف ترین کوعہدحاضر کا علامہ اقبال توہم نہیں کہہ سکتے لیکن یہ ضرورکہااور سمجھاجاسکتاہے کہ سوئی ہوئی ملت کو جگانے، خوابیدہ شعور کو بیدار کرنے،یاس ومحرومی کو دورکرنے اور تعمیری سوچ کو نمایاں کرنے کی انھوں نے ایسی کوشش ضرور کی جو فکر سے عاری بالکل نہیں۔ حنیف ترین کی شاعری پر ناقدانہ نگاہ رکھنے والے صائب الرائے افراد انھیں کس نظریے سے دیکھتے ہیں،اس سے ہمیں زیادہ سروکار نہیں۔صرف اس وجہ سے نہیں کہ اردو ادب کا تنقیدی باب مصلحتوں کا زیادہ اسیررہاہے، حقیقت پسندکم دکھائی دیتا ہے بلکہ اس بنا پر بھی کہ حنیف ترین کی رحلت کے بعد انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کی جو کوشش کی جارہی ہے، یہ تحریر فی الواقع اسے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

کسی بھی شاعر کو سمجھنے میں ناقدینِ ادب کے ’سکہ بند‘نظریات و خیالات کی تب زیادہ اہمیت ہوتی ہے،جب شعری محاسن کی تلاش کے درمیان فن کی کسوٹی پرکسی کی شاعری کو پوری ایمانداری و دیانت داری کے ساتھ پرکھنے کی کوشش ہوتی ہے،اس کے برخلاف تاثراتی تحریروں کا معاملہ قدرے مختلف ہوتا ہے،جس میں فردکی شخصیت لکھنے والوں کے اعصاب کو اپنے قبضہ میں لے چکی ہوتی ہے، یوں ’تعلقِ خاص‘کو نباہنے کی رسم باقی رہ جاتی ہے،حقیقت بیانی کا عنصر بسااوقات غائب ہوجاتاہے۔ویسے بھی یہ روایت رہی ہے کہ جب کوئی شاعر ہمارے عہد سے رخصت ہوجاتاہے توخراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اچھی یادوں کے تذکرے کیے جاتے ہیں اور بری باتوں پر پردہ ڈالا جاتا ہے۔ لہٰذا یوں سمجھ لیجئے کہ کاغذپر سیاہی پھیرنے کی یہ سعی اِسی سنت کی تجدید ہے۔

ایک شاعرسے ایک صحافی کا زیادہ تعلق تونہیں ہوسکتا کہ دونوں کا میدان الگ الگ ہے، تاہم دونوں میں قدرے مشترک پہلویہ ہے کہ شاعر بھی جذبات کے اظہار کے لیے الفاظ کا سہارا لیتا ہے اور ایک صحافی بھی صورت حال کو بیان کرنے اور حقائق کو منظرعام پر لانے کے لیے الفاظ کے سہارے روزانہ چشمہ کھودتا ہے۔ یہی وہ قدر مشترک پہلو ہے جسے ادائیگیئ رسم بھی کہاجاسکتا ہے۔

حنیف ترین تقریباً تین دہائیوں تک سعودی عرب میں مقیم رہے۔ ملازمت بھی وہیں کی، شاعری بھی اسی پاک سرزمین سے منظرعام پرآتی رہی اور دنیائے اردو ان کی شاعری سے لطف اندوز ہوتی رہی۔ جب موصوف وطن واپس ہوئے اور دہلی کو سکونت کے لیے منتخب کیا تو فطری طور پر یہاں کے شعراوادبا اور قلم کاروں سے ان کے روابط استوارہونے لگ گئے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے، پہلی بار موصوف کا ایس ایم ایس (پیغام) ان کے شعری مجموعہ کے اجراکے حوالے سے موصول ہوا، جس میں انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ تقریب اجرا میں شرکت کروں۔

ایوان شاعری میں حنیف ترین کا نام چونکہ جگمگاتارہا تھا، جس کی وجہ سے یہ خواہش ہوئی کہ اس موقع پر شریک تقریب ہوکر حظ اٹھایا جائے، مگر دیگرمصروفیت کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہوسکا۔ بات آئی گئی ہوگئی۔ پھر کچھ دنوں کے بعد ایسا ہی کوئی دوسرا موقع آیا، پیغام موصول ہوا مگرپھر پہلی جیسی کیفیت سے گزرناپڑا۔یعنی شریک تقریب نہ ہونے کا قلق۔وقت گزرتارہا اور حنیف ترین کے پیغامات کی آمد کا یہ سلسلہ ٹیلی فونک گفتگو تک وسیع ہوگیا۔ ہربار آئندہ کسی ملاقات کی یقین دہائی کے ساتھ یہ سلسلہ منقطع ہوجاتا لیکن ایک عددملاقات بھی بغیرکسی معقول وجہ کے نہ ہوسکی۔

2016میں جب میری دوسری کتاب ’سفرخامہ‘ منظرعام پر آئی تو ’تنقید بھی، تحسین بھی‘ کے مؤلف کی خواہش مجھے حنیف ترین کے کلینک تک کھینچ لے گئی۔ دراصل چھٹی کی ایک شام کے صحیح استعمال کے تحت موصوف سے پہلی ملاقات ہوئی، جسے رسمی طور پرآخری ملاقات بھی کہاجاسکتا ہے۔ موصوف نہایت ہی خندہ پیشانی سے ملے، مصافحہ و معانقہ کے ساتھ ساتھ تصویرکشی بھی کی، جو موصوف کا محبوب مشغلہ کہا جاتا ہے۔ کچھ ہی دنوں کے بعد یہ حسن اتفاق ہے کہ خاکسارکی پہلی تصنیف(دہلی میں عصری اردو صحافت:تصویرکا دوسرارخ) کو دہلی اردواکادمی نے انعام سے نوازنے کا فیصلہ کیا اور ایوارڈ وصولی کیلئے ناچیز کو مدعوکیا گیا۔ تقریب میں شرکت کی غرض سے جب جانا ہوا تو پتہ یہ چلا کہ حنیف ترین صاحب بھی اپنے کسی مجموعہ کے لیے ایوارڈ سے نوازے جانے والے ہیں۔ موصوف دہلی سکریٹریٹ کی تقریب گاہ میں ملے، خندہ پیشانی کاوہی جذبہ یہاں بھی دیکھنے کو ملا، لیکن اردو اکادمی دہلی کے ذمہ داروں اور دہلی سکریٹریٹ کے عملوں سے وہ حددرجہ ناراض نظر آئے۔ کچھ دیر کی گفتگو کے دوران پتہ یہ چلا کہ تقریب گاہ میں ایوارڈیافتگان کے لیے نشستیں مخصوص کرنے کا جو طریقہ اپنایاگیاتھا، بدقسمتی سے حنیف ترین صاحب کی ’تذلیل‘کایہ سبب بن رہا تھا۔ابجدی ضابطہ کے تحت سینئراورجونیئر کی تمیز کے بغیر ایوارڈ یافتگان کے نام کرسیوں پرچسپاں کردیے گئے تھے اور بدقسمتی سے حنیف ترین کا نام بالکل دائیں جانب آخری کرسی پر چسپاں تھا۔ جب کہ ان سے نہایت جونیئر افراد سامنے کی کرسیوں پر تشریف فرماتھے۔ موصوف کو یہ محسوس ہوا کہ دہلی اردو اکادمی اور دہلی سکریٹریٹ کے عملوں کو سینئر اورجونیئر کی تمیز نہیں، بڑے اور چھوٹے کا پتہ نہیں۔ چنانچہ تقریب گاہ میں موصوف نے احتجاج کابگل بجادیا۔

حنیف ترین کی شاعری کوجولوگ’احتجاجی شاعری‘کے طور پر سمجھتے رہے ہیں، وہ سمجھاکریں، ناچیز نے ان کی شخصیت کو جس طرح سے سراپااحتجاج کا سرچشمہ ہوتے ہوئے دیکھا،اسے لفظوں میں بیان نہیں کیاجاسکتا۔ موصوف نہ صرف یہ کہ بپھرگئے بلکہ جو بھی انھیں سمجھانے آتا، وہ اس کی کلاس لیتے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہا جب تک کہ پروگرام شروع نہ ہوا۔ آخرمیں تقریب کے منتظم اعلیٰ کو منت سماجت کرتے دیکھا گیا۔ تب بڑی مشکل سے موصوف اپنی نشست پربراجمان ہوئے۔ کچھ دیر ہی یہاں انھوں نے کرسی کو تکلیف دی۔ نام پکارنے اورایوارڈ دینے کا سلسلہ شروع ہوا تو موصوف نے بھی دوسرے ایوارڈ یافتگان کی طرح مومنٹو، سند اور چیک وصول کیا اور اس کے بعد جو ہوا وہ سب سے زیادہ پرلطف اورقابل دید منظرتھا۔

اس پروگرام میں دہلی کے ڈپٹی وزیراعلیٰ منیش سسودیا کو مہمان ذی وقار یا مہمان خاص کے طورپر شرکت کرناتھی۔ تقریباً دوگھنٹے تک ان کی وجہ سے پروگرام کے آغاز میں تاخیر بھی ہوئی مگرپھربھی انھیں اردو والوں کی اس تقریب میں شرکت گوارہ نہ ہوئی۔ دو’گرگوں‘ یعنی دووزرا ء کی بہرحال شرکت ہوئی،جن کے دست(نا)مبارک سے ایوارڈتقسیم کیے گئے، جن کا ادب، شاعری اور فن سے یوں تو کوئی واسطہ اورتعلق نہیں تھالیکن دہلی سرکار کافریضہ انھوں نے بہرحال انجام دیا۔ تقریب جاری تھی، اسی درمیان حنیف ترین اپنی نشست سے اٹھے اور بلاکسی جھجک کے اسٹیج پرنمودارہوگئے اور ڈپٹی وزیراعلیٰ کی جوکرسی خالی تھی، اس پر نہایت شان کے ساتھ بیٹھ گئے اور اس وقت تک بیٹھے رہے، جب تک تقسیم اسناد کا یہ پروگرام اپنے اختتام کو نہ پہنچا۔ دہلی اردواکادمی کے وائس چیئرمین جناب شہپر رسول اور دوسری ممتازہستیوں نے ’نوآورد‘ مہمان کا مسکراکر استقبال کرنا ضروری سمجھا۔ شاید یہ سوچ کر کہ اگر مرحبا نہ کہا گیا تو یہ اسٹیج کہیں ’مزاحمتی اسٹیج‘ میں نہ بدل جائے!

جہاں تک یاد آتا ہے کہ حنیف ترین نے مائک چھین کرحاضرین کو مختصر خطاب بھی فرمایا۔ دہلی اردو اکادمی و سکریٹریٹ کے عملے اس دوران ایک طرح سے بے بس بنے رہے۔ یہ واقعہ اس وجہ سے بیان کیاگیا تاکہ یہ سمجھاجاسکے کہ احتجاج یا مزاحمت کا مادہ موصوف میں کس قدر غالب یاتواناتھا۔ دراصل حفظ مراتب کا خیال رکھنا شانِ ادب کا بھی تقاضہ ہے اور چونکہ ابجدی ضابطے کی وجہ سے یہ شان ادب مجروح ہورہاتھا، چنانچہ حنیف ترین نے مزاحمت کی آواز اسی جرأت کے ساتھ بلند کی، جس طرح ہم اورآپ ان کی مزاحمتی شاعری سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں۔

حنیف ترین کی شاعری صرف مزاحمتی شاعری بھی نہیں ہے بلکہ وطن عزیز کی سوندھی مٹی کی خوشبو بھی ان کے یہاں نمایاں طور پر سونگھی جاسکتی ہے۔ یہ جذبہ یوں ہی پیدا نہیں ہوا بلکہ اپنی مٹی سے محبت ہمارے پرکھوں کی روایت رہی ہے۔بقول حنیف ترین ان کے خاندان کے بزرگ مجید خاں صاحب کو1857کی تحریک آزادی کے بعد انگریزوں نے بغاوت کے ’جرم‘ میں سنبھل کے قریب نرولی میں توپوں سے اڑا دیا تھا۔حنیف ترین خود بتاتے ہیں کہ ان کے والد،چچااوراُن کے ابا میاں عبد القیوم خان سبھی مجاہدین آزادی تھے اورجنرل شاہنواز خان کے سپاہی تھے۔ایسے گھرانے میں ان کی پیدائش کا فطری اثرتو ہونا ہی تھا۔ ’گلستاں‘ و’بوستاں‘ جیسی کتابوں سے شغف رکھنے والی والدہ کی گودمیں پلنے والے حنیف ترین پہلے رام پورمیں جماعت اسلامی ہند کے ادارہ ’درس گاہِ اسلامی‘ بھیج دیے گئے۔پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ’منٹو سرکل اسکول‘ میں ان کا داخلہ ہوا۔یہیں سے انہوں نے ہائی اسکول کاامتحان پاس کیا،انٹر بھی یہیں سے کیا۔بچپن سے ان کی خواہش تھی کہ وہ میڈیکل کریں گے اور کشمیر سے کریں گے۔یہی وجہ رہی کہ علی گڑھ اور آگرہ میں سلیکشن کے باوجود میڈیکل کی تعلیم کے لیے یہاں داخلہ نہ لے کر انہوں نے اپنے والدسے ضد کی کہ انہیں سنٹرل گورنمنٹ سے نامزد کروا کر کشمیرسے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کی سہولت دی جائے۔دھن کے پکے حنیف ترین کی ضد کااثر یہ ہوا کہ ان کے والد بزرگواراپنے سیاسی تعلقات کی بنیاد پر آنجہانی اندرا گاندھی کے پرائیوٹ سکریٹری سے ملے۔یوں جنرل شاہنواز خان انہیں لے کر کشمیر گئے جہاں 1970میں انہیں ایم بی بی ایس میں داخلہ ملا،جہاں سے انہوں نے میڈیکل کی تعلیم مکمل کی، پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم ڈی بھی کیا۔

ایک طبیب و معالج کے طورپراعلیٰ ترین ڈگریوں سے نوازے جانے والے حنیف ترین علی گڑھ میں ڈیموسٹریٹر بھی مقرر ہوئے، لیکن یہ ان کی آخری منزل نہیں تھی۔یہی وجہ رہی کہ انہوں نے علی گڑھ سے سعودی عربیہ کارُخ کیا اور بہ طور معالج انہوں نے اپنی زندگی کی 30 سے زائد بہاریں اس مقدس سرزمین پر گزار دیں۔

چونکہ ہائی اسکول تک اردوزبان سے موصوف کاسیدھاتعلیمی رشتہ رہا،علی گڑھ کا اردو دوست ماحول اس تعلق کو مہمیزکرتاگیااورپھر وادیئ کشمیر سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کاانہوں نے فیصلہ کیا،جہاں اُن دنوں اُردویوں بھی’سکہئ رائج الوقت‘ کے طوپر مستعمل تھی،جس کی وجہ سے اردواِن کی گھٹی میں رچ بس گئی۔ گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ اردوسے یہ تعلق مزید مستحکم ہوتاچلا گیا اور زمانہئ طالب علمی میں ہی شعرگوئی کاسلسلہ انہوں نے شروع کردیا۔ ایم بی بی ایس کی تعلیم کے دوران میڈیکل کالج سری نگر میں جب ڈاکٹروں نے وظیفہ میں تخفیف کے خلاف احتجاج کی آواز بلند کی توحنیف ترین نے ایک مزاحیہ نظم لکھ ڈالی ’ڈاکٹربے چارہ‘۔ نظم کے خالق کوصورتحال کی عمدہ ترجمانی پربھر پوردادملی اور یوں میڈیکل میں زیر تعلیم نوخیز’حنیف شاہ خان‘نے یہ محسوس کیا کہ اگر زندگی میں شہرت و ناموری حاصل کرنی ہے تواس کیلئے شاعری کی جانب باضابطہ قدم بوسی ضروری ہے۔

اس طرح وادیئ کشمیر سے حنیف ترین کی شاعری کاباضابطہ آغاز ہوا اورپھر آگے چل کر عرب کی مقدس سرزمین سے صحیح معنوں میں ان کی شاعری پروان چڑھی اوردنیائے ادب کو اپنی جانب متوجہ ومائل کرتی چلی گئی۔ حالانکہ ابتدا میں کمال احمد صدیقی نے شاعری میں اصلاح سخن کا فریضہ انجام دیا مگربعد کو کبھی انہوں نے کبھی کسی استاد سے اصلاح لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

شیر کشمیر شیخ عبداللہ ہوں یاحامدی کشمیری،کمال احمد صدیقی ہوں یا کشمیرسے تعلق رکھنے والی اُس عہدکی دوسری ممتاز شخصیتیں،جس نے بھی جواں سال’حنیف شاہ خان‘کوسنااُن کے کلام کو سراہا۔’حنیف شاہ خان‘جب پوری طرح ’حنیف ترین‘بن گئے تو گوپی چند نارنگ ہوں یا شمس الرحمن فاروقی، وزیرآغاہوں یاشمیم احمد شمیم یادوسری فاضل ہستیاں،سبھوں نے ان کی شعری خدمات کاکھلے دل سے اعتراف کیا۔سابق صدرجمہویہ اے پی جے عبدالکلام سے لے کرسابق وزیر اعظم آئی کے گجرال تک ایسی کئی عظیم ہستیاں شامل ہیں،جنہوں نے موصوف کی کتابوں کا اپنے مبارک ہاتھوں سے اجرا کیا۔

غرض کہ عہدحاضر کے شاعرہوں یا ادیب، ناقد ہوں یا مبصر،مضمون نگار ہوں یا مقالہ نگار،ہرایک گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے حنیف ترین کی شعری صلاحیتوں کا برملااظہارکیا ہے۔

حنیف ترین کی شاعری کے حوالے سے جو قابل ذکر نکتہ ہمارے پیش نظر ہے، وہ یہ کہ وہ امیدوں کا دیاروشن کرتے ہیں، جدوجہد کو نئی منزلوں سے آشناکرنے کی دعوت دیتے ہیں، مایوسیوں اورنا امیدیوں کو دفن کرتے ہیں اور سب سے بڑھ یہ کہ بہ زبان شاعری موصوف انقلاب کا بگل بجاتے ہیں۔ ایسا انقلاب نہیں، جو کھوکھلے نعروں کو سجانے کا کام کرے، بلکہ ایساانقلاب جو مظلوموں کو حصولِ انصاف کے لیے متحرک کرے، مقتولین کے ورثاکو قاتلوں کے گریبان پکڑنے کاحوصلہ دے، حق تلفی کے شکار لوگوں کو اپناحق چھیننے کی دعوت دے، نقض امن برپا کرنے والوں سے امن پسندکو ہوشیار کرے اور بھٹکے ہوئے راہیوں کے لیے رہبری کافریضہ انجام دے۔ بلامبالغہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ حنیف ترین کی شعری کائنات میں یاس و محرومی کی جگہ حوصلوں کی اڑان موجود ہے اور یہی حوصلہ انسانی زندگی کو متحرک، فعال اور توانا کرنے کا ذریعہ ہوا کرتا ہے۔ ذیل میں حنیف ترین کے کچھ کلام پیش کیے جارہے ہیں، جن سے ان کی فکری اڑان اور نظریہئ زندگی کو سمجھنے میں مدد ملے گی:

مصیبتوں کو مرے گھر کا جب پتہ دینا

مرے خدا مجھے لڑنے کا حوصلہ دینا

 

ظلم کی بات ظالموں سے حنیف

کہہ گزرنا بھی ایک عبادت ہے

حق کہیں مانگنے سے ملتا ہے

چھین لے گر ذرا بھی ہمت ہے

 

جل جائے گا تو بھی تو مرے ساتھ، ذرا سوچ

اس شعلۂ نفرت کو نہ یوں اور ہوا دے

 

میں آنکھ ہوں جو اندھوں کی، بہروں کے کان ہوں

جن کی زبان چھن گئی، ان کی زبان ہوں

 

میرے بازوئے عمل ہی کے قریں ہے امکان

حوصلو آؤ ابھی زیر نگیں ہے امکان

 

اس نے جب جب مجھے مٹایا ہے

میرا نام اور اُبھر کے آیا ہے

 

مہنگی پڑیں گی پیار کو یہ بدگمانیاں

دل سجدہ گاہِ عشق ہے اس کو نہ ڈھائیے

 

جو گر کے اٹھتے ہیں ان کا ہارنا مشکل

کفن جو لے کے چلیں ان کو مارنا مشکل

 

درد کے بھی ہیں ہاتھ مت چھیڑو

غم میں ڈوبی ہے ذات مت چھیرو

 

وہی لیتے ہیں زمانے سے خراج

جو ہیں آپ اپنی مدد پرقائم

 

امیر شہر غریبوں کو لوٹ لیتا ہے

کبھی بحیلہئ مذب، کبھی بنامِ وطن

 

جبر و ظلمت سے جو دو دو ہاتھ کرتے ہیں حنیف

اُن کے سر پر روشنی کے قتل کا الزام ہے

 

سیل طاقت کا نگل جائے گا یک لخت تمھیں

کیوں نہ ہر ردِعمل کو نیا پانی دے دو

 

جو زندگی کی بھیک دے تہذیب کے عوض

کر لو قبول موت جو ہو اختیار میں

 

زوال کی بھی اک اپنی اٹھان ہوتی ہے

سفر ہو لمبا تو، اکثر تکان ہوتی ہے

 

ہمارے دور نے چیخ اور پکار دیکھی ہے

لباسِ امن میں دہشت کی مار دیکھی ہے

 

راکھ کا ڈھیر بنے گی دھرتی، گر طاقت میزان رہی

امن کا منصف بارودوں میں ڈھونڈے سچاّئی کیوں؟

 

یہ ادائے انسانی آج قاتلانہ ہے

بات جو زباں پر ہے، وہ منافقانہ ہے

حنیف ترین نے غزلیں بھی کہیں اور نظمیں بھی۔دیگر اصنافِ ادب میں بھی انہوں نے طبع آزمائی کی۔بعض نئے شعری تجربات بھی انہوں نے اپنے نام کئے۔دو بیتیاں، ماہیے ومثلث کی شکل میں بھی ان کی شعری کاوشیں موجود ہیں۔ ’رباب صحرا‘،’کتاب صحرا‘، ’کشت غزل نما‘،’زمین لاپتہ رہی‘، ’ابابیلیں نہیں آئیں‘، ’میں نے زلزال کو لفظوں میں اُتر کر دیکھا‘،’روئے شمیم‘،’لالہ صحرائی‘، ’پس منظر میں منظر بھیگاکرتے ہیں‘ اور ’دلت کویتا جاگ اٹھی‘ وغیرہ موصوف کے وہ شعری مجموعے ہیں، جن میں ان کے فکر وفن کاحسین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ موصوف حال کے دنوں میں شاعری کے ساتھ ساتھ نثرنگاری کی جانب بھی مائل ہوئے اور حالات حاضرہ پر رائے زنی کیلئے کالم نویسی شروع کی،جس کاسلسلہ زندگی کے آخری ایام تک جاری رہا۔

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*