حنیف کیفی: کوائف و کیفیات-محمد اکرام

حنیف کیفی صاحب کا نام میں نے دہلی آنے سے پہلے بھی سن رکھا تھا، البتہ حنیف کیفی اور حنیف نقوی کے درمیان امتیاز کرنا میرے لیے مشکل تھا۔ جب 2000 میں صلاح الدین پرویز(مرحوم) کے سہ ماہی استعارہ سے میری وابستگی ہوئی تو وہاں اردو کے ادیبوں اور شاعروں کا اکثر ذکر ہوتا رہتا تھا۔ دفتر میںآنے والے مشاہیر ادب سے ملاقاتیں بھی ہوتی رہتی تھیں۔
استعارہ میں ملازمت سے پہلے اردو زبان و ادب سے میری واقفیت ذرا کم تھی۔ دھیرے دھیرے اردو ادب سے میری دلچسپی بڑھتی گئی اور وہاں آنے والے ادیبوں اور شاعروں سے دعا سلام کا سلسلہ جاری رہا۔ گلزار دہلوی (مرحوم)، کفیل آذر(مرحوم)، محمود ہاشمی (مرحوم)، اظہار اثر (مرحوم)، یوگیندر بالی (مرحوم)، نند کشور وکرم (مرحوم)، ریوتی سرن شرما (مرحوم)، ظہیر ناصر ]مرحوم[(فلمی میگزین شمع میں جن کا کالم ’مسافر کی ڈائری‘ بہت مقبول تھا)، عابد سہیل (مرحوم)، حنیف ترین (مرحوم)، فاروق ارگلی، نظام صدیقی، قاضی عبیدالرحمن ہاشمی، ابواللیث جاوید، ڈاکٹر جمیل اختر، مشرف عالم ذوقی، ابرار رحمانی، نگار عظیم، شبنم عشائی، ملک زادہ جاوید، ڈاکٹر کوثرمظہری، ڈاکٹر مولا بخش، راشد انور راشد، ڈاکٹر مشتاق صدف، معین شاداب، خالد بن سہیل (مرحوم) خالد عبادی، احمد صغیر، شاہد اختر(کانپور)، معراج رانا، شبیر احمد، ایڈووکیٹ جیلانی، سعید اختر اعظمی، ہادی رہبر، محمد انیس شاہجہاں پوری وغیرہ یہ کچھ نام ایسے تھے جن سے ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ حقانی القاسمی صاحب جو سہ ماہی ’استعارہ‘ میں شریک مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے، ان کے ذریعے ہی استعارہ کے دفتر میں مجھے ملازمت ملی تھی۔ حقانی القاسمی صاحب سے میری ذہنی ہم آہنگی اس حد تک تھی کہ لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ ہم سے اتنے سینئر ہیں۔ حقانی صاحب بہت پہلے سے دہلی میں مقیم تھے، اس لیے ان کی شناسائی بہت سے ادیبوں، شاعروں سے تھی۔ وہ جب کسی ادیب وشاعر سے ملنے جاتے تو مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاتے۔ کبھی کبھی جب جامعہ کے شعبۂ اردو میں تشریف لے جاتے تو میں بھی ان کے ساتھ ہولیتا۔ شعبۂ اردو میں ہی میری باضابطہ ملاقات کوثر مظہری صاحب سے ہوئی جو اس وقت شعبہ اردومیں لکچرر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان دنوں ان کی رہائش ابوالفضل انکلیو میں تھی۔ کوثر مظہری صاحب کے ذریعے ہی ہم نے پروفیسر حنیف کیفی صاحب کی شخصیت کو جانا اور سمجھا۔ حنیف کیفی صاحب اس وقت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو میں پروفیسر تھے اور کوثر مظہری صاحب کو بہت عزیز رکھتے تھے۔
2003 میں جب استعارہ کا دفتر شفٹ ہوکر ذاکر باغ چلا گیا، تو ایک دن کوثر مظہری صاحب استعارہ کے دفتر آئے اور مجھے اپنے ساتھ حنیف کیفی صاحب کے گھر یہ کہہ کر لے گئے کہ کیفی صاحب کو کمپوزنگ وغیرہ کا کام رہتا ہے، اگر ہوسکے تو ان کا کام کردیا کیجیے۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
کیفی صاحب سے میری پہلی ملاقات بہت خوشگوار رہی، مجھے محسوس ہی نہیں ہوا کہ شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سبکدوش صدر سے ملاقات ہورہی ہے۔ گھر میں انھوں نے کافی خاطر تواضع کی۔ کیفی صاحب دیکھنے میں تو بہت نحیف و کمزور نظر آتے تھے لیکن ان کے چہرے پر چمک اور آواز میں بلا کی کشش تھی بلکہ کھنک بھی۔ انداز گفتگو نہایت بلیغ ہوتا تھا، ایسا محسوس ہوتا جیسے وہ گھر پر نہیں کلاس روم میں بچوں کو درس دے رہے ہوں، کیفی صاحب جیسے خوش اخلاق، منکسرالمزاج، پابند اوقات اور اصول پرست شخص کا مجھ پر اس قدر گہرا اثر ہوا کہ کبھی کبھی بلاضرورت ہی میں ان سے ملنے چلا جاتا۔کیفی صاحب کے عادات و اطوار میں مجھے وقت کی پابندی اور اصول پرستی بہت اچھی لگی۔
کیفی صاحب سے ملنے والوں کا دائرہ محدود تھا۔کیفی صاحب جس کو چاہتے دل سے اور جس کو ناپسند کرتے، ان کا نام لینا بھی گوارا نہیں کرتے۔ کیفی صاحب مجھے بہت عزیز رکھتے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہم ان کے گھر کے ہی ایک فرد ہیں۔ جب بھی ان کے گھر جانا ہوتا تو سب سے پہلے تمام اہل خانہ کی خیریت پوچھتے، یہاں تک کہ اگر فون پر بھی بات ہوتی تو بھی احوال دریافت کرنا نہ بھولتے۔ کیفی صاحب کے یہاں چھوٹے بڑے کا کوئی امتیاز نہیں تھا، اپنے گھر پر ہر کسی کو مہمان سمجھتے، اور مہمان نوازی کی جو خوبیاں ہیں انھیں بخوبی نبھاتے۔ خوشی کا کوئی ایسا لمحہ نہ تھا جس میں کیفی صاحب اپنے مخلصین کو یاد نہ کرتے ہوں۔ اگر اجتماعی دعوت کا کوئی موقع ہوا تو مہمانوں سے فرداً فرداً پوچھتے کہ ضیافت میں کوئی کمی تو نہیں رہ گئی۔
اللہ تعالی اپنے نیک بندوں کا امتحان لیتا رہتا ہے،کیفی صاحب بھی انہی نیک بندوں میں سے تھے۔ کیفی صاحب اپنی صحت کو لے کر ہمیشہ فکر مند تو رہتے تھے مگر اس حال میں بھی وہ خدا کا شکر بجا لانا نہ بھولتے۔ سنہ 2003 میں جب سے میرا کیفی صاحب کے یہاں آنا جانا شروع ہوا ، کم ہی ایسا دیکھا کہ وہ اپنی صحت کے تعلق سے مطمئن ہوں، جہاں تک مجھے معلوم ہے کہ ان کی آنکھوں کا آپریشن بھی ہوا اور پروسٹیٹ (Prostate)کا بھی۔ اس کے باوجود تا حیات قلم،کاغذ اور کتاب سے ان کا رشتہ برقرار رہا۔
کیفی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے آٹھ بیٹے اور ایک بیٹی عطا کی تھی، لیکن ایک بیٹا اور ایک بیٹی جسمانی طور پر معذور تھے۔ کیفی صاحب نے اپنی اکلوتی بیٹی غزالہ کے علاج و معالجے میں اپنی بیماری اور عمر رسیدگی کے باوجود کوئی کمی نہ آنے دی اور جب بھی ان کو ڈاکٹروں کی ضرورت محسوس ہوتی ڈاکٹروں کے پاس لیے لیے پھرتے تھے، لیکن موت کا ایک دن معین ہے، بالآخر 15جنوری 2003 کو اپنے والدین کی چہیتی اور بھائیوں کی اکلوتی بہن سب کو روتا بلکتا چھوڑ کر اپنے مالکِ حقیقی سے جاملی۔ کیفی صاحب کا ایک اور بیٹا محمد ارشد علیم بھی ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور تھا، کیفی صاحب اپنے اس معذور بیٹے کو بھی دل و جان سے چاہتے تھے۔ ان کے بیٹے کو اگر تھوڑی سی بھی پریشانی ہوتی تو اپنی پریشانیوں کی فکر نہ کرتے ہوئے حتی الامکان ان کی دیکھ بھال کرتے، مگر تمام تر علاج و معالجہ کے باوجود وہ بھی 23 اپریل 2017 کو وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
حنیف کیفی کا پورا نام محمد حنیف قریشی اور تخلص کیفی ہے، والد کا نام حاجی حشمت اللہ اور تاریخ پیدائش (ہائی اسکول سرٹیفکٹ کے مطابق) 8 ستمبر 1934 ہے۔ کیفی صاحب کی جائے پیدائش بریلی (روہیل کھنڈ، یوپی) ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم میونسپل پرائمری اسکول، بانس منڈی، بریلی سے حاصل کی، جبکہ 1944 میں چوتھی جماعت کا امتحان پاس کیا۔ ثانوی تعلیم آزاد ہائر سیکنڈری اسکول (موجودہ آزاد انٹرکالج)، بریلی سے حاصل کی، حنیف کیفی نے بریلی کے ہائی اسکول سے 1952 میں امتیاز کے ساتھ پاس کیا ۔ 1954 میں انٹرمیجیئٹ (سائنس)، 1956 میں بی اے اور 1958میں آگرہ یونیورسٹی سے انگریزی لٹریچر میں ایم۔ اے کی ڈگری حاصل کی تھی۔ کیفی صاحب صوبہ مدھیہ پردیش کے ضلع سرگوجا کے ایک قصبے میں انگریزی زبان کے لکچرر کی حیثیت سے 5 دسمبر 1961 کو مامور ہوئے اور 8 مارچ 1972 کو انھوں نے اس ملازمت کو خیرباد کہہ دیا۔ ملازمت کے دوران ہی وکرم یونیورسٹی، اجین، مدھیہ پردیش سے 1968میں ایم۔ اے (اردو) کی ڈگری فرسٹ ڈویژن، سیکنڈ پوزیشن میں حاصل کی۔ پھر ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے 10 مارچ 1972 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں اردو کے لکچرر کی حیثیت سے ان کا تقرر ہوا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ملازمت کے دوران ہی پروفیسر گوپی چند نارنگ کی نگرانی میں ’اردو میں نظم معرا اور آزاد نظم (ابتدا سے 1947 تک)، کے موضوع پر 1980میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔پھر یکم جنوری 1983 کو ریڈر بن گئے اور 30 جو ن 1988 کو پروفیسر اور پھر شعبۂ اردو کے صدر کی ذمے داریاں نبھاتے ہوئے 7 ستمبر کو 1999 جامعہ سے سبکدوش ہوئے۔
حنیف کیفی صاحب کی تصنیفات و تالیفات کی فہرست طویل نہ سہی مگر ان کی جتنی بھی کتابیں ہیں وہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں اور آئندہ بھی ان کی پذیرائی ہوتی رہے گی کیونکہ ان کی بعض کتابیں حوالہ جاتی حیثیت کی حامل ہیں۔ کیفی صاحب کی مطبوعات کی فہرست حسب ذیل ہے:
(1) اردو شاعری میں سانٹ (تحقیق و تنقید) 1975
(2) اردو میں نظم معراا ور آزاد نظم ]ابتدا سے 1947 تک[ (تحقیق و تنقید) 1982
(3) جے شنکر پرساد (سوانح و تنقید: انگریزی سے ترجمہ) 1984
(4) چراغ نیم شب (شاعری) 1986
(5) اردو کی نئی کتاب (گیارہویں جماعت کے لیے)، 1986
(6) اردو کی نئی کتاب (بارہویں جماعت کے لیے) 1988
(7) اردو سانٹ: تعارف و انتخاب (تحقیق و تدوین) 1987
(8) تنقید و توجیہ (مضامین) 1997
(9) انتخاب کلام شمیم کرہانی (ترتیب) 1999
(10)سحر سے پہلے (شاعری)، 2004
(11)بائیں ہاتھ کا کھیل (شاعری) 2011
(12)بچپن زندہ ہے مجھ میں (بچوں کے لیے)2018
(13)صبح کی دہلیز پر (شاعری) 2021
کیفی صاحب نے اپنے ادبی سفر کا آغاز 1951 میں شاعری سے کیا جب وہ نویں جماعت میں زیر تعلیم تھے۔کیفی صاحب کی اوّلین تخلیق ’خوش اخلاقی‘ (نویں جماعت کے طالب علم کی حیثیت سے) رسالہ ’بانو‘ دہلی میں 1952 میں شائع ہوئی۔ ان کی خاص دلچسپی شاعری سے تھی، مگر ان کے استاد عشرت صاحب کی خواہش تھی کہ وہ مضامین بھی لکھیں، چنانچہ انھوں نے کیفی صاحب سے ’خوش اخلاقی‘ اور ’میرا بہترین مشغلہ‘ عنوانات کے تحت مضمون لکھنے کو کہا، اس وقت کیفی صاحب نویں کلاس میں تھے۔ بہرحال کیفی صاحب نے استاد کے حکم کی تعمیل کی اور عشرت صاحب نے ان مضامین کو پڑھ کر کیفی صاحب کو داد و تحسین سے نوازا۔کیفی صاحب کے بقول عشرت صاحب نے ان سے مزید مضامین تحریرکرنے کو کہا:
’’عشرت صاحب نے ان مضامین سے متاثر ہوکر میری حوصلہ افزائی کی اور یہاں تک کہا کہ اسی طرح کے کچھ اور مضامین لکھ دو تو میں انہیں شائع کرادوں۔ ایک طالب علم کی حیثیت سے اسے میری چالاکی کہیں یا ہوشیاری کہ میں نے اپنا مضمون ’میرا بہترین مشغلہ‘ ’کتب بینی‘ کے موضوع پر لکھا اور اس طرح اس میں دو مضامین کو یکجا کردیا تھا۔ اس میں ایک طرف تواخلاقی قدروں اور کتب بینی کے فوائد کو پیش نظر رکھا گیا تھا اور دوسری طرف فرصت کے اوقات کو بسر کرنے کا ایک اچھا مشغلہ پیش کیا گیا تھا۔ آج جب میں اپنی ابتدائی تحریروں کو دیکھتا ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اُس وقت یہ پہچان نہیں تھی کہ ان پر شعری اثر زیادہ ہونے کا سبب طبیعت میں شعری مذاق کے رچے بسے ہونے کی سچائی تھی۔ انٹرمیجیئٹ سائنس سے کرنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ یہ میدان میری حساس طبیعت اور شاعرانہ مزاج کے مطابق نہیں ہے۔ ‘‘
(حنیف کیفی: ذات اور جہات، مرتبین: ڈاکٹرمسعود ہاشمی، اطہر عزیز، 2011، ص 156)
کیفی صاحب کی پہلی کتاب ’اردو شاعری میں سانٹ‘ ہے جو انھوں نے ایم اے کے مقالے کے طور پر تحریر کیا تھا۔ اس کتاب کو بہت مقبولیت ملی۔ کچھ لوگوں نے یہاں تک سمجھا کہ یہ کیفی صاحب کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے۔ کتاب کی شہرت سے دھیرے دھیرے کیفی صاحب کا رجحان شاعری سے ہٹ کر نثر کی طرف بڑھتا گیا۔ جب کیفی صاحب کی دوسری کتاب ’اردو میں نظم معرا اور آزاد نظم (ابتدا سے 1947 تک)‘ 1982 میں شائع ہوئی تو اس کتاب کی بھی خوب پذیرائی ہوئی۔ کیفی صاحب کی اس کتاب کو قومی اردو کونسل نے اپنے سلسلۂ مطبوعات کے تحت شائع کیا اور اب تک اس کے تین ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ اس کتاب کا ایک ایڈیشن 2003 میں پاکستان سے بھی شائع ہوا ہے۔ دراصل یہ کتاب کیفی صاحب کی پی ایچ ڈی کا تھیسس ہے جو انھوں نے پروفیسر گوپی چند نارنگ کی نگرانی میں تحریر کیا تھا۔ یہ ایک حوالہ جاتی کتاب ہے، جومختلف جامعات کے نصاب میں بھی شامل ہے۔ پروفیسر مسعود حسین خان جیسے ماہر لسانیات نے ان کی کتاب ’اردو میں نظم معرّا اور آزاد نظم‘ پر اپنی گراں قدر رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا:
’’یہ ایک گراں قدر تصنیف ہے۔ یہ نہ صرف اس موضوع پر اضافہ کا حکم رکھتی ہے بلکہ عرصہ تک اس موضوع پر علمی کام کرنے والوں کے لیے یہ ایک اہم حوالے کی کتاب کی حیثیت رکھے گی۔‘‘
(حنیف کیفی: ذات اور جہات، مرتبین:ڈاکٹرمسعود ہاشمی، اطہر عزیز، 2011،ص 61)
پروفیسر گوپی چند نارنگ کے بقول:
’’کیفی نے اپنی تمام تر آگہی اور تحقیقی اور تنقیدی صلاحیتوں کو اس میں کھپا دیا ہے، اس موضوع کا جیسا حق کیفی صاحب نے ادا کیا ہے کوئی دوسرا ادا نہ کرسکا۔‘‘
(ایضاً، ص 61)
ڈاکٹر انور سدید نے ’اوراق‘ کے خاص نمبر میں اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا :
’’مغرب اور مشرق کی تہذیبی آویزش سے اردو شاعری نے جو اثرات قبول کیے ان میں نظمِ معرّا اور نظمِ آزاد کو اس لیے اہمیت حاصل ہے کہ اس سے اردو شاعری کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ ہیئت اور اظہار کے تجربوں پر اہل قلم نے خیال انگیز مضامین لکھے ہیں لیکن ان تجربات کی مربوط تاریخ نہیں لکھی گئی۔ اس کمی کو ڈاکٹر حنیف کیفی نے زیر نظر کتاب ’اردو میں نظم معرّا اور آزاد نظم‘ میں پورا کرنے کی سعی کی ہے۔‘‘ (ایضاً، ص 61-62)
کیفی صاحب جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے تو اس کا پورا حق ادا کردیتے، کسی کام کو ادھورا چھوڑنا ان کی عادت میں شامل نہیں تھا۔کیفی صاحب کو جب اپنی تحریر پر مکمل اطمینان ہوجاتا تبھی وہ چھپنے کے لیے بھیجتے تھے، چاہے اس میں کتنی ہی تاخیر ہوجائے۔ جس کا اندازہ ان کی تینوں کتابوں ’اردو سانٹ: تعارف و انتخاب‘ اور ’اردو شاعری میں سانٹ‘ اور ’اردو میں نظم معرا اور آزاد نظم‘ سے لگایا جاسکتا ہے۔ ان کتابوں میں کیفی صاحب کی ریاضت، عرق ریزی اور شب و روز کی محنت و جستجو جھلکتی ہے جس کی تائید پروفیسر توقیر احمد خاں کے اس اقتباس سے بھی ہوتی ہے:
’’کیفی اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ کام ہو تو ادھورا نہ ہو اور جہاں تک ممکن ہوسکے موضوع کا بھرپور احاطہ کرتا ہو۔ چنانچہ ان کی کتابیں ’اردو شاعری میں سانِٹ‘، ’اردو سانِٹ: تعارف و انتخاب‘ اور ’اردو میںنظم معرّا اور آزاد نظم‘ وغیرہ ایسی کتابیں ہیں جن پر آج تک کوئی اضافہ نہ ہوسکا اور ہوگا بھی کیسے۔ کوئی کیفی صاحب سے زیادہ محنت کرنے والا ہو اور ان سے زیادہ گہری نظر رکھنے والا ہو تو وہی شخص اضافہ کی ہمت کرسکتا ہے۔ ‘‘
(ایضاً، ص 67)
حنیف کیفی صاحب کی ایک اور کتاب ’تنقیدو توجیہ‘ مضامین پر مشتمل ہے۔ اس میں بیس مضامین شامل ہیں۔ کتاب میں امیر خسرو، مرزا غالب، میراجی اور مولوی عبدالحق پر لکھے گئے مضامین پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان مضامین میں کیفی صاحب نے ان شخصیات کے ہر پہلو پر گفتگو کی ہے۔ خاص طور پر امیر خسرو کے ہندوی کلام سے مدلل بحث کی ہے اور سلیس اور سہل انداز میں قاری کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ مرزا غالب پر لکھے مضمون میں غالب کی شاعری اور شخصیت دونوں پہلوؤں کا بھرپور جائزہ ہے۔ اس مضمون میں غالب کے بارے میں کچھ ایسے نکات پر بھی بحث کی گئی ہے جن پر کسی اور نے قلم اٹھانے کی جرأت نہیں کی۔ یہ کتاب ہر طبقے کے لیے مفیدہے، خاص کر طلبا اور اساتذہ کے لیے، جس کی توثیق کوثرمظہری کے اس اقتباس سے ہوتی ہے:
’’پروفیسر کیفی سنجیدہ اور پروقار تنقید کامیلان رکھتے ہیں۔ ان کی تنقید میں تحقیق کے عناصر ملتے ہیں جس کے سبب توجیہ و توثیق کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ طلبائے ادب اور اساتذہ دونو ںکے لیے مفید ہوگا۔ مطالعے سے معلومات میں اضافے کے ساتھ ساتھ پروفیسر کیفی کے گہرے اور باوزن افکار کا بھی پتہ چلتا ہے۔ ‘‘
(بازدید اور تبصرے: کوثرمظہری، عرشیہ پبلی کیشنز،نئی دہلی، 2013، ص302)
کیفی صاحب کے چار شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں، ان کا سب سے پہلا شعری مجموعہ’چراغ نیم شب‘ 1984 میں شائع ہوا۔ اس مجموعے میں غم و اندوہ اور امیدو ناامیدی، اپنوں کی بے وفائی ان سارے موضوعات کے تحت اشعار مل جائیں گے۔چند اشعار ملاحظہ ہوں:
جنھیں سکھائے ہیں آداب زندگی ہم نے
وہی یہ پوچھ رہے ہیں مزاج کیسا ہے
——
اپنوں کی نظر ملتی ہے غیروں کی نظر سے
بے گھر ہوں یہ احساس ملا ہے مجھے گھر سے
حنیف کیفی کا دوسرا شعری مجموعہ ’سحر سے پہلے‘ 2004 میں اور ’بائیں ہاتھ کا کھیل‘ 2011میں منظر عام پرآیا۔ کیفی صاحب کا آخری مجموعہ ’صبح کی دہلیزپر‘ ان کی وفات سے 40-45 دن پہلے ہی پریس سے چھپ کر آیا تھا۔ اس مجموعے میں کیفی صاحب کے بہت سے اشعار مایوسی بھرے انداز کے ملتے ہیں۔ اپنے کمزور جسم ، خرابی صحت اور بڑھتی ہوئی عمر کا انھیں بخوبی اندازہ تھا۔ باتوں باتوں میں وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ بھئی کب بلاوا آجائے، کہا نہیں جاسکتا، میرے اکثر احباب اب دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ چاہتا ہوں ادھورے کام جلدی سے پورے ہوجائیں۔ اس مجموعے کے کچھ اشعار سے ان کی مایوسی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے:
جواب دے گئی ہمت میں تھک چکا ہوں بہت
سہارا دے کے اٹھا لو بہت اکیلا ہوں
لرز رہا ہے بدن پاؤں لڑکھڑاتے ہیں
میں گر نہ جاؤں سنبھالو بہت اکیلا ہوں
خطائیں بخشو عزیزو اب آؤ مل بیٹھو
غبار دل سے نکالو بہت اکیلا ہوں
——
آخری منزل میں ہے عمرِ گریزاں کا سفر
ایک لامحدود عالم اور قصہ مختصر
کیفی صاحب نے سانٹ، ہائیکو ، علم عروض جیسے خشک موضوعات پر جو خامہ فرسائی کی، جن پر کم ہی لوگ لکھنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ علم عروض پر لکھنا تو دور کی بات آج پڑھنا بھی کم لوگ پسند کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک مشکل اور خشک موضوع ہے۔ یوسف ناظم صاحب کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’پروفیسر حنیف کیفی عروض کے ماہرین میں سے ہیں۔ علم عروض ادب کی سب سے خطرناک شاخ ہے۔ کیا حنیف کیفی بتائیں گے کہ اِسے سائنس کیوں نہیں قرار دیا جاسکتا؟ جو بھی ہے بحر’رجز‘ میں بحر ’رمل‘ ڈال کر ہی چلتا ہے۔ میرا تو عقیدہ ہے کہ جو شاعر عروض کی غلطی نہیں کرتا اچھا شعر کہہ ہی نہیں سکتا۔‘‘
(حنیف کیفی: ذات اور جہات، مرتبین:ڈاکٹرمسعود ہاشمی، اطہر عزیز، 2011،ص 47)
کیفی صاحب نے بچوں کے لیے پیاری پیاری، ننھی منی نظمیں بھی لکھی ہیں جو بچوں کے لیے نصیحت آموزبھی ہیں۔ کیفی صاحب کی کچھ نظمیں ’بچوں کی دنیا‘ اور دوسرے رسائل و جرائد میں شائع بھی ہوئی ہیں۔ بچوں کی نظموں پر مشتمل کیفی صاحب کا ایک مجموعہ ’بچپن زندہ ہے مجھ میں‘ 2018 میں شائع ہوا۔ کیفی صاحب جب عمر کے آخری پڑاؤ پر تھے تب یہ مجموعہ منظرعام پر آیا۔ مجموعے کی نظموں کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ کیفی صاحب کے اندر وہ ہنستا کھیلتا بچپن پھر سے اجاگر ہوگیا ہے۔ اس مجموعے پر ’بچوں کی دنیا‘ میں حقانی القاسمی صاحب کا جامع تبصرہ شائع ہوا ہے۔ انھوں نے تبصرے میں کیفی صاحب کے بچپن کو اس طرح اجاگر کیا ہے:
’’لوگ کہتے ہیں کہ بڑھاپے میں بچپن کا زمانہ لوٹ آتا ہے۔ بچپن کی یادیں بڑھاپے میں بے چین کرنے لگتی ہیں۔ کاغذ کی کشتی، تتلیاں، جگنو، گڑیا سب ذہن کے پردے پر رقص کرنے لگتے ہیں۔ جس کا اظہار نوشی گیلانی جیسی شاعرہ نے کچھ یوں کیا ہے:
کچھ نہیں چاہیے تجھ سے اے مری عمرِ رواں
مرا بچپن، مرے جگنو، مری گڑیا لادے
(بچوں کی دنیا، مدیر: ڈاکٹر شیخ عقیل احمد، جلد8، شمارہ9، ستمبر 2020، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی)
اس مجموعے سے نظموں کے کچھ ٹکڑے ملاحظہ ہوں ؎
ننھی سی وہ بچی ہے
لامعہ سیدھی سچی ہے
ٹھمک ٹھمک چلتی ہے
گرتی اور سنبھلتی ہے

(ننھی لامعہ)
——
پہلا دن اسکول کا تھا
خوش تھے بے حد عبداللہ
پھرتے تھے اتراتے ہوئے
چلتے تھے لہراتے ہوئے
ساتھ گئے ابو جان
لائے تھے خود سب سامان
پنسل باکس، ٹفن، بستہ
لے آئے مہنگا سستا
پانی کی بوتل بھی لی
چلتے چلتے لی چھتری

(عبداللہ اسکول چلے)
بچوں کے لیے نظمیں تو بہت سارے لوگوں نے لکھی ہیں، لیکن کیفی صاحب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے بچوں کے لیے ہائیکو بھی لکھی ہے۔ ہائیکو اصناف شاعری میں ایک جاپانی صنف ہے جو مختصر اور تین مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے۔مثال کے لیے ملاحظہ کیجیے ؎
سب کا پیارا کھیل
بچوں نے لائن باندھی
چھک چھک چل دی ریل
——
ڈھونڈیں ہر ہر چھور
آنکھ مچولی کھیلیں یار
جو پکڑا وہ چور
(کھیل کھلاڑی)
کیفی صاحب اردو زبان و ادب کے لیے مکمل طور پر وقف تھے اور ان کا پورا وقت تحریر و تصنیف میں گزرتا تھا۔ اس کے باوجود ان کی کتابوں کی تعداد کم ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ عجلت پسند نہیں تھے۔ بہت غور و فکر کرنے کے بعد کتابیں چھپوایا کرتے تھے۔ اس معاملے میں ان کے حد درجہ احتیاط کو پروفیسر گوپی چند نارنگ نے ان کی کاہلی سے تعبیر کیا ہے:
’’کیفی صاحب بلا کے کاہل اور سست قلم ہیں، تاہم جب لکھنے پر آتے ہیں تو جی لگاکر اور ایسا ٹھوک بجاکر لکھتے ہیں کہ کوئی حرف نہیں رکھ سکتا۔‘‘
(حنیف کیفی: ذات اور جہات، مرتبین:ڈاکٹرمسعود ہاشمی، اطہر عزیز، 2011، ص 42)
حنیف کیفی صاحب کے کچھ ادھورے کام جو وہ اپنی زندگی میں پورا نہ کرسکے۔ ان میں ایک کتاب ’گفتگو کتابوں کی‘ ہے۔ اس کتاب کا مسودہ حنیف کیفی صاحب گاہے بہ گاہے 2007 سے اب تک مجھے کمپوز کرنے کے لیے دیتے رہے۔ میں نے کیفی صاحب کی علالت اور نقاہت کو دیکھتے ہوئے نومبر2020 کے آخری ہفتے میں کہا تھا کہ کیفی صاحب! اب آپ اس کتاب پر چھوٹا سا پیش لفظ لکھ کر ترتیب دے دیجیے، انھوں نے میرے اس مشورے کو تسلیم کرتے ہوئے چھوٹا سا پیش لفظ لکھ کر کتاب مجھے عنایت کردی۔ 13 دسمبر 2020 کو میں نے یہ کتاب مکمل کرکے کیفی صاحب کے حوالے کردی کہ سر آپ نظر ثانی کرلیجیے تاکہ یہ کتاب اشاعت کے مرحلے کوپہنچ سکے۔ افسوس کہ وہ نظر ثانی نہ کرسکے۔
کیفی صاحب کے کچھ اور مضامین ہیں جو انھوں نے 2014 سے 2018 کے درمیان مجھے کمپوز کرنے کے لیے دیے تھے جنھیں وہ کتابی صورت میں شائع کرانا چاہتے تھے۔ ان کا یہ کام بھی ادھورا رہ گیا۔ میں بہت پریشان تھا کہ آخر کیفی صاحب کے ان ادھورے کاموںکو کون پورا کرے گا۔ میرا ارادہ تھاکہ قمر سلیم صاحب جو ممبئی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور لکھنا پڑھناان کا مشغلہ بھی ہے، جب ان سے میری ملاقات ہوگی تو کیفی صاحب کی اس خواہش کا ذکر ان سے کروں گا۔ اسی درمیان ایک دن کیفی صاحب کے صاحبزادے رضوان صاحب کا فون آیا کہ ’بابو‘ (کیفی صاحب کے بیٹے کیفی صاحب کوبابو کہتے ہیں) کے کچھ کام شاید آپ کے پاس ادھورے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ بابو کے بچے ہوئے کام کو میں پایۂ تکمیل تک پہنچاؤں۔ میں نے تفصیل سے کیفی صاحب کے ادھورے کام کے بارے میں رضوان صاحب کو بتایا اور میں نے یہ بھی کہا کہ ان کی طباعت و اشاعت میں میری کسی بھی طرح کی معاونت درکار ہو تو میں اس کے لیے تیار ہوں۔ انھوں نے اس وعدے کے ساتھ فون رکھ دیا کہ کسی دن آپ کو گھر پر بلاؤں گا اور جوچیزیں بابو اپنی حیات میں میرے حوالے کرگئے تھے انھیں آپ سے سمجھ کر طباعت کے مرحلے تک ضرور پہنچاؤں گا۔ باتوں باتوں میں رضوان صاحب نے یہ بھی بتایاکہ بابو کے لکھنے پڑھنے والے سارے کام میں ہی دیکھتا تھا، وہ مجھے ہی ساری چیزیں بتاتے تھے۔رضوان صاحب کے جواب سے میں بہت مطمئن ہوا اور مجھے بھی خوشی ہوئی کہ کیفی صاحب جو ادھورے کام اپنی حیات میں پورا نہ کرسکے، اب ان کے بچے پورا کرنے کاارادہ رکھتے ہیں۔
انتقال سے چند روز قبل جب وہ ہولی فیملی میں زیر علاج تھے، ایک دن میرے پاس فون آیا۔ ان کی آواز میں اتنی کپکپاہٹ تھی کہ میں سمجھ نہ سکا وہ مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہیں۔ پھر فون کسی وجہ سے ڈس کنیکٹ ہوگیا۔ میرا ارادہ تھا کہ کیفی صاحب جب صحت یاب ہوکر گھرآئیں گے تو میں ان سے ملاقات کروں گا ۔ کیا پتہ تھا کہ کیفی صاحب سے یہ میری آخری بات ہورہی ہے۔ کیفی صاحب نے 27جنوری 2021 کوصبح ساڑھے دس بجے داعی اجل کو لبیک کہا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
کیفی صاحب اب ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ ہم اب صرف ان کی تحریروں کو پڑھ سکتے ہیں اور کیفی صاحب کے ساتھ گزارے ہوئے لمحوں کو یاد کرسکتے ہیں خاص کر ان لمحوں کو جب وہ اپنے بچوںکی طرح مجھے بھی نصیحتیں کرتے رہتے تھے۔کیفی صاحب کے بارے میں اور کیا کہوں؟ بس یہی کہ:
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے