ہاں میں نے قیامت کا منظر دیکھا ہےـ مرتضی ہارونی

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے جیسے ہی یہ اعلان کیا کہ دہلی میں چھ دنوں کے لیے لاک ڈاؤن لگایا جانا ضروری ہے، حالات ہمارے قابو سے باہر ہے، ہم یہ لاک ڈاؤن نہیں لگانا چاہتے تھے ، لیکن ہم مجبور ہیں، ہم کچھ نہیں کرسکتے، اس کے فورا بعد دہلی میں رہنے والے مزدوروں میں بے چینی پھیل گئی۔
آپ جانتے ہیں کہ دہلی اپنے جغرافیائی حدود کے اعتبار سے یوپی اور ہریانہ سے متصل ہے ۔ پنجاب ، راجستھان اور اتراکھنڈ بھی دہلی سے زیادہ دور نہیں ہیں۔ ہندوستان کے غریب صوبوں کے مزدور دہلی میں کام کرنے کے لیے آتے ہیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد بہار، بنگال، یوپی اور شمال مشرقی ریاستوں کے افراد پر مشتمل ہے۔
دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ دہلی میں کام کرنے والے مزدور ہمارے اپنے ہیں، آپ اپنے گھر نہ جائیں، آپ دہلی میں ہی رہیں، آنے جانے کی دشواری اور پھر آکر کام ملنے کی دشواری سے بچیں۔ اروند کیجریوال کے بیان کو سیریس نہ لیتے ہوۓ مزدوروں نے اپنے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ بابر پور، آنند وہار،سراۓ کالے خاں اور متعدد جگہوں پر مزدوروں نے آنا فانا ۳۰۰۰، ۳۵۰۰، ۲۵۰۰، یا کم ازکم ۲۰۰۰ ہزار روپے دیکر گھر جانے کا فیصلہ کیا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔
بہت سے مزدور روزانہ نئی دہلی، پرانی دہلی، نظام الدین اور شاہدرہ ریلوے اسٹیشن پر جاکر نمبر لگ رہے ہیں، لیکن ٹکٹ اگلے کئی دنوں تک کا بالکل ہی ختم ہو گیا ہے۔ تتکال میں بھی ٹکٹ نہیں نکل رہا ہے ۔ پچھلے لاک ڈاؤن میں سرکار کی طرف سے مزدوروں کو کھانا مل رہا تھا، لیکن اس لاک ڈاؤن میں سرکار کی طرف سے اس چیز کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ پچھلے سال ۶۸ دنوں کے لیے جو لاک ڈاؤن لگایا تھا، اس وقت کے حالات اور آج کے حالات بالکل مختلف ہے۔ پچھلی مرتبہ دہلی سرکار نے لوگوں کو گھر گھر کھانا پہنچایا تھا اور سول سوسائٹی اور این جی اوز نے بھی بڑھ چڑھ کر مزدوروں کو مدد پہنچانے کی کوشش کی تھی، لیکن اس بار صوبائی سرکار اور مرکزی سرکار کے پاس پہلے ہی سے بہت سے کام پڑے ہوۓ ہیں، سرکاریں انہیں ہی حل کرنے میں ناکام ہے، مزدور کسی کے خاکہ اور لائحہ عمل میں ہے ہی نہیں۔ رہی سول سوسائٹی تو پورے سال تجارت کے ٹھپ رہنے کی وجہ سے وہ بھی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ این جی اوز کے پاس فنڈ نہیں ہے وہ کہاں سے کسی کی مدد کرے ۔

دہلی ، ممبئی، کولکاتہ ، حیدرآباد اور بنگلور جو آباد ہے یہاں جو محلات، پارکس، مالز اور دیگر آرام دہ اور نفس کو سکون دینے کے لیے جو بھی وسائل ہو سکتے ہیں ہیں وہ سب مزدوروں کی ہی مرہونِ منت ہے، لیکن جیسے ہی برے حالات آتے ہیں، ان مزدوروں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔
مزدوروں کے نام پر ہندوستان میں بڑی بڑی تنظیمیں بنی ہے، سرکاریں بنی ہے، لیکن مزدوروں کو کچھ نہ مل سکا، بلکہ حیرت اس بات پر ہے کہ نہ تو ان کو صحیح معاوضہ ملتاہے، نہ ہی برے حالات کے لیے ان کی طرف سے اکثر کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ طے ہوتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مضبوط کمزور کو کھا جاتا ہے۔
اس شہر میں مزدور جیسا در بدر کوئی نہیں
جس نے سب کے گھر بناۓ اس کا گھر کوئی نہیں
بشیربدر