ہاں میں رعنا ایوب ہوں۔نازش ہما قاسمی

جی ہاں رعنا بنت ایوب واقف، معتدل قد و قامت، قبول صورت، گھنگھریالے بالوں والی، بڑی بڑی آنکھوں والی جو ذہین و فطین ہونے کی غماز ہیں ، عموماً مغربی لباس زیب تن کرنے والی؛ لیکن مشرقی تہذیب وکلچر سے نا بلد و نا آشنا بھی نہیں، مشرقی خاتون کے اصولوں پر کار بند، حدود اسلام کی پابندی اور شریعت اسلامی پر حتی الامکان عمل کرنے والی، دنیا کے دس بڑے صحافیوں میں پانچویں نمبر کی مشہور صحافی، تہلکہ میگزین کی سابق سینئر رپورٹر، بہادر، بے خوف، نڈر، جرات مند، باحوصلہ، پر عزم، بیباک، ’گجرات فائلس‘ کی مصنفہ، ملکی و غیر ملکی سیاست پر بے باک، بے لاگ اور بے خوف تجزیے کرنے والی، اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لیے آواز اُٹھانے والی، ناانصافی کے خلاف بولنے اور لکھنے والی، حق کی آواز، واشنگٹن پوسٹ کی کالم نگار، ورڈس ان ٹائم، نیویارکر، این وائی ٹی، گارڈین، جیسی میگزین کے لیے لکھنے والی، امریکہ، لندن، چائنا، دبئی، قطر سمیت دنیا بھر کے ممالک کا دورہ کرکے اقلیتوں کے خلاف ہورہی سازشوں کو آشکارا کرنے والی، بڑی بڑی انسانی حقوق ودیگرتنظیموں کے بلاوے پر لاکھوں عوام کو خطاب کرنے والی، صحافت میں منصفانہ کارکردگی نبھانے پر سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام کے ہاتھوں سنسکرتی ایوارڈ یافتہ، گجرات فسادات میں اعلیٰ عہدوں پر براجمان سیاسی لیڈروں، پولس افسران اور دیگر بڑی بڑی مچھلیوں کی شمولیت کا انکشاف کرنے پر سٹیشن آف ایکسی لینس ایوارڈ حاصل کرنے والی، صحافت میں جرأت مندانہ کردار ادا کرنے پر میک گل میڈل حاصل کرنے والی، اقلیتوں اور مظلوموں کی موثر آواز، بنا کسی خوف کے ظالم کو ظالم کہنے والی، آمر حکمراں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والی، غلط کو غلط، صحیح کو صحیح کہنے والی، صحافی کے قلم کا پاس و لحاظ رکھنے والی، نہ کبھی بکنے والی اور نہ ہی کسی کو خریدنے کا موقع دینے والی ہندوستان کی بیٹی، والدین کی آن بان شان، بھائیوں کی آبرو اور لاکھوں پرستاران اور محبانِ وطن کی آس و امید ہوں۔ مزدوروں، غریبوں، پریشان حال لوگوں کی مسیحا رعنا ایوب ہوں۔
ہاں میں وہی رعنا ایوب ہوں جس کی پیدائش اترپردیش کے مردم خیزعلاقے، علم و عرفاں اور مجاہدین آزادی کی سرزمین اعظم گڑھ کے پھول پور تحصیل، بیسا گاؤں میں ایوب واقف کے ہاں ۱۹۸۴ میں ہوئی، والد محترم دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث شیخ عبدالحق اعظمیؒ کے برادرنسبتی اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں، ان کے علم وحکمت اور دانائی سے ان کے دوست واحباب، اور دیگر قارئین واقف ہیں۔ میری پیدائش کے ایک ماہ بعد والد محترم مجھے ممبئی لے آئے، یہیں میں اپنے سن شعور کو پہنچی، اسی عروس البلاد میں میری ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم مکمل ہوئی، صوفیہ کالج میں زندگی کے قیمتی وقت کو حصول علم کے لیے صَرف کیا اور یہاں سے بی اے اور ماس کمیونیکیشن میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ میں اپنے بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹی اور والدین کی لاڈلی ہوں، بڑے بھائی کا نام عارف ایوب، اس کے بعد عفت ایوب، پھر آصف ایوب اور میں رعنا ایوب ہوں۔
ہاں میں وہی رعنا ایوب ہوں جس نے تہلکہ میگزین میں کام کرتے ہوئے گجرات فسادات کی اسٹنگ آپریشن کی (جسے تہلکہ میگزین نے شائع نہیں کیا اور بعد میں اسے میں نے کتابی شکل دے کر ’گجرات فائلس‘ پس پردہ حقائق کا نام دیا) میں ایک مسلم گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں؛ لیکن اس اسٹنگ آپریشن کے لیے میں نے اپنا نام، حلیہ، شناخت، تعارف جگہ سب بدل کر گجرات فسادات کے ذمہ داروں تک آر ایس ایس نظریہ کی حامی ’میتھلی تیاگی ‘ بن کر پہنچی، آٹھ ماہ تک اس حلیے میں رہی ، گجرات فسادات کے دوران پیش آئے ان حقائق تک پہنچی جسے منظر عام پر نہیں لایا گیا تھا، فرضی انکاؤنٹروں کا پردہ فاش کیا، فسادات میں ملوث تڑی پار کو جیل بھجوانے میں معاون بنی۔ خیر ان تمام واقعات کی مکمل تفصیل میں نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’گجرات فائلس‘ پس پردہ حقائق میں درج کیا ہے ۔ یہ آپریشن تو میں نے تہلکہ میں رہتے ہوئے کیا تھا؛ لیکن میگزین انتظامیہ نے اسے شائع کرنے سے انکار کردیا پھر میں نے اپنے جمع شدہ مواد کو ۲۰۱۶ میں کتابی شکل دے کر شائع کیا۔ اس کتاب میں، میں نے باضمیر افراد کے لیے پیغام دیا ہے کہ وہ پڑھنے کے بعد سوچیں کہ ان پر جو ابھی حکمرانی کر رہے ہیں وہ کیسے افراد ہیں، جو وزیر اعظم اس ملک کے ہیں وہ جن سیڑھیوں پر چڑھ کر اوپر آئے ہیں اس کے پڑھنے سے قاری پر عیاں ہوجاتا ہے کہ انہوں نے کیا کیا ظلم کرکے اس عہدے تک رسائی حاصل کی ہے ۔ یہ کتاب تقریباً ۱۷؍زبانوں میں شائع ہوکر مقبول عام ہوچکی ہے اس کتاب سے ایوان اقتدار میں زلزلہ برپا ہوگیا، مجھے جان سے مارنے تک کی دھمکیاں مل رہی ہیں، انسانی حدوں کو پھلانگنے والے، انسانیت سوز جرائم کے مرتکب، انسانیت سے عاری، انسانیت پر کلنک افراد، حاملہ خاتون کے پیٹ کو چاک کرکے جنین کو ترشول پر نچانے والے میری عزت وآبرو تار تار کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں؛ لیکن میں حق کی آواز اُٹھانے کے لیے مشہور ہوں میں ان دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتی جو حق کے راستے پر نکلتے ہیں انہیں اس طرح کی دھمکیوں کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔
ہاں میں وہی رعنا ایوب ہوں جس نے لاک ڈاؤن میں اپنی تمام تر مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر تڑپتی انسانیت کی خدمت کےلیے خود کو وقف کردیا، کیٹو انڈیا ( KETOO INDIA) کے تعاون سے میں نے رمضان میں روزے رکھ کر ، بھوک پیاس کی شدت کو برداشت کرکے اپنے گھر سے دور پریشان حال افراد، بھوک کے شکار مزدوروں کے علاقوں میں جاجاکر ان کی مدد کی، ممبئی سے متصل آدیواسی علاقوں کا دورہ کیا، بلا تفریق مذہب وملت انسانیت کی خدمت کی جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے، کبھی مسجد کے صحن میں تو کبھی مندر کی چھاؤں میں، ہر جگہ میں نے انسانیت کی خدمت کی ہے۔ میری اس خدمت کا میڈیا میں کوئی چرچا نہیں اور مجھے اس کی پرواہ بھی نہیں ہے، مجھے معلوم ہے کہ میں مسلم ہوں، باضمیر ہوں، اگر بے ضمیر ہوتی یا مسلمان نہیں ہوتی تو میرے نام کے شادیانے بجتے خیر اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑنے والا، خدا نے لاک ڈاؤن کی صورت میں مجھے انسانیت کی خدمت کا بہترین موقع دیاہے۔ الحمدللہ میں نے اس موقع سے بھر پور فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی ہے لاکھوں لوگوں تک پہنچی ہوں، جن میں پریشان حال بھی تھے، مزدور بھی تھے اور خوددار بھی تھے ان کے چہروں پر پھیلی مسکراہٹ نے میرے اندر مزید حوصلے پیدا کیے ہیں اور نئی روح پھونکی ہے۔ ان شاء اللہ یہ نئی روح میری اڑان کو مزید اوپر لے جائے گی۔ ہاں میں وہی رعنا ایوب ہوں، جس نے انسانیت کی بنا پر کام کو انجام دیا ہے۔ میری خدمت کا دائرۂ کار مذہب سے نہیں؛ بلکہ انسانیت سے جڑا ہوا ہے۔ میں نے انصاف کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے۔ ناانصافی سے مجھے بیر ہے۔ حق گوئی میرا شیوہ ہے۔ خودداری میرا پیشہ ہے اور مظلوموں کی دادرسی میرا فرض ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*