ہاں حسن کو پھر جاننے والا نہیں ملتاـ نمرہ شکیل

 

ہاں حسن کو پھر جاننے والا نہیں ملتا
آنکھیں تو بہت ہیں، دل بینا نہیں ملتا
محسوس یوں ہوتا ہے، گئی اب کے نظر بھی
پھر دیکھ کے دیکھو تو بھلا کیا نہیں ملتا
اک طرفہ تماشا ہے کہ جیسا تجھے دیکھیں
تو اگلی ملاقات میں ویسا نہیں ملتا
ہاں میرا تبسم تو جہاں بھر کے لیے ہے
پر دل کہ کسی سے نہیں ملتا، نہیں ملتا
رہتے ہیں کچھ آلام و ستم اس کو بھی لاحق
مل جائے جو قسمت سے تو تنہا نہیں ملتا
ہے ذوق طلب حسن کی خیرات سے بالا
جتنا مجھے درکار ہے اتنا نہیں ملتا
دو پل کے لیے دشت نوردی کو گئے تھے
آئے ہیں تو اب شہر میں رستا نہیں ملتا
یہ دل کہ ہے خود درد بھی اور اپنی دوا بھی
ڈھونڈے سے یہاں نقش سویدا نہیں ملتا
اک شخص برابر سے مرے اٹھ کے گیا ہے
آئینے میں اب اپنا سراپا نہیں ملتا
ہم سے جو توقع ہے تمھیں مہر و وفا کی
کیا شہر میں ہم سا کوئی رسوا نہیں ملتا
ملتا ہی نہیں اک دلِ پردرد یہاں پر
وحشت کا کسی سر میں بھی سودا نہیں ملتا
قسمت بھی مری مجھ سے زیادہ ہی خفا ہے
مجھ کو تو کہیں وعدہء فردا نہیں ملتا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*