ہمسایہ ممالک سے تعلقات ٹھیک ہونے تک جغرافیائی اہمیت کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے:عمران خان

اسلام آباد :پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انڈیا کشمیریوں کو حق رائے دہی دے اور کشمیریوں کو حق رائے دہی دینا دونوں ملکوں کے لیے بہتر ہے۔بدھ کو اسلام آباد میں پاکستان کے پہلے دو روزہ سکیورٹی ڈائیلاگ کے افتتاحی سیشن میں خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’سب سے اہم چیز ملک کی معیشت کو بہتر کرنا ہے۔ جب تک ہمارے خطے میں امن نہیں ہوگا، جب تک ہمسایوں کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہیں ہوں گے تو ہم پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔عمران خان نے کہا کہ اگر ’ہمارے علاقے میں امن آجائے تو اس سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا کیونکہ ہم دنیا کی دو بڑی منڈیوں کے ساتھ منسلک ہیں۔ ایک طرف چین ہے اور دوسری ہم انڈیا کے ساتھ بھی منسلک ہو سکتے ہیں۔وزیراعظم نے کشمیر کے حوالے سے کہا کہ ’ہم تو اپنی کوشش کر رہے ہیں لیکن انڈیا کو پہلا قدم اٹھا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ’ہمارا انڈیا کے ساتھ ایک ہی ایشو ہے اور وہ کشمیر ہے۔ ہم کوشش کی کہ اچھے ہمسایوں کی طرح یہ معاملہ مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ لیکن پانچ اگست کو اسے بہت بڑا دھچکا لگا اور دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات بالکل بند ہوگئے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم اب بھی یہ امید کرتے ہیں کہ انڈیا اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت کشمیریوں کو ان کا حق رائے دہی دے تاکہ وہ اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کریں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ دونوں ملکوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ عمران خان نے کہا کہ ملک میں نیشنل سکیورٹی پر ڈیبیٹ کی بہت ضرورت ہے۔ نیشنل سیکیورٹی کے اہداف بہت وسیع ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے قربانی دے کر ہمیں محفوظ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’غذائی تحفظ ایک اہم مسئلہ ہے جس کا پوری دنیا کو سامنا ہے۔ قوم فوڈ سیکیورٹی کا سوچ ہی نہیں رہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ’ہماری غربت سب سے بڑا چیلنج ہے۔ جس ملک میں تھوڑے سے لوگ امیر اورغریبوں کا سمندر ہو وہ ملک محفوظ نہیں ہوتا۔ ہماری سب سے زیادہ توجہ غریب کو اوپر لانے پر ہے۔