ہمیں بولنا ہوگا اور بولنے والوں کا ساتھ دینا ہوگا- محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

 

آہستہ آہستہ ہندوتوا اپنے ایجنڈے کوآگے بڑھارہاہے؛ بل کہ بہت د ورتک پہنچ چکاہے، خاکہ توآزادی سے پہلے تیارکرلیاگیاتھا، اب رنگ بھرنے کاکام چل رہاہے، رنگ بھرنے کاکام بھی صرف بی جے پی کے برسر اقتدارآنے کے بعد سے شروع نہیں ہواہے؛ بل کہ اسی وقت سے شروع ہوگیاتھا، جب اس ملک کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیاگیا اور14/اگست کوپاکستان کے نام سے الگ ملک بنادیاگیا، ظاہرہے کہ ان لوگوں کوبڑاغصہ آیا، جواس وقت کے سرکردہ لیڈرتھے؛ لیکن اس وقت کچھ کرنہیں سکتے تھے؛ اس لئے کھل کرتواس طرح کوئی کام نہیں کیا،ہاں فسادات کاسلسلہ دراز ہوتاگیا، جوآج بھی جاری ہے، اورایک بڑا ایساکام کیا، جواس ملک میں رہ جانے والے بالخصوص مسلمانوں کے سرپرننگی تلواربن کرلٹکتی رہی ہے اورہمیشہ سے اس کے ذریعے انھیں ٹارچرکیاجاتارہاہے، وہ کام تھاملکی قانون میں ایک ایسی دفعہ کوداخل کرنے کا،جو اس جمہوری ملک میں’’مذہبی آزادی‘‘ہونے کے باوجودبھی مذہب پرعمل درآمدگی کوختم کرنے کی ایک کوشش تھی؛ چنانچہ دستورکی دفعہ نمبر(44)میں لکھاگیا: ’’مملکت یہ کوشش کرے گی کہ بھارت کے پورے علاقے میں شہریوں کے لئے یکساں سول کوڈکا نفاذ ہو‘‘۔(بھارت کاآئین(مترجم)، ص: 62)۔
عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوگاکہ ’’یکساں سول کوڈ‘‘کیاہے؟ اس سوال کاجواب جاننا ضروری ہے؛ تاکہ مسئلے کی نزاکت کوسمجھاجاسکے، اس سے مرادوہ قوانین ہیں، جن کے ذریعے ملک کے تمام باشندوں کے سماجی اورعائلی مسائل کو یکساں طورپرحل کیاجائے، اس قانون کے تحت ہرفردکی شخصی اورخاندانی زندگی کے معاملات آتے ہیں اورنکاح وطلاق ، فسخ وہبہ، وصیت ووراثت اورتبنیت(لے پالک بنانا)جیسے مسائل اسی قانون کے تحت حل ہوتے ہیں، اس قانون کے نفاذ کا مطلب یہ ہواکہ ان امورکے حل میں کسی بھی مذہب اوررسم ورواج کی رعایت نہیں کی جائے گی۔
یہ ملک مختلف مذاہب کے ماننے والوں کاملک ہے، جن کی اپنی الگ رسوم ہیں، جن کی روشنی میں شادی بیاہ اورطلاق وغیرہ کے مسائل حل کئے جاتے ہیں، یہ اوربات ہے کہ وہ سارے مذاہب اصحاب شریعت نہیں ہیں، اصحاب شریعت صرف مسلم قوم ہے، جس کے پاس دستورکے روپ میں آسمانی کتاب بغیرکسی تحریف کے موجودہے، پھراس کی تشریح کے لئے احادیث کابڑاذخیرہ اورفقہاء کے اجتہادات بھی موجودہیں، جن کی بنیادقرآن اوراحادیث ہی ہیں، ظاہرہے کہ دوسری اقوام کواس قانون سے زیادہ نقصان تونہیں ہوگا؛ لیکن مسلمانوں کے لئے سرتاسرنقصان کاباعث ہوگا، یہی وجہ ہے کہ دووسری قوموں کے مقابلہ میں مسلمان ہی زیادہ اس کے خلاف آواز بلندکرتے رہے ہیں، یہ اوربات ہے کہ دیگراقوام بھی دشواری سے بچ نہیں سکتیں؛ لیکن انھیں اپنی رسومات کوچھوڑنے سے بہت زیادہ فرق نہیں ہوگا، یوں بھی نئی نسل آزادی کی قائل ہے، مسئلہ مسلم قوم کاپھنسے گا؛ کیوں کہ یہ جان تودے سکتی ہے؛ لیکن اپنے مذہب کے دائرہ سے ایک انچ ہٹناگوارہ نہیں کرتی اورنہ اس کے لئے اس کی گنجائش دی گئی ہے۔
ادھرجب سے بی جے حکومت آئی ہے، کوئی نہ کوئی ایسامسئلہ ضرورکھڑاکردیتی ہے، جس سے محسوس ہوتاہے کہ یہ لوگ اس کوشش میں ہیں کہ یکساں سول کوڈ نافذ کردیا جائے، اس سے پہلے بھی(بی جے پی حکومت سے پہلے) کئی مسئلوں میں ایسے فیصلے کئے گئے ہیں اورپھرباقاعدہ اعلان بھی کیاگیاکہ یہ یکساں سول کوڈ کی طرف بڑھتاہواایک قدم ہے؛ چنانچہ 1972ء میں مرکزی وزیرقانون مسٹرگوکھلے نے Adoption of Children Bill 1972کوپارلیمنٹ میں پیش کرتے ہوئے کہا: ’’یہ مسودہ قانون یونیفارم سول کوڈ کی طرف ایک مضبوط قدم ہے‘‘، شاہ بانوکے کیس(1985ء) میں بھی کافی ہنگامہ آرائی رہی اوراب جب سے بی جے پی آئی ہے، وہ بھی اسی طرف قدم بڑھارہی ہے، اس نے طلاق ثلاثہ پرپہلے دھاوابولا، پھرمحرم کے بغیرعورتوں کے لئے حج میں جانے کاقانون بنایااورآج کل مرکزکی توجہ اس طرف ہورہی ہے، اس نے اشارہ دیاہے کہ یکساں سول کوڈ کے تعلق سے وسیع پیمانہ پرمشاورت کی ضرورت ہے؛ لیکن کیااس مشورہ میں ملک کی دوسری بڑی اکثریت کوبھی شامل کیاجائے گا؟ حکومت کے ’’فیصلوں‘‘کودیکھتے ہوئے یقینی طورپرکچھ کہانہیں جاسکتا۔
اس وقت ملک میں کئی بڑے مسائل اژدہے کی طرح منھ کھولے ہوئے ہیں، ان کی طرف توجہ دینے اوران پربات کرنے کی بجائے ایسے مسائل زیربحث لائے جارہے ہیں اورایسے مسائل چھیڑے جارہے ہیں، جوبہرصورت بے موقع کے راگ ہیں، خبروں کے مطابق کوروناسے متاثرین کی تعدادیومیہ لاکھ کے قریب ہوچکی ہے، اس تعلق سے بڑے بڑے دعوے کئے گئے؛ لیکن دعوے حقیقت میں تبدیل نہیں ہوئے، اگردعوے حقیقت میں تبدیل ہوتے توآج یومیہ اتنی بڑی تعدادنہ پہنچتی، معیشت تباہ ہوچکی ہے اوردوسرے کسی بھی ملک کے لحاظ سب سے زیادہ گراوٹ ہمارے ملک میں ہی ہے، اس پرکسی قسم کی کوئی بات نہیں کی جارہی ہے؛ بل کہ عین اس وقت، جب کہ معیشت پربات ہونی چاہئے، ملک کے تقریباً تمام نیوز چینلوں میں ششانت سنگھ اورکنگنا رناوت کی خبریں چھائی رہیں، بے روزگاری اپنے عروج پرپہنچ چکی ہے، بے روزگارسڑکوں پراحتجاج کررہے ہیں، اس پرکوئی گفتگونہیں جارہی ہے، کسان دھرنے پربیٹھے ہیں، وہ خودکشی پرمجبورہیں، ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے، چین 38؍ہزارکیلومیٹراندرآچکاہے، وہ سرحدپراپنی فوج بھی تعینات کرچکاہے اورفوجی اسلحہ جات کی مسلسل نقل وحرکت کرہاہے، اس تعلق سے اب جاکروزیرخارجہ کی چپی ٹوٹی ہے ؛ لیکن ٹھوس قدم کی بجائے بس باتیں ہی باتیں ہیں، اِدھرنیپال مسلسل ایسی حرکت کررہاہے، جوقابل اعتراض ہے؛ لیکن اس پرکوئی بات نہیں۔
اس وقت موقع تھاان امورپربات کرنے کا، ان امورپرتبادلۂ خیال کرنے کا، ان امورپرڈبیٹ کرنے کا، ان امورپرتوجہ دینے کا؛ لیکن بات کیاہورہی ہے؟ اورکام کونسے کئے جارہے ہیں؟ بات ہورہی ہے یکساں سول کوڈ کے تعلق سے ، کام ہورہاان لوگوں کی گرفتاری کا، جوہندوستان کے قانون کی حفاظت کے لئے سڑکوں پراترے تھے، ان نوجوانوں کوجیل میں ڈالنے کا، جوحکومت کی غلط پالیسیوں پربات کرنے کے لئے آگے بڑھے تھے، جنھوں نے حکومت کی غلط حرکتوں پرآواز بلندکی تھی، پھران کی گرفتاری بھی کس قانون کے تحت ہورہی ہے؟ UAPA (Unlawful Activities (Prevention) Act)کے تحت، جس کی روسے یہ لوگ ملک کے غدارقراردئے جارہے ہیں، کیاحق کے لئے لڑنااوراس کے لئے آواز بلندکرناملک سے غداری ہے؟ جولوگ پرامن احتجاج کررہے ہیں، وہ ملک کے غدارہیں اورجن لوگوں نے سرعام بندوقیں تانیں، گولیاں برسائیں، کھلے عام دھمکیاں دیں اورجواصل مجرم ہیں دہلی فسادکے بھڑکانے کا، وہ دیش بھگت ہیں، یہ ہے ہندوستان ، یہ ہے دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کاحال!
ایسے وقت میں بہت زیادہ افسوس ان لوگوں پربھی ہوتاہے، جوہمارے قائدین کہلاتے ہیں، جن کوہم ہمیشہ سیکولرسمجھتے رہے ہیں اورجن کی وجہ سے آج تک ہم نے کسی قسم کی سیاسی پیش رفت نہیں کی ہے، ان کی زبانوں پرتالے ہیں، ان کے یہاں مکمل طورپرخاموشی ہے، اوران کی خاموشی توسمجھ میں بھی آنے والی ہے کہ کبھی بھی ہمارے وفادارنہیں رہے، ہم ہی ان کے وفاداربن کررہے ہیں، ان کی خواہش توہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ مسلمانوں کودبا کرہی رکھاجائے، دستورسازی کے وقت اسی لئے تویکساں سول کوڈ کی وہ شق رکھی گئی، ورنہ جس ملک میں کئی مذاہب کے ماننے والے بستے ہوں اورجس ملک کاکوئی مذہب متعین نہ کیاجاسکے، وہاں کے دستورمیں، وہاں کے قانون میں اس شق کاکیامطلب ہوتاہے؟ جب ملک ہی لامذہب ہے توپھربھارت کے پورے علاقہ میں شہریوں کے لئے یکساں سول کوڈکی ضمانت کے کیامعنی؟
آج ہمیں اس پربولناہوگااورجولوگ اس پربول رہے ہیں، ان کاساتھ دیناہوگا، آج اگرنہیں بولے توزبان تک کاٹ لی جائے گی، آج اگرخاموش رہے توطبقاتی نظام مسلط کردیاجائے گا، آج اگرلب نہیں کھولے توپھرتومذہب پرعمل دشواررترین ہوجائے گا، بول کہ اس وقت تیرے لب آزادہیں، خطرہ کی گھنٹی نہیں، گھنٹہ بج چکاہے؛ لیکن ہم خاموش ہیں، ہم بھی ایسے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں، جو چودہ سوسال سے حل نہیں ہوئے، جوبکتے ہیں ان مسائل پر، انھیں بکنے دیجئے، اس میں الجھنے کی بجائے ، ملک کی صحیح صورت حال پرغورکیجئے، اس کااحساس کیجئے، ملک میں آپ رہیں گے توآئندہ بھی ان مسائل پربات کرسکتے ہیں؛ لیکن جب آپ ہی نہ ہوں گے، آپ کومذہب پرعمل کی آزادی نہیں ہوگی، توپھر بات کس پرکریں گے؟ اس لئے اس وقت مسلکی، مذہبی اوران مسائل کوچھوڑیئے،جوناتوحل ہوسکتے ہیں اورنہ جن کے تعلق سے ہمیں حشرکے دن پوچھاجائے گا، خطرہ کا احساس کیجئے، وہ نشان سے اوپرآچکاہے، اسی میں ہماری بھلائی ہیں۔
ہمیں کیاہوگیاہے کہ ہمارے خلاف توسازشیں چل رہی ہیں، ہمیں اس ملک سے دربدرکرنے کامنصوبہ بنایا جا رہا ہے، ہماری شناخت مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے، ہماری آزادی چھیننے کے چرچے ہورہے ہیں، ہمارے خلاف نفرت کی کھیتی کی جارہی ہے اوران لوگوں کے ذہن کومسموم کیاجارہاہے، جوبالکل سادہ لوح اورسادہ ذہن ہیں، اسکولی نصاب میں تبدیلی کردی گئی ہے، تعلیمی پالیسیوں میں بدلاؤلایاجاچکاہے؛ لیکن ہمیں کچھ بھی فکرنہیں، ہم ایسے حالات میں بھی کفرکفر، شیعہ شیعہ، رفض رفض، درباری اورغیردرباری مولوی اوراس طرح کے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں، حسنِ گلستاں ابھی خطرہ میں ہے،کاش! ہمیں اس حقیقی خطرہ کااحساس ہوجائے، اس کوبچانے کے تعلق سوچناچاہئے اوردین ودینی تشخصات کوبچانے کی فکرکرنی چاہئے اوراس کے لئے اس طرح کمرکس لینی چاہئے، جس طرح وقت کے لحاظ سے غیرضروری چیزوں میں کس رہے ہیں، کاش ! کاش! کاش!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*