حمید اختر کے شاہکار خاکے- نایاب حسن

مشہور ترقی پسند ادیب، صحافی و کالم نگار حمید اختر (1924-2011) کے خاکوں کی یہ نہایت دلچسپ، عمدہ، خوب صورت اور مزےدار کتاب ہے،جسے عرشیہ پبلی کیشنز کے سربراہ جناب اظہار ندیم نے مرتب کیا ہےـ اس میں ساحر، منٹو، فیض احمد فیض، سبط حسن، سجاد ظہیر، کرشن چندر، ابن انشا، ابراہیم جلیس، جوش ملیح آبادی، اخلاق احمد دہلوی کے خاکے ہیں اور کیا ہی شان دار خاکے ہیں ـ حمید اختر چوں کہ خود ترقی پسند ادبی تحریک کے رکنِ رکین، ممبئی میں اس کے سکریٹری اور مذکورہ ادیبوں کے ہم نشینوں میں تھے، مختلف زمانی وقفوں میں ان میں سے بیشتر کے ساتھ ان کا روز کا اٹھنا بیٹھنا رہا تھا، سو انھوں نے ان کے راست مشاہدے اور بلا واسطہ تعامل کے بعد جو کچھ محسوس کیا ہے، اسے فنکارانہ انداز میں سپردِ قرطاس کر دیا ہے؛ اس لیے ان خاکوں میں معلومات افزائی کا عنصر بھی ہے اور زبان کی سلاست و شیرینی تو اوج پر ہےـ آپ چاہیں تو 234 صفحات کی یہ کتاب بے تکان ایک دو نشستوں میں پڑھ سکتے ہیں ـ شخصیات کی جو حلیہ نگاری، اوصاف بیانی اور منظرکشی حمید اختر نے کی ہے، اس میں غضب کی جودت و حلاوت ہے، بعض عبارتیں اتنی پیاری اور دلکش ہیں کہ بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے اور اگر پڑھیے تو ہر بار وہ عبارت تازہ و رس دار لگتی ہےـ
یہ سارے خاکے مشاہیر ادب کے ہیں، جن کے بارے میں اب تک ہزاروں صفحات لکھے جاچکے ہیں، سوانحی و تنقیدی مضامین اور کتابوں کے علاوہ ان کے دیدہ و نادیدہ دوستوں اور نیاز مندوں نے ان کے خاکے بھی بہت لکھے ہوں گے، مگر حمید اختر نے چہرہ شناسی کے جس ملکہ کا مظاہرہ اپنے خاکوں میں کیا ہے، اس کا جواب نہیں ہےـ ایک خوبی اس کتاب کی یہ بھی ہے کہ مصنف نے جس شخصیت کا خاکہ کھینچا ہے، اس کے گردوپیش میں رونما ہونے والے واقعات اور ان کے توسط سے کئی دیگر افراد کا ذکر بھی زیرِ قلم آگیا ہےـ فیض اور سجاد ظہیر پر لکھے گئے مضامین میں سعادت مندانہ عقیدت کیشی کی جھلک گہری ہے، جبکہ ابن انشا اور ساحر پر ان کا قلم زیادہ بے تکلفانہ چلا ہے، وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں حمید اختر کے بچپن کے یار اور سکولوں کے ساتھی تھے، وہ ان کے بارے میں، ان کے گھر خاندان اور افتاد و نہاد کے بارے میں وہ کچھ جانتے تھے، جو دوسرے نہیں جانتے ہوں گے؛ چنانچہ ان کے بارے میں ایسی معلومات انھوں نے شیئر بھی کی ہیں، جو ساحر یا ابن انشا کے بارے میں لکھی گئی کسی اور تحریر میں نہیں مل سکتیں ـ کم و بیش یہی بات دوسرے مضامین میں بھی ہے، انھیں پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حمید اختر میں لوگوں کو اندر تک پہچان لینے اور پھر ان کی ہو بہو صورت گری کی نہایت منفرد قسم کی صلاحیت تھی ـ چوں کہ یہ سارے لوگ اور خود مصنف ترقی پسند ادبی تحریک سے وابستہ تھے، سو غیر محسوس ترتیب کے ساتھ تمام شخصیات کے تذکرے میں اس تحریک اور کمیونسٹ پارٹی(پاکستان) کی سرگرمیوں کا بھی ذکر پوری کتاب میں چلتا ہےـ اس راہ میں آنے والی مشترکہ آزمایشوں کی روداد بھی بیان ہوتی ہے اور اس نصب العین کا ذکر بھی کئی بار آتا ہے، جسے لے کر ترقی پسندوں کا قافلہ سرگرمِ سفر ہوا تھا ـ
ایک دلچسپ خاکہ خود ان کا اپنا بقلم خود ہے، جس میں پوری صفائی اور حقیقت بیانی کے ساتھ اپنے اوصاف و اخلاق، خامیوں اور خوبیوں پر اظہارِ خیال کیا ہےـ الغرض خاکوں کا یہ نہایت پرلطف مجموعہ ہر لحاظ سے قابلِ مطالعہ ہے، خصوصا ان لوگوں کے لیے، جو زبان و ادب کا لطیف و نفیس ذوق رکھتے ہیں اور جنھیں مذکورہ ادبی و شعری شخصیات سے کسی بھی درجے میں انس ہے ـ یہ کتاب پہلے پہل پاکستان سے ‘احوالِ دوستاں ‘ کے نام سے 1988 میں شائع ہوئی تھی، بعد میں کچھ ترمیم و اضافے کے بعد ‘آشنائیاں کیا کیا ‘ کے نام سے شائع ہوئی، اسی نام سے راشد اشرف نے ‘زندہ کتابیں ‘سیریز کے تحت غالبا دو سال پہلے اسے شائع کیا ہے اور ہندوستان میں اسے نئے نام سے شائع کیا گیا ہے، جس کا پہلا ایڈیشن  عرشیہ پبلی کیشنز دہلی اور کتاب دار ممبئی کے زیر اہتمام 2020میں آیا تھا،دوسرا ایڈیشن 2021 میں آیا ہے،قیمت اس کی ڈھائی سو روپے ہے۔