Home نقدوتبصرہ ہم عصر اردو ناول: شناخت کا مقدّمہ – صفدر امام قادری

ہم عصر اردو ناول: شناخت کا مقدّمہ – صفدر امام قادری

by قندیل

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

1970ء سے موجودہ عہد تک نصف صدی میں ناول نگاروں کی جو نسل سامنے آئی، ان میں سے کم و بیش وہ سب لوگ شامل ہیں جواوّلا افسانے کے میدان میں آئے۔ عبدالصمد، غضنفر، پیغام آفانی، حسین الحق، سید محمد اشرف، انور خاں، علی امام نقوی، شموئل احمد، عشرت ظفر، نورالحسنین، الیاس احمد گدی، اقبال مجید، مشرف عالم ذوقی، شمس الرحمان فاروقی، جوگندر پال وغیرہ کے نام بغیر کسی اضافی توجہ کے ہمیں یاد آتے ہیں۔ اکیسویں صدی میں ناول نگار کی حیثیت سے ابھرنے والی نسل کی الگ سے فہرست بنائیں تو اس میں خالد جاوید، ثروت خان، شایستہ فاخری، ذکیہ مشہدی، ترنم ریاض، صادقہ نواب سحر، رحمان عباس، صدیق عالم، شبیر احمد، حبیب حق، صغیر رحمانی، محسن خان، اشعر نجمی وغیرہ ایسے ناول نگار ہیں جنھیں اچھی خاصی پہچان حاصل ہوچکی ہے۔ ان کے ساتھ نئی نسل کے متعدد نوخیز اہلِ قلم بھی سرگرمِ سفر ہیں جنھوں نے اپنے ایک یا ایک سے زیادہ ناول پیش کردیے ہیں۔ نیلوفر خوشنود، سفینہ بیگم، سلمان عبدالصمد، عمران عاکف خاں، حمیراعالیہ، ممتاز عالم رضوی وغیرہ اردو ناول کی بساطِ نو کے تاروپود جوڑنے میں کامیاب نظر آرہے ہیں۔ ان کے علاوہ پچاس برسوں میں گنڈے دار ناول نگاروں کی بھی ایک خاص تعداد اپنی تصنیف کے لیے داد طلب نگاہوں سے دیکھتی رہی ہے۔ محمد علیم، کوثر مظہری، شوکت حیات، نسترن احسن فتیحی، فضل رب، محمد حسن، ساجدہ زیدی وغیرہ کے ناول ان کی دوسری تصنیفی سرگرمیوں کا حصہ بنتے ہوئے منظرِ عام پر آئے۔اس مجموعی سرمایے کی سرسری فہرست سازی کیجیے تو دو سو سے کم ناول معاصر اردو فکشن کے حصے میں نظرنہیں آئیں گے۔ کیا ان میں پانچ فی صد قدرِ اول کی تحریروں کی تلاش نہیں کی جاسکتی؟ ترقی پسند ناولوں میں بھی قابلِ قدر تصانیف کا تناسب اس سے کچھ مختلف نہیں ہے۔
ہم عصر ناول نگاری میں بھی جو پہلی نسل ہمارے سامنے نظر آتی ہے، ان کی پشت پر کم و بیش دیڑھ دو دہائیوں کا تصنیفی تجربہ کام کررہا ہے۔ عبدالصمد، غضنفر اور پیغام آفاقی نے جب اردو میں اپنے پہلے ناول پیش کیے تو افسانہ نگاری کا ایک لمبا دور بیت چکا تھا۔ غضنفر نے تو شاعری بھی اچھی خاصی پیش کردی تھی۔ اس طرح تخلیقی تجربے سے خود کو آراستہ کرنے کے بعد یہ نسل ناول کی طرف آئی۔ حسین الحق، سید محمد اشرف، مشرف عالم ذوقی وغیرہ کے بارے میں بھی یہی کہا جاسکتا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تصنیفی مشق کے ایک بڑے دورانیے کو پار کیے بغیر یا مطالعہ کائنات کے بہت سارے مدارج سے کامراں گزرنے کے بعد ہی ناول کی تصنیف کا بالعموم مرحلہ سامنے آتا ہے۔ اسی لیے کسی ناول کو قبولِ عام کا درجہ بہت کم فوری طور پر حاصل ہوتا ہے۔ کبھی ایسا اتفاق ممکن ہے مگر عام طور پر کسی ناول کو پڑھنے والے قبول کرنے میں اچھا خاصا وقت لگاتے ہیں۔ شاید اس کے پیچھے ایسی وجہ ہو کہ ناول کا اثر غزل کے شعر کی طرح نہیں ہوتا بلکہ دھیرے دھیرے ہماری رگوں میں اور ہماری سانسوں اور دھڑکنوں میں اس کی لہریں پیوست ہوتی جاتی ہیں۔ ان میں برسوں اور کبھی کبھی دہائیوں کا سفر درپیش ہوتا ہے۔ اکثر تو یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کسی لکھنے والے نے پانچ سات برس کے بعد دوسری تصنیف یا تیسرا اور چوتھا ناول لکھا مگر قارئین اور نقادوں کا ایک بڑا حلقہ ابھی اس کے گذشتہ ناول کے تازہ سحر میں گرفتار ہے۔ جس طرح ناول کی تصنیف کا کام برسوں کا وقفہ چاہتا ہے، اسی طرح ناول کی قدرشناسی کے لیے بھی وہ زمانی فصل لازم ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ناول نگار، قاری اور نقاد کے درمیان مباحثہ و مجادلہ ممکن ہی نہیں ہوتا۔ رسائل کے صفحات پروہ گرم جوشی فوری طور پر پیدا ہی نہیں ہوسکتی ہے جیسی اس وقت ہونی چاہیے جب وہ ناول ہمارے اعصاب پر سوار ہوچکا ہو۔
عبدالصمد، غضنفر، پیغام آفاقی سے لے کر شمس الرحمان فاروقی تک کی نسل کو ابھی چھوڑیے، ان کے بعد آنے والے ایسے ناول نگار جو بیسویں صدی کے بعد اپنی شناخت کا دعوا پیش کررہے ہیں، ان کی قدرشناسی کے مسائل رفتہ رفتہ پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں۔ وہ خود اس سلسلے میں اتنے بیدار، چاق و چوبند اور نرگسیت میں مبتلا ہیں کہ ان کا آزادانہ محاسبہ بہت مشکل ہے۔ مصنف خود اپنے بارے میں یا مصنف کے عقیدت مند اس خاص مصنف کے بارے میں جو چاہیں، وہ عوام کے سامنے پیش کرنے میں آزاد ہیں۔ سوشل سائٹس پہ اردو کے افسانہ نگاراور ناول نگاروں کی دھما چوکڑی اور ان کے جو نتائج ہیں، وہ اس بات کی صراحت کرتے ہیں کہ فضا میں جو آلودگی پھیل رہی تھی۔
1960ء کے بعد کے دور میں افسانہ نگاروں کے لیے تنقیدی وکالت کا دور سامنے آیا۔ اس کے باوجود بلراج مین را ہوں یا احمد ہمیش یا سریندر پرکاش؛ پچھلے دور کے افسانہ نگاروں کی مقبولیت سے کوسوں دور رہے۔ ستر کے بعد کے افسانہ نگاروں نے اپنی آنکھوں کے سامنے جدیدیوں کی تنقیدی زورآوری سے افسانہ نگاروں کے مقام و مرتبے کے تعین کا بازار دیکھا تھا، اس لیے ان میں بھی یہ لَت در آئی۔ بعد کی نسل کو سوشل میڈیا کا زمانہ حاصل ہوگیا۔ دوسری بات یہ بھی ہوئی کہ اردو زبان کی ریڈرشپ مرحلہ وار طریقے سے گھٹتی چلی گئی۔ کوئی ایسا رسالہ نظر نہیں آتا جس میں نقاد اور قارئین بحث کرکے کسی تحریر کو بااعتبار بنا سکیں۔
ایسے ماحول میں سوشل سائٹس کی مدد سے اردو کے ناول نگاروں کی پوری ایک فوج سامنے آئی جسے خود اپنے ادبی اعتبار کے بارے میں احترام و عقیدت کا عرفان حاصل ہے۔ یہاں مقرر کردہ قبیلے ”انیسیے“ اور ”دبیریے“ بنے ہوئے دستیاب ہیں۔بعض ناول تو دورانِ تصنیف ہی عظمت و فضیلت کے تاج و افسر سے آراستہ ہو جا رہے ہیں۔کتاب کی حصول یابی کی رسید، اخلاقی، روادارانہ اور تکلف میں لکھے ہوئے الفاظ تنقیدی ثبوت کے طور پر آزمائے جارہے ہیں۔ تاریخ کے اسی موڑ پر شعرا نے قبولیت کے سلسلے سے کوئی عجلت پسندی نہیں دکھائی۔ اپنا نیا یا پرانا کلام پیش کردیا اور تھوڑی بہت روایتی واہ واہی ہوگئی مگر گردن پر چھری رکھ کر کسی شاعر نے اپنے ہم زبانوں سے اپنی اہمیت منوانے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی۔
یہ کام صرف اور صرف ہمارے عہد کے ناول نگار کررہے ہیں۔ گم نام قارئین اور ناتجربہ کار اور نوآموز تنقید نگاروں اور پسندیدہ لکھنے والوں سے عقیدت کے پھول قبول کیے جارہے ہیں۔ مصنف خود اطلاعات فراہم کرتا ہے، اس لیے حیل و حجت کی گنجایش کہاں؟ مگر جب یہ آپ کو پتا چلے گا کہ کسی ناول کی پہلی اشاعت ایک ہفتے میں آؤٹ آف اسٹاک ہوگئی یاتین مہینے میں اس کی چار اشاعتیں اور کئی ملکوں میں دوسری اشاعتیں بھی سامنے آگئیں تو ایک طرف یہ تجربہ کار قصہ نویس کا طبع زادقصہ معلوم ہوتا ہے یا پھر موجودہ عہد کی اشتہار بازی اور تکنیکی تکڑم یا ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی ہوڑ کے علاوہ اسے کیا کہا جائے؟ اس تماشے میں ناولوں کا کماحقہٗ احتساب نہیں ہورہا ہے۔ تعارفی، تعریفی اور پانچ سات سو لفظوں کے نوٹس شایع کرائے جارہے ہیں۔ آٹھ سو صفحات کے ناول کو پڑھ کر اگر کسی نے دس بیس صفحہ نہیں لکھا، خاص طور سے ایسی حالت میں جب اس سے پہلے بھی اس ناول نگار کی کئی تصنیفات سامنے آچکی ہوں تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ موجودہ ماحول میں ناولوں کا آزادانہ احتساب نہیں ہورہا ہے۔ معاصر اردو فکشن کی نصف صدی کا نصف دوم انھی خطرات کی وجہ سے مشکل دور میں ہے۔ ورنہ جی تو یہ چاہتا ہے کہ اس نسل کے ادبی سرمایے سے دس چُنی ہوئی تحریریں منتخب کرکے ترقی پسندیا جدید عہد کے بڑے لکھنے والوں کی تصنیفات کے متوازی رکھا جائے۔ نشانہ اگرچہ بڑا ہے مگر ایسا کہنا مشکل ہے کہ ہم عصر اردو ناول نگاروں نے آگ کا دریا یا اداس نسلیں یا ایک چادر میلی سی جیسے ناول اگر نہیں لکھے تو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دو گز زمین، پانی، اماوس میں خواب، مکان، ایوانوں کے خوابیدہ چراغ، لے سانس بھی آہستہ، کئی چاند تھے سرِ آسماں، فائر ایریا، نعمت خانہ اور زندیق جیسے ناول گذشتہ تیس پینتیس برسوں میں سامنے آئے۔ ذرا زمانی وقفہ بیتنے دیجیے، ان ناول نگاروں کے کچھ اور ناولوں کو شایع ہوکر قارئین کے بیچ بکھرنے دیجیے۔ یقینی طور پر ان میں سے چند تحریریں ہماری تاریخ کا اُسی طرح حصہ بنیں گی جس طرح امراؤ جان ادا، گؤدان، آگ کا دریا، اداس نسلیں، آنگن، شکست، ٹیڑھی لکیروغیرہ ناولوں نے ہماری ادبی تاریخ میں اپنا سکہ بٹھایا تھا۔ ہمیں ہمیشہ یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ ناول کا جادو دھیرے دھیرے قائم ہوتا ہے مگر وہ تادیر قائم رہتا ہے۔ آج کوئی تحریر آئی اور اسی ہفتے میں احتساب کے مرحلے سے گزر کر Magnum Opus بن کروہ تاریخی مقام حاصل کرنے کی خوگر ہوگئی تو آپ سمجھ لیجیے کہ اس میں کوئی نہ کوئی گڑبڑی ہے۔ ناول کی قدر شناسی ہر حال میں سست روی سے ہی ممکن ہوگی۔ ہمیں ٹھہر کر اور صبر کے ساتھ ہم عصر ناول نگاری کے منظرنامے کے مقام و مرتبے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
آج کے فکشن کے احتساب کے راستے میں یہ بھی رکاوٹ ہے کہ بیش تر تخلیق کار آزادانہ طور پر اپنے احتساب کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ منٹو بیدی کے زمانے کو سامنے رکھیے تو یہ واضح فرق سمجھ میں آجائے گا۔ قرۃ العین حیدر کے بارے میں بھی اچھا خاصا لکھا گیا۔ ہر تنقید سے تخلیق کار کا اتفاق کرنا کیوں کرلازم ہوسکتا ہے؟ غالب اور میر آج زندہ ہوتے تو کیا ان پر جو کچھ لکھا گیا ہے، ان پر وہ بہ نظرِ تحسین توجہ کرتے یا اپنے نقادوں سے حجت پر اپنا بچا ہوا وقت صرف کرتے۔ مشرف عالم ذوقی کی ہر تحریر پر ان کی اپنی راے مسلم ہوتی تھی، ایسے میں نقاد کا کام کہاں بچ جاتا ہے۔ مشرف عالم ذوقی صرف مثال ہیں، ان کے جیسے ہم عصروں میں بہت سارے ہوں گے۔شموئل احمد، خالد جاوید، رحمان عباس اور اشعر نجمی کو بھی اسی فہرست میں شامل رکھنا چاہیے۔ فکشن کی تنقید کے سلسلے سے یہی بڑامسئلہ ہے۔ ردعمل میں اس عہد کے نقاد کے پاس بھی جائے پناہ ہے۔ ہم عصر ادب کو چھوڑ کر وہ بھی منٹو،بیدی اور قرۃالعین کرتا رہے گا۔ اس لیے صرف ہم عصر نقادوں کو نہیں جاگنا ہے بلکہ ہمارے افسانہ نگار اور ناول نگاروں کو بھی اس تخلیقی خدائی سے باہر نکلنا ہوگا جس کے طلسم میں وہ دورانِ تخلیق گرفتار ہوتے ہیں۔ بیدی اور منٹو بھی باہر نکلے تھے، پریم چند بھی اپنی جادوئی دنیا کے اسیر نہ ہوئے۔ ورنہ ہم آپ وقت کی اس ضرب کو کہاں سنبھال پائیں گے۔

You may also like

Leave a Comment