ہماری یاد جب آئے تو دو آنسو بہادینا ـ محمد خالد ضیا صدیقی ندوی

آہ! استاذ محترم مولانا نذرالحفیظ ندوی ازہریؒ
( دوسری قسط)

استاذِ محترم کا پہلادرس: کچھ یادیں،کچھ باتیں:

ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ 29/ اکتوبر2008 کی تاریخ تھی اور علیا اولی ادب کا سال تھا جب درس دینے کے لیے استاذ محترم درس گاہ میں پہلی بار تشریف لائے ۔آپ نے آتے ہی ادب مرسل پر کچھ دیر گفتگو فرمائی۔پھر’’الأغانی ‘‘ کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا:
’’ ابوالفرج اصفہانی کی کتاب ’’الأغاني‘‘ زبان وادب کا بہترین نمونہ ہے۔ یہ اپنی فصیح عربیت ، ادبی شان،حسن تعبیر ، اصفہانی کے بیان کی قدرت اور احساسات وجذبات کی شاندار ترجمانی کے لیے جانی جاتی ہے۔ یہ عہد عباسی کی ان تصنیفات میں سے ایک ہے جو غیرمصنوعی ادب(ادب مرسل) کی نمائندہ مانی جاتی ہیں۔ اس کتاب میں موسیقی ، ثقافت اور زمانۂ جاہلیت اور ابتدائے اسلام کے عربی آداب ورسوم کا جامع نقشہ کھینچا گیا ہے؛لیکن نقشہ اس انداز سے کھینچا گیا ہے کہ پڑھنے والے کویہ تأثر ملتا ہے کہ اسلامی معاشرہ گانے بجانے کا معاشرہ تھا۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ اسلامی معاشرے کی مسخ شدہ تصویر ہے۔یہی وجہ ہے کہ مخالفین اسلام کے نزدیک اس کتاب کی بڑی اہمیت ہے۔اسی کتاب کو بنیاد بنا کر عیسائی مؤرخ جرجی زیدان نے اپنی مشہور زمانہ کتاب’’ تاریخ التمدن الإسلامی‘‘ لکھی ،جس میں انھوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلامی معاشرہ گانے بجانے کا حلیف اور مؤید تھا۔ جرجی زیدان کی جب یہ کتاب منظر عام پر آئی،تو علامہ شبلی نعمانیؒ کی رگ حمیت پھڑک گئی،اور انھوں نے’’ الانتقاد علی تاریخ التمدن الاسلامی‘‘ کے نام سے ایک تنقیدی کتاب لکھی،اور جرجی زیدان کے پھیلائے ہوئے زہر کو بڑی حد تک ختم کردیا‘‘۔
پھر فرمایا:
’’اغانی کا یہ کمزور پہلو حضرت مولانا(علی میاں ندویؒ) کے سامنے بھی واضح تھا۔ان کو بڑا افسوس تھا کہ اصفہانی کا سحرطراز اور ادبی قلم کیسے اغانی کی وادی میں جاپڑا،اور کیسے انھوں نے اپنے اس علمی اودبی شاہ کار کو گھٹیا مقاصد (یعنی گانے بجانے،دھن اور سر وغیرہ )کے لیے استعمال کیا۔اسی خیال نے حضرت مولانا کو آمادہ کیا کہ قصصی اسلوب میں ایک ایسی کتاب تیار کی جائے، جس میں اغانی کے اسلوب کی نقل کی کوشش توکی جائے؛ لیکن اس کے مقاصد شریفانہ ہوں،اورجس سے تاریخ کا کوئی روشن پہلو سامنے آئے۔ ’’إذاھبت ریح الإیمان‘‘ اسی خیال کا عملی وجود ہے۔ اس لیے آپ حضرات ان دونوں کتابوں کو پڑھتے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں،اور تقابلی مطالعہ کرنے کی کوشش کریں‘‘۔

اس تمہیدی گفتگو کے بعد آپ نے فرمایا:
’’ ادب مرسل کی یہ دونوں کتابیں صرف نمونے کے لیے داخل نصاب ہیں،ورنہ دور حاضر میں اب ایسی بہت سی کتابیں آگئی ہیں جو رواں اور شستہ وشگفتہ اسلوب کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:
الطریق إلی المدینة(ندویؒ)
روائع إقبال(ندویؒ)
مذکرات سائح في الشرق العربي(ندویؒ)
من نھر کابل إلی نھر یرموك(ندویؒ)
رجال من التاریخ(طنطاویؒ)
قصص من التاریخ(طنطاویؒ)
مقالات في کلمات(طنطاویؒ)
من نفحات الحرم(طنطاویؒ)
ذکریات(طنطاویؒ)
حیاتي( أحمد أمینؒ)
فیض الخاطر(أحمد أمینؒ)
الأیام( طه حسینؒ)
علی ھامش السیرۃ( طه حسینؒ)
عبقریات( عقادؒ)
وحي القلم( رافعيؒ)
النظرات( منفلوطيؒ)
العبرات(منفلوطيؒ)
ماجدولین( منفلوطيؒ)

جب نقد ادب کے گھنٹے میں تشریف لائے ، تو کتاب اور صاحب کتاب کی خصوصیات پر مفصل روشنی ڈالی۔ اور بتایا کہ’’ ڈاکٹر عبدالرحمن رأفت پاشا ایک ممتاز اسلامی ادیب وناقد تھے۔ ان کی یہ کتاب’’نحو مذھب إسلامي في الأدب والنقد‘‘ اسلامی ادب اور نقدادب کی اہم ترین کتاب شمار کی جاتی ہے۔اس کتاب میں شعر وادب کے حوالے سے اسلامی نقطۂ نظر کو واضح کیاگیا ہے۔ پھر مصنف نے ادب کے حوالے سے مغرب کے نقطۂ نظر کو بیان کیا ہے،اور تاریخ کے مختلف ادوار میں مغرب میں ادب کے جو نظریات ورجحانات پائے جاتے رہے ہیں،ان کو پیش کرکے اسلامی نقطۂ نظر سے ان کا تنقیدی جائزہ لیا ہے اور اسلام کے موقف کو بڑی مضبوطی سے پیش کیا ہے،جس سے مغربی تصوراتِ ادب کی کمزوری اور اسلامی ادب کی مضبوطی ؛بلکہ برتری ظاہر ہوتی ہے۔ ادب اسلامی اورمغرب کے تصورات ادب کے مابین تقابلی مطالعہ اس کتاب کی منفرد شناخت ہے۔ کتاب کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں فصیح عربی زبان اور معروضی اسلوب میں تجزیاتی، علمی اور تنقیدی مطالعہ کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ جس کا مواد قرآن وحدیث سے ماخوذ ہے‘‘۔

*استاد محترم کے محاضرات کی چند جھلیکیاں:*

تخصص کے سال دوم میں استاد محترم کےمحاضرات کے گھنٹے تھے۔ آپ نے’’ علم النفس والاجتماع‘‘ اور’’ استشراق ومستشرقین‘‘ کے موضوع پر کئی پرمغز اور نہایت قیمتی محاضرات دیے۔ ان محاضرات کو میں نے دوران درس ہی قلم بند کرلیاتھا۔ان شاء اللہ کسی مناسب موقع سے وہ شائع کیے جائیں گے؛ لیکن یہاں دو اقتباس پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔
انسان کے مزاج وطبیعت اور اس کی ظاہری وباطنی خصوصیات کی تشکیل وتعمیر کب سے شروع ہوتی ہے اور اس کے عوامل وعناصر کیا ہیں؟اس حوالے سے یہ اقتباس دیکھیں:
’’ انسانی مزاج وطبیعت اور اس کی ظاہری وباطنی خصوصیات کی تشکیل وتعمیرکا آغاز رحم مادر سے ہونے لگتا ہے۔جو قطرہ رحم مادر میں پڑتا ہے،اس میں والدین اور ان کے خاندان کی خصوصیات،عادات واطوار، مزاج، جسمانی رنگ،قدوقامت، چہرے،بال، آنکھ کے علاوہ جسمانی بناوٹ یہاں تک کہ غذا کی نوعیت،حرام وحلال کے فرق کے ساتھ ،عقائد،باہمی تعلقات،گھریلو ماحول، جغرافیائی آب وہوا… یہ وہ عوامل ہیں جو رحم مادر میں انسان کی تعمیر وتشکیل پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
یہ بات تو واضح ہے کہ جیسے ظاہری طورپر جسم اور دل ودماغ خارجی اثرات قبول کرتے ہیں، اسی طرح انسان کا باطن بھی اندرونی اثرات اور معنوی محرکات کو قبول کرتا ہے۔ قرآن وحدیث میں ان سب کی طرف اشارے کیے گئے ہیں اور انسان کو پوری ہدایت دے دی گئی ہے کہ وہ اپنے ظاہر وباطن کو بنانے میں عقیدۂ توحید، عقیدۀ رسالت اور عقیدۀ آخرت کو ایسا سرچشمہ قرار دے جس سے اس کی سیرت وکردار کی تشکیل میں مدد ملے‘‘۔
ایک بڑا قیمتی اور وقیع محاضرہ *’’مراہقت کادور اور اس کے تقاضے‘‘* کے عنوان پر تھا۔ جس میں اس دور کی نزاکتوں، تربیتی تقاضوں اور مختلف ممالک کی آب وہوا اور تہذیب وثقافت کے فرق سے پیدا ہونےوالے نتائج کو بڑےاچھے انداز میں آپ نے اجاگر کیا تھا۔
اہل علم بہ خوبی واقف ہیں کہ مغربی ممالک میں مذہب واخلاق کے باب میں آزادی کا تصور پایا جاتاہے۔ وہاں کے باشندے مذہب کی گرفت سے آزاد ہوتے ہیں۔ وہاں کے خاندانی نظام میں مرکزیت کا فقدان ہوتا ہے۔ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھیے اور ذیل کا اقتباس پڑھیے:
’’ مغرب نے آزادی کے نام پر چھوٹے بچوں کو بھی ہر طرح کی آزادی دے رکھی ہے؛اس لیے یہ بچے خودرو گھاس کی طرح جنگل میں بڑھتے رہتے ہیں اور پورے معاشرے کے لیے ان کا وجود کسی نہ کسی طرح نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔یہی حال؛ بلکہ اس سے بھی زیادہ بدترحال ان بچوں کا ہوتا ہے جو عورتوں اور مردوں کے آزادانہ اور غیر اخلاقی تعلقات کے نتیجے میں وجود میں آتے ہیں۔ ایسے بچوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ غیرقانونی اور غیر اخلاقی تعلقات کے نتیجے میں جو بچے پیدا ہورہے ہیں، وہ ذہنی ،فکری، جذباتی، عقلی ، اخلاقی اور جسمانی لحاظ سے مریض پیدا ہورہے ہیں۔مختلف اعصابی امراض کا شکار ہیں۔ عقلی توازن سے محروم اور اعلی انسانی قدروں سے دور؛ بلکہ ان کے دشمن ہوتے ہیں۔ اس کا ایک بھیانک نتیجہ یہ سامنے آرہا ہے کہ انسانی آبادی تیزی کے ساتھ گھٹ رہی ہے اور نئے نئے پیچیدہ مسائل ومشکلات پیدا ہورہے ہیں،اور اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑرہے ہیں‘‘۔
*’’استشراق اور مستشرقین‘‘* کے عنوان سے جو محاضرات آپ نےدیے ، وہ استشراق کی تعریف، اس کی تاریخ، اس کے پس منظر،اس کے دینی مقاصد اور چند مشہور مستشرقین کے تعارف پر مشتمل تھے۔ یہ محاضرے بھی بڑے قیمتی، جامع اور معلومات سے لبریز تھے۔

*آپ کےدرس کی چند خصوصیات:*

استاد محترم کا درس انتہائی آسان ہوتا تھا ۔آپ ٹھہر ٹھہر کر بولتے تھے۔ عام طور سے دوران درس سنجیدگی غالب رہتی ؛ لیکن کبھی کبھی کچھ ایسے چست، سبک اور دل چسپ فقرے استعمال فرماتے کہ طلبہ میں،نشاط پیدا ہوجاتا۔ آپ کے درس کی کئی اہم خصوصیتیں تھیں۔ آپ کے ایک ممتاز شاگرد مولانا وزیر احمد اعظمی ندوی نے اپنی کتاب ’’میری محسن شخصیات‘‘ میں آپ پر بھی ایک خوب صورت مضمون لکھا ہے۔ ہم انھی کے الفاظ میں آپ کے درس کی خصوصیات کی ایک جھلک دکھاتے ہیں:
1_ درس کے درمیان جچے تلے الفاظ اور جملوں کا استعمال، جن سے مسئلہ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ بولتے وقت آواز کی ملائمت اور نرمی کا لحاظ جو درس کو مزید دل چسپ اور دل آویز بنادے:
وہ بولتا ہے تو ایک روشنی سی ہوتی ہے
2_ درس کے وقت طلبہ کی ذہنی وفکری صلاحیتوں اور استعداد کی رعایت۔
3_ الفاظ وتعبیر اور جملوں کی وضاحت کے وقت آسان، سہل پسند اور افہام وتفہیم کا اسلوب۔
4_ دروس کے وقت بعض عالمی مسائل کا ذکر؛ تاکہ طلبہ عالمی مسائل سے واقف ہوسکیں۔
5_ درس کے دوران طلبہ کے نشاط اور چستی کو برقرار رکھنے کے لیے بعض لطائف کا تذکرہ۔(میری محسن شخصیات:۸۹)
6_ اپنی بات کی تائید میں قرآنی آیات سے استشہاد ۔

(جاری)