ہماری یاد جب آئے تو دو آنسو بہادینا ـ محمد خالد ضیا صدیقی ندوی

آہ!استاذِ محترم مولانا نذرالحفیظ ندوی ازہریؒ
( پہلی قسط)

15/شوال 1442ھ مطابق 28/مئی 2021ء بروزجمعہ دارالعلوم ندوۃ العلما،لکھنؤ کے سینئر ترین استاداور صدر شعبۂ عربی، استاد محترم مولانا نذرالحفیظ ندوی ازہری 12/ بج کر 55/ منٹ پر بوقت جمعہ مختصر سی علالت کے بعد اللہ کو پیارے ہوگئے۔استاد محترم کی رحلت کی خبر سے نہ صرف آنکھیں روئیں ؛بلکہ دل بھی روپڑا:

دل سے لپٹ لپٹ کر غم باربار رویا

آہ! کیسےیقین کروں کہ استاد محترم اب اس جہان رنگ وبو میں نہیں رہے۔ان کی شفقت وعنایت سے محرومی کا احساس آنکھوں کو باربار بھگودے رہا ہے۔ان کی یادیں اور باتیں رہ رہ کریادآرہی ہیں اورآنکھوں کو بے اختیارکردےرہی ہیں۔

اس اٹل حقیقت کے باوجود کہ یہ دنیا انسان کا دائمی نشیمن نہیں، بعض لوگوں کی موت سے سخت صدمہ پہنچتا ہے۔اگر مرنے والا آپ کا محسن ہو تو،اس کا دکھ اورزیادہ محسوس ہوتا ہے؛لیکن اگر محسن ہونے کے ساتھ وہ آپ کا استاد ومربی ہو،وہ شفیق باپ سے زیادہ آپ کے ساتھ شفقت ومحبت کا برتاؤ کرتا رہا ہو، وہ آپ کی کامیابی سے نہ صرف خوشی محسوس کرتا رہا ہو؛بلکہ آپ کی ترقی وبلندی کا دل سے متمنی رہا ہو، توایسےانسان کی موت بہت رلاتی ہے۔استاد محترم کی رحلت سے پہنچنے والے صدمے کی نوعیت کچھ اسی قسم کی ہے۔

استاد محترم سے واقفیت کی ابتدا:

استاد محترم کے نام سے کان اسی وقت آشنا ہوگئے تھے،جب میں 1999ء میں شمالی بہار کی مشہور دینی درسگاہ مدرسہ اسلامیہ (شکرپور،بھروارہ،دربھنگہ) میں حصول علم کے لیے حاضرہوا ۔
پھر جب 2003ء میں پرتاب گڑھ کے مشہور قصبے کنڈہ میں واقع دارالعلوم ندوۃ العلما کی مشہور وممتازشاخ مدرسہ نورالاسلام میں تعلیم کی غرض سے حاضر ہوا، تووہاں فضلائے ندوہ کے کاموں اور ان کی علمی خدمات سے واقف ہونے کا خوب موقع ملا۔ انھی دنوں کی بات ہے کہ استاد محترم کی مشہور ووقیع کتاب ’’مغربی میڈیا اور اس کے اثرات‘‘ پر ادھر ادھر سے نظرڈالی۔ کبھی کبھی تعمیر حیات میں ان کے مضامین بھی نظر سے گزرتے،اوراپنی بساط بھردامن مراد بھرنے کی کوشش کرتا۔

استاد محترم سے استفادے کی مختلف شکلیں:

پھرجب 2005 کے اواخر اور 2006 کے اوائل میں دارالعلوم ندوۃ العلما پہنچا، تووہاں کی علمی وادبی فضا دیکھ کربڑی مسرت ہوئی۔اور کیوں نہ ہوتی کہ مدتوں بعد میرے نخل تمنا کو شاداب اور نہال ہونے کا موقع مل رہا تھا۔میں نے مکمل کوشش کی کہ ندوۃ العلما کے علمی وادبی ماحول سے اچھی طرح فائدہ اٹھاؤں۔ وہاں کے اساتذہ ومعلمین سے خوب خوب کسب فیض کروں؛کیوں کہ ہمارے اساتذہ نے بچپن ہی سے یہ بات ذہن نشیں کرادی تھی کہ دنیا میں ہرمسافر کے لیے آرام ہے؛لیکن مسافر علم کے لیے راحت حرام ہے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب مولانا امین الدین شجاع الدین مرحوم اپنے امراض وعوارض کی بناپر تعمیر حیات کی ایڈیٹری سے الگ ہوگئے تھے، اور اس وقت مدیر مسئول کی حیثیت سے استاد محترم مولانا نذرالحفیظ ندوی صاحب تعمیر حیات کے معیار ووقار کو بلند کرنے میں مشغول تھے۔اس دوران کثرت سے تعمیرحیات میں ان کے مضامین پڑھنے کو ملے اور بقدر ظرف واستعداد خوب خوب فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی کی۔
2006 میں جب ندوۃ العلما کے معتمد تعلیم اور تعمیر حیات کے نگراں مولانا ڈاکٹر عبداللہ عباس ندویؒ کا انتقال ہوا، تو تعمیر حیات نے ان کی شخصیت پر خاص نمبر نکالنے کا فیصلہ کیا،اس نمبر کے بعض مضامین کی پروف ریڈنگ کا موقع مجھے بھی ملا۔ اس خاص نمبر کی جب اشاعت ہوئی تو اس کے حسن ترتیب سے استاد محترم کی سلیقہ مندی کا جوہر اوران کا صحافتی وجمالیاتی ذوق کھل کر سامنے آیا۔
دارالعلوم ندوۃ العلما میں مجھے 5/برس گزارنے کا موقع ملا۔ اس پورے دورانیے میں استاد محترم سے استفادے کی مختلف شکلیں نکلتی رہیں۔ کبھی کسی موقع سے ان کا محاضرہ ہوتا۔ کبھی النادی العربی کے اسٹیج سے مستفید فرماتے۔ کبھی عشا بعد کی مجلس میں وہ حضرت ناظم صاحب کی علم پرور صحبتوں سے مستفید ہونے کے مواقع مہیا کرتے۔اکثر ایسے سوالات کرتے،جن سے ہم طالب علموں کو بڑا فائدہ پہنچتا۔اس طرح تین برس کا عرصہ گزرگیا؛لیکن باضابطہ آپ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے کا موقع نہ مل سکا۔

استاد محترم سے باضابطہ شرف تلمذ:

2008(1429ھ) کے اواخر میں تخصص فی الادب کرنے کا جب میں نے فیصلہ کیا،تو قسمت نے یاوری کی اور استاد محترم سے باضابطہ شاگردی کی سعادت ملی۔اور میں مکمل دو برس تک ان کے چشمۂ علم سے سیراب ہوتا رہا اوراپنے شجر علم کوشاداب کرتا رہا۔
پہلے سال میں استادمحترم سے’’الأدب المرسل‘‘کے عنوان سے ’’رنّات المثالث و المثاني للأصفھاني‘‘ اور ’’إذاھبت ریح الإیمان للندوي‘‘ اور ادب اسلامی اور نقد ادب پر عالم عرب کے مشہور ادیب وناقد ڈاکٹر عبدالرحمن رأفت پاشا کی وقیع کتاب’’نحو مذھب إسلامي في الأدب والنقد‘‘کے منتخب اسباق پڑھنے کی سعادت ملی، جب کہ سال دوم میں دو اہم موضوعات’’ علم النفس والاجتماع‘‘ اور’’ استشراق ومستشرقین‘‘پران کے قیمتی محاضرات ہوئے،جن کو مکمل قلم بند کرنے کا موقع ملا۔

(جاری)