ہماری تعلیمی پستی کے ذمے دار بڑے یا بچے؟ محمد طارق اعظم قاسمی

بہار اسکول بورڈ کا آج دسویں کلاس کے امتحانات کا نتیجہ نکلا، مگر افسوس کہ مسلم بچوں کا مجموعی نتیجہ متاثر کن نہیں رہا بلکہ مایوس کن رہا۔ لازمی طور پر اس تعلق سے لوگوں کے منفی تاثر اور تبصرے سامنے آئے۔ واقعہ یہ ہے کہ آپ جس سے بھی تعلیمی پستی پر بات کریں گے ان میں سے اکثر و بیشتر تعلیمی نظام کی پستی و ناکامی کا رونا روتے نظر آئیں گے، مگر جب اس پستی اور ناکامی کو دور کرنے کی عملی کوششوں اور تدبیروں پر آپ ان سے مدد چاہیں گے تو کچھ ہی ہوں گے جو آپ کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھائیں گے۔ دراصل اس تعلیمی پستی کے ذمے دار ہم، ہمارے بڑے اور بچوں کے والدین اور سرپرست ہیں۔ بچے پڑھنا کب چاہتے ہیں انہیں تو خوف یا شوق دلا کر پڑھایا جاتا ہے اور انہیں تعلیم کے راستے پر ڈالا جاتا ہے۔ اکثر سرپرست اور ذمے دار اپنے بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں بالکل غیر سنجیدہ ہیں اور اس تعلق سے کچھ ذمے داری بھی اٹھانا نہیں چاہتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ بس دسترخوان پر سجا سجایا تعلیم یافتہ حافظ، عالم، ڈاکٹر اور انجینئر وغیرہ بچے انہیں بغیر کسی محنت اور مشقت کے مل جائے، مگر افسوس کہ یہ خواہش اور خواب اس محنت اور جد و جہد کی دنیا میں کبھی بھی پورا نہیں ہو سکتا۔
ظلم تو یہ ہے کہ جو ان کی تعلیمی ترقی کے لیے کوشاں ہوتے ہیں ان کا ساتھ کیا دیتے یا ان کا حوصلہ کیا بڑھاتے، انہیں کو کمزور اور پست کرنے میں لگ جاتے ہیں، تو سوچیے تعلیمی انقلاب کیوں کر اور کیسے برپا ہوگا؟ ہم نے اپنے جوانوں، لیڈروں اور بڑوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر کرکٹ ٹورنامنٹ کھیل وغیرہ کا مقابلہ منعقد کراتے دیکھا، مگر اس طبقے کی طرف سے تعلیم کے عنوان پر کوئی مقابلہ منعقد کراتے نہیں دیکھا، تو سوچیے کہ بچوں کی دلچسپی تعلیم پر ہوگی یا کھیل پر؟ ہم نے نوجوانوں اور بڑوں بہ طور خاص تعلیم یافتہ لوگوں کو اپنی برتری جتاتے، لمبی لمبی گپ لگاتے اور ہانکتے دیکھا، مگر ان میں سے بہت کم کو بچوں اور ان کے سرپرستوں کی کاؤنسلنگ کرتے، تعلیم کے سلسلے میں رہنمائی کرتے اور سمجھاتے شاذ و نادر ہی دیکھا، تو ضرور سوچیے کہ اس ماحول سے بچے کیا اثر لیں گے اور صرف لعن طعن کرنے اور رونے دھونے سے ہی یہ تعلیمی پستی دور ہو جائے گی؟ ہم شادی بیاہ کی فضول رسموں اور بیکار کی چیزوں میں بے دریغ پیسے پانی کی طرح بہاتے ہیں پر مجال ہے کہ پیشانی پر لکیریں ابھر آئیں، مگر بچوں کی تعلیم پر خرچ کرنا ہم کارِ عبث اور بیکار سمجھتے ہیں اور اگر بدقسمتی سے کسی نے تعلیم کے نام پر چندہ مانگ لیا تو پیشانی پر بہ یک وقت کئی سلوٹیں ابھر آتی ہیں اور آنکھوں میں اجنبیت صاف جھلکنے لگتی ہے، تو ضرور سوچیے کہ اس غلط رویے سے تعلیمی میدان میں کوئی قابل ذکر کارنامہ ہم انجام دے سکیں گے؟
واقعی ہم اگر مخلص ہیں اور صحیح معنوں میں تعلیمی انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں اور دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی اور اظہار ندامت کے ساتھ اس کے حل کی طرف بھی پیش قدمی کرنی ہوگی اور خون جگر دینا ہوگا، اس لیے کہ خون جگر کے بغیر سب نقش ناتمام اور ادھورے ہیں۔ خون جگر اس طرح دیں کہ آپ اپنے علاقے کے بچوں کی دینی و دنیاوی تعلیم کی فکر کریں اور ان کی ابتدائی تعلیم کا مکتب وغیرہ کی شکل میں ٹھوس نظام بنائیں اور اس نظام کو اچھے انتظام کے ساتھ چلانے کو یقینی بنائیں۔ پھر بچوں کو تعلیم کا شوق دلائیں اور اس ڈگر پر چلانے کی مسلسل کوشش کریں، اس کےلیے تعلیمی سلسلے کے ساتھ مختلف مقابلہ جاتی تعلیمی مسابقہ اور پروگرام منعقد کروائیں۔ اگر ان کے والدین اور سرپرستوں میں غیر سنجیدگی اور کوتاہی نظر آئے تو انہیں اس جانب توجہ دلائیں اور تعلیم کی اہمیت کو ان پر واضح کریں، اس پر وہ اگر کڑوی کسیلی باتیں سنا دیتے ہیں تو بجائے جوش میں آنے کے ہوش کو کام میں لا کر اسے خندہ پیشانی سے اور مسکرا کر برداشت کریں۔ اپنے بچوں کی تعلیم اور تعلیمی اداروں پر خرچ کرنے کا مزاج بنائیں۔ تعلیمی میدان میں کام کرنے والے افراد ہمارے بڑے محسن ہیں ان کی قدر کریں اور جس طرح سے ممکن ہو ان کا دامے درمے اور سخنے تعاون کریں۔ اپنے بچوں کے تعلیم کی فکر کے ساتھ پڑوسی کے بچوں کی تعلیم کی بھی فکر کریں۔ بچے ہمارے معاشرے اور سماج کا آئینہ ہوتے ہیں، وہ وہی کرتے اور سیکھتے ہیں جو معاشرے میں رائج ہوتے ہیں اور جسے ان کے بڑے کر رہے ہوتے ہیں تو بچوں کو بدلنے کے لیے ہمیں معاشرے اور سماج کے ماحول کو بدلنا ہوگا اور معاشرے اور سماج کو بدلنے کے لیے خود کو بدلنا ہوگا۔ کہیں یہ پڑھا تھا کہ کسی نے فقیہ الامت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے رات کی کثرتِ عبادت سے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ میں بچوں کی اچھی تربیت اور پرورش کےلیے پڑھتا ہوں تاکہ ان پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں۔ یعنی بچوں کی اچھی نشوونما اور تربیت کےلیے اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنی ہوگی، تب ہی ایک مہذب اور تعلیم یافتہ معاشرے اور سماج کی تشکیل ممکن ہوگی۔
یقین جانیے کہ اگر ہم نے اپنے حصے کے یہ دیپ جلا دیے تو پھر تاریکی کے یہ بادل انشاء اللہ جلد ہی چھٹ جائیں گے اور اگر ہم صرف ماتم ہی ماتم، شکوہ ہی شکوہ اور خواہش ہی خواہش کرتے رہے تو اس سے حالات جوں کے توں ہی رہیں گے بلکہ بد سے بد تر ہوتے چلے جائیں گے۔ قانون فطرت یہی ہے کہ کوشش کرنے والا ہی پاتا ہے اور محض خواہشات سے کوئی انقلاب برپا نہیں ہوتا ہے، جب تک کہ اس کے حصول کی کوشش اور محنت نہ ہو، اسی مضمون کو علامہ اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اس طرح سے بیان کیا ہے:
جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی
رُوحِ اُمم کی حیات کشمکشِ انقلاب
صُورت شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
نقش ہیں سب ناتمام خُونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خُونِ جگر کے بغیر

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)