ہماری شادیاں:فضولیات واخراجاتِ بے جا سے سادگی کی طرف واپسی-پروفیسر اسلم جمشید پوری

اسلام میں شادی یعنی نکاح بہت آسان اور کم خرچ عمل تھا۔لیکن جہاں آج ہم زندگی کے ہر شعبے میں زوال کا شکار ہوئے، وہیں عیش پرستی بھی ہمارے اندر گھر کرتی گئی۔ ہم نے اپنے ہر عمل کو دکھاوا بنا لیا ہے۔ اسلام جس نے ذات، برادری، حسب و نسب،اعلیٰ و ادنیٰ کے فرق کو ختم کرکے دنیا کو ایک ایسا طرزِ حیات دیا تھا، جس نے معاشرے میں نابرابری کو ختم کر کے مساوات کو فروغ دیا تھا۔پھر ہمارے اسلاف کے عمل نے ایسا تاثر قائم کیا کہ غیر مذاہب کے لوگ، خواہ ایمان نہ لاتے ہوں،مگر اسلام کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے۔پہلے مسلمان، ایمانداری، دیانت داری، ضمانت، شرافت کا نمونہ ہوا کرتا تھا۔ لوگ آنکھ موند کر یقین کر لیا کرتے تھے۔۔ مساوات کا جو سبق اسلام نے دنیاکو دیا تھا، وہ بے مثل تھا۔ جس کا عملی نمونہ جب مسلمانوں میں عام ہوا تو ساری دنیا نے اسلام کے طرز حیات کو تسلیم کیا۔
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
شادی بیاہ کی سادگی بھی دنیا کے لیے مثال تھی۔لیکن اِدھر مسلم معاشرے کو لا مذہبیت، فیشن پرستی، ریاکاری، فضول خرچی، عیش و عشرت نے دیمک کی طرح چاٹ چاٹ کر بالکل کھوکھلا کر دیا ہے۔ اب ہم نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔ ہمارے اعمال نے ہماری شناخت، ماضی کے برعکس، بے ایمان، غاصب،بدزبان، لڑاکو کے طور پر کرادی ہے۔ شادی بیاہ کا معاملہ تو اس قدر غلط راہ پر چل پڑا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔ پھر سب سے خطرناک صورت یہ ہے کہ ہم غلط کو بھی صحیح سمجھ رہے ہیں۔ جو کچھ ہم کرتے ہیں اُسے اچھا جانتے ہیں۔
رشتے ناطے سے منگنی تک
اسلام میں ابتدا سے ہی عام تھا کہ،لڑکے والے، لڑکی کے والدین کو شادی کی نیت سے پیغام بھجوا تے تھے۔ آپسی گفتگو اور مشورے سے رشتے ناطے، طے ہو جاتے تھے۔آج کل شادی کا یہ پہلا مرحلہ ہی بڑا خطرناک ہو چکا ہے۔ایک تو لڑکی کا ہر طرح سے امتحان لیا جاتا ہے۔ دوسرے ماں باپ کی دولت کا بھی اندازہ لگایا جاتا ہے۔ رنگ، قد، خوبصورتی، تعلیم، عمر، نوکری جیسے پیمانوں پر لڑکی کو پرکھا جاتا ہے۔ ایک ایک لڑکے والے، ایک انداز ے کے مطابق کم از کم 10-12 لڑکیوں کو تو ضرور فیل کرتے ہیں۔ اس دیکھنے دکھانے میں مہمان نوازی اور آؤ بھگت پر آنے والا صرفہ بھی خاصا ہوتا ہے۔ ان سب سے باربار گذرنے کے بعد جب کوئی لڑکی پسند آجاتی ہے تو پھر آگے کا معاملہ، منگنی اور گود بھرائی تک پہنچتا ہے۔ یہ گود بھرائی اور منگنی، صرف منگنی نہیں ہوتی بلکہ ’منی شادی‘ ہوتی ہے۔ لڑکی والوں کے کم از کم دو چار سو افراد لڑکے والوں کے سو ڈیڑھ سو افراد کی دعوت، دعوت بھی کوئی معمولی دعوت نہیں۔ دسیوں طرح کے کھانے، پھرفضول رسمیں۔ منگنی کی رسم کے وقت موجود رشتہ داروں کو بھینٹ (شگن) کے طور پر فی کس ہزار، پانچ سو یا حیثیت کے مطابق پیسے دیے جاتے ہیں۔لڑکے اس کے والدین، قریبی عزیزواقارب کی خدمت میں پیسوں کے علاوہ زیور،گھڑی، کپڑے جیسے تحفے تحائف بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق اس منی شادی پر بھی کم سے کم جار پانچ لاکھ روپے اور زیادہ کی تو کوئی حد ہی نہیں۔ دس بیس لاکھ بھی کم ہیں۔ اس پر بھی اب کثرت سے رشتے ٹوٹنے کا عمل بھی زیادہ ہونے لگا ہے۔
رشتے ناطوں میں ایک اور خاص بات نے مسلم معاشرے میں عجیب صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ برادری واد اس قدر ہمارے اندر سرایت کر گیا ہے کہ وہ تقویٰ والی ساری باتیں پرانے زمانے کی باتیں ہو گئی ہیں۔ سماج دو واضح اور بڑے گروہوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ بڑی برادریاں یعنی شیخ، سید، پٹھان، صدیقی، مغل وغیرہ، دوسراگروہ پسماندہ برادریاں (کہا جانے لگا ہے جو غلط ہے) انصاری، سیفی، قریشی، منصوری، ملک، سلمانی وغیرہ۔ بڑی برادری کا گروہ ہو یا چھوٹی، یہ لوگ آپس میں شاذونادر ہی شادیاں کرتے ہیں۔ صرف اور صرف اپنی برادری میں رشتے ناطے کو ترجیح دیتے ہیں۔ خواہ لڑکی یا لڑکے کی عمر کتنی ہی زیادہ ہو جائے۔ اسی سبب بہت سی برادریوں، خاص کر فصیل بند شہروں میں لڑکیوں کے شادی کے انتظار میں بالوں میں چاندی تک پھیل جاتی ہے۔ یہ معاملہ دہلی، اترپردیش(خصوصاً مغربی اتر پردیش) ہریانہ، پنجاب وغیرہ میں زیادہ رائج ہے۔ کاش ہم شادی کے وقت اسلام کی بات کا خیال رکھتے ہوئے تقویٰ کو بنیاد بنا کر آپس میں شادیاں کرتے تو ہمارا معاشرہ، نئی نئی سماجی برائیوں سے پاک ہوتا۔
رسم و رواج
منگنی سے لے کر شادی اور اس کے بعد تک بے شمار رسم و رواج ایسے ہیں جو غیر ضروری اور غیر اسلامی ہیں، لیکن ہمارے دامن سے یوں لپٹے ہیں گویا چولی دامن کا ساتھ ہو۔ گود بھرائی، منہدی، ہلدی، لال خط، بھات، جونار، منڈھا، سہرا، دسیاری جیسی اتنی ساری فضول رسمیں ہیں کہ ایک غریب آدمی کے لیے پہ درپے مصیبت ہی مصیبت ہے۔ ان میں سے ہر رسم پر اچھا خاصا خرچ ہوتا ہے۔ پھر کئی کئی دن قبل سے ڈھول تماشہ الگ۔ ہر رات خواتین کی منڈلی جمتی ہے اور نجانے کیسے کیسے گیت گائے جاتے ہیں۔ دراصل ان میں سے زیادہ تر رسمیں غیر مسلم سماج سے ہمارے یہاں بھی در آئی ہیں۔
جہیز
جہیز بھی ایک لعنت کی شکل میں ہمارے معاشرے میں پھیلتا جا رہا ہے۔اس جہیز کی وجہ سے کئی بار شادیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ باراتیں لوٹ جاتی ہیں۔ شادی کے بعد دُلہن کو نذر آتش کر دیا جاتا ہے یاپھر بے حد پریشان کیا جاتا ہے۔ سرکار دو عالم حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم نے اپنی دختر عزیز کی شادی میں کیا سامان دیا تھا، اس پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔ حضرت فاطمہؓ کے ساتھ بان کی چار پائی، چمڑے کا ایک گدا جو کھجور کے پتوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک چھاگل، دو مٹی کے گھڑے، ایک مشک اور دو چٹکیاں۔یہ سامان تھا جو حضور نے بیٹی کے ساتھ حضرت علیؓ کو سونپا تھا۔
آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ہمارا معاشرہ کدھر جا رہا ہے۔ جہیز کے نام پر کیا کیا نہیں ہو رہا ہے۔ امراء کی شادیاں تو خیر کروڑوں میں ہو رہی ہیں لیکن اوسط اوردرمیانے درجے کی شادیاں بھی لاکھوں (20-30لاکھ) میں ہو رہی ہیں۔ ماں باپ بیٹی کی خوش حال ازدواجی زندگی کے لیے اپنی زندگی بھر کی کمائی اور بعض اوقات بھاری بھرکم قرض لے کر بھی جہیز کا سامان دیتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ اتنا سارا جہیز دینے کے بعدبھی ماں باپ کو اس بات کا اطمینان نہیں ہوتا یا اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی کہ ان کی لختِ جگر کی زندگی پر سکون رہے گی۔
اس معاملے میں ہمارا معاشرہ ایک عجیب قسم کی ذہنیت کا شکارہو گیا ہے۔ سماج کی سوچ بدل گئی ہے۔ یہ سب سے خطرناک ہے۔ ہم اس خطرناک صورت اختیار کرتے جا رہے معاملے کو سماج کا مسئلہ ہی نہیں سمجھتے ہیں، بلکہ ہم گھر، باہر محفلوں میں ایسی شادیوں کی مثال دیتے ہیں۔ خوب تعریف اور توصیف کے ساتھ بھاری بھر کم جہیز والی شادیوں کے تذکرے کرتے ہیں۔کبھی سادگی اور بنا جہیز کی شادی کی مثال کو عام نہیں کرتے۔میں یہاں ایک مثالی شادی کا ذکر کرنا چاہوں گا۔
۸۹۹۱ء میں، میں دہلی کی ایک انویسمنٹ کمپنی میں کام کرتا تھا۔ کمپنی کے مالک کی شادی کا جب وقت آیا تو مشورہ ہوا۔ ایک اندازہ لگایا گیا کہ اپنی مالی حیثیت کے مطابق ایک اچھی شادی میں کتنا خرچ ہوناچاہیے۔ اندازہ لگایا گیا کہ تقریباً 35/لاکھ روپے کا خرچ ہونا چاہیے۔ آٹھ دس لوگ بارات کی شکل میں گئے اورنکاح کے بعد واپس آگئے۔ دوسرے دن ولیمہ کی شکل میں ایک بڑی چائے پارٹی دی گئی۔ اس پارٹی پر تقریباً دو ڈھائی لاکھ کا خرچ آیا۔ اس خرچ کو منہا کرنے کے بعد باقی تقریباً 32/ لاکھ روپے کی رقم، سماجی بہود اور قوم و ملّت کے کام کرنے والے اداروں کو چیک کی شکل میں تقسیم کردی گئی۔
ایسی بھی بہت ساری شادیاں میں نے بھی دیکھی ہیں، آپ نے بھی دیکھی ہوں گی۔ جن میں کروڑوں روپے کا صرفہ آتا ہے۔ ہم اپنی گفتگو میں ایسی شادیوں کا ہی تذکرہ کرتے ہیں۔ جبکہ سادگی سے بھی شادیاں ہوتی ہیں۔ دیوبند کے بارے میں سنا ہے کہ وہاں زیادہ تر شادیاں عصر بعد ہوتی ہیں۔ نکاح، چائے وغیرہ کے بعد، بیٹی کی رخصتی کر دی جاتی ہے۔ پھر اپنی حیثیت کے مطابق ولیمہ منعقد ہوتا ہے۔
دین مہر
ہماری شادیوں میں دین مہر کی رقم کا تعین بھی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اکثر شادیوں میں اس پر دونوں فریقین میں جھگڑے ہوتے ہیں۔ کہیں بہت زیادہ رقم طے ہوتی ہے تو کہیں بے حد کم، یہاں بھی ہمیں شریعت کا پاس رکھنا چاہیے یہ لڑکی والوں کا حق ہوتا ہے، اُسے لڑکے کی حیثیت کے مطابق دین مہر کی رقم طے کرنی چاہیے۔ یہ بھی خیال رہے کہ لڑکا اسے ادا کر سکے۔ مگر ایسا ہو نہیں پاتا ہے اکثر دولہے، پہلی شب، بیوی سے دین مہر معاف کروا لیتے ہیں یا بعد میں دینے کا وعدہ۔ میرٹھ کے معروف عالم دین اورخطیب قاری شفیق الرحمن قاسمی نے اس مسئلے کا ایک خوبصورت حل یوں نکالا کہ لڑکے والے لڑکی کے لیے کپڑے اور زیور لے کر آتے ہیں۔ انہیں زیور میں سے کوئی ایک زیور، مہر کی جگہ طے ہو جائے اور اُسے لڑکا، پہلی شب میں بیوی کو پیش کر دے۔
ماضی کی طرف واپسی
بہر حال ہماری شادیاں اوران پرہونے والے اخراجات روز بہ روز ہمارے معاشرے کے لیے ایک ناسور کی حیثیت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ گذشتہ ڈیڑھ، دو ماہ سے کورونا کے سبب جو جسمانی دوری کا معاملہ سامنے آیا ہے، اُس نے ہماری بہت سی برائیوں، خرافات اور فضول خرچیوں پر بریک لگا دیا ہے اور اب جو شادیاں ہو رہی ہیں اُن میں صرف دو چار افراد ہی جا کر نکاح کرکے لے آتے ہیں۔ جہیز سے لے کر دیگر فضول رسمیں بھی پسِ پشت رہ گئی ہیں۔ کاش یہ نظام لاک ڈاؤن کے بعد بھی اسی طرح جاری رہے۔ ابھی دو چار ماہ تک تو یہی صورتِ حال رہنے کی اُمید ہے۔ کہا جا سکتاہے کہ ہم مثالی شادیوں کے دور میں واپسی کر رہے ہیں۔ بس ذرا سی محنت اور کر لیں کہ ہم سنت کی پیروی میں آئندہ بھی نکاح اور شادی کو آسان بنائیں گے۔ اگر ایسا ممکن ہوا تو پھر ہمارے معاشرے کے بہت سارے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے اور مسلم معاشرہ جو اجتماعی طور پر قعر مذلت کی طرف دوڑ ا جا رہا تھا اس پر بریک لگے گا اور ہم اپنے ماضی کی طرف شاندار واپسی کر یں گے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)