ہمارے زخم بھی ہرے ہوگئے ـ ایم ودود ساجد

شرپسندوں نے تو شور مچا ہی رکھا تھا کہ مسلمان لڑکے ہندو لڑکیوں کو دام الفت میں پھنساکر بالجبر ان کا مذہب تبدیل کرا رہے ہیں،اب سکھ لیڈروں نے بھی یہی شور مچانا شروع کردیا ہے۔دہلی میں منجندر سنگھ سرسا نے کشمیر کے بارہ مولا کے ایک واقعہ کو بنیاد بناکر مسلمانوں کے خلاف ماحول سازی شروع کردی ہے۔اس سلسلہ میں خود کشمیر کے سکھوں اور میر واعظ کی قیادت والی متحدہ مجلس علماء نے قابل ستائش کردار ادا کیا ہے۔

ایک طرف جہاں کشمیر کے سکھوں نے دہلی کے سکھ لیڈروں پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ اس واقعہ کا سیاسی استحصال کر رہے ہیں وہیں متحدہ مجلس علما نے کشمیری سکھوں سے ملاقات کرکے انہیں یقین دلایا ہے کہ ان کی لڑکیاں یہاں محفوظ ہیں اور بالجبر تبدیلی مذہب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔میرواعظ نے واضح کردیا ہے کہ اسلام اس کی اجازت ہی نہیں دیتا اور اسے ایسے مسلمانوں کی ضرورت نہیں ہے۔

مسلمان اور ان کے قائد اس وقت چوطرفہ افتاد کے شکار ہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ حالات کا مقابلہ کیسے کریں۔اسی ملک میں ایسے بھی واقعات نمودار ہوئے ہیں کہ مسلم لڑکی نے اپنا مذہب چھوڑ کر ہندو عاشق سے شادی کرلی ہے۔لیکن ایسے واقعات پر مسلمان کبھی فرقہ وارانہ ماحول نہیں بناتے۔ خاموشی کے ساتھ ایسی شادیوں کو گوارا کر لیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ انہیں تو ایسے ہی ایک بالکل تازہ واقعہ کی بھی خبر نہیں ہے۔

30 جون کو نیوز 18 کے سنتوش گپتا نے ایک ہندی رپورٹ شائع کی۔اس رپورٹ کی ابتدا اس طرح کی گئی ـ

"پیار اگر سچا ہو تو دھرم اور مذہب کی دیوار منزل کو پانے سے نہیں روک سکتی۔ایسا ہی ایک معاملہ بہار کے چھپرا میں سامنے آیا ہے جہاں معاشرہ کی قدامت پرستی کو توڑتے ہوئے روبینہ خاتون نے انکت کمار کا ہاتھ تھام لیا اور مندر میں جاکر شادی رچا لی۔اس شادی کو سوسائیٹی کی منظوری بھی مل گئی کیونکہ دونوں ہی دھرموں کے لوگوں نے نوبیاہتا جوڑے کو نیک خواہشات پیش کیں۔بھیلدی (جہاں یہ واقعہ ہوا) میں الگ الگ دھرم ہونے کے باوجود شادی کرنے والے اس جوڑے کو لوگ آشیرواد دینے پہنچے اور دونوں کے خاندانوں نے بھی اس شادی کو منظوری دے دی۔”

سنتوش نے آگے لکھا:
” اطلاعات کے مطابق بھیلدی تھانے کے بیڈ والیا گاؤں میں ناصر انصاری کی بیٹی روبینہ خاتون اور دنیش سنگھ کے بیٹے انکت کمار ایک لمبے عرصہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔کافی عرصہ سے اہل خانہ بھی اس کی مخالفت کر رہے تھے۔لیکن دونوں کی بے انتہا محبت نہیں رکی۔آخر کار بچوں کی ضد کے آگے اہل خانہ کو ہار ماننی پڑی۔عاشق ومعشوق کے ماں باپ اور دیگر خاندان والوں نے مل جل کر دونوں کی شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔آمی کے مشہور امبیکا بھوانی مندر میں دونوں نے ساتھ جینے اور ساتھ مرنے کی قسمیں کھاکر ایک دوسرے کے ساتھ سات جنم تک ساتھ نبھانے کا وعدہ کیا اور ایک دوسرے کو سماج کے سامنے جیون ساتھی بنالیا۔”

آپ نے اس خبرکا انداز دیکھا؟
اگر یہی خبر مختلف ہوتی اور روبینہ کی جگہ ریوتی ہوتی اور انکت کی جگہ عادل ہوتا تو کیا خبر کا یہی انداز ہوتا؟ شرپسندوں نے تو آسمان سر پر اٹھالیا ہوتا اور لڑکی کو بالجبر اٹھاکر لے گئے ہوتے۔لڑکے اور اس کے اہل خانہ کو جیل بھیجا جاچکا ہوتا۔میڈیا میں ایک ہنگامہ برپا ہوتا کہ ’لوجہاد‘ کے ایک بڑے گروہ کا پردہ فاش ہوا ہے۔باہر سے بھاری چندہ آتا تھا۔بھولی بھالی لڑکیوں کو پیسے اور روزگار کا لالچ دے کر دھرم پریورتن کا اڈہ چلایا جارہا تھا۔لیکن مذکورہ بالا واقعہ پر کوئی شور نہیں ہوا۔کہیں سے کوئی صدا نہیں آئی۔کوئی لیڈر دوڑکر چھپرا (بہار) نہیں پہنچا۔کسی نے لڑکی کو چھڑا کر گاڑی میں نہیں ڈالا اور کسی نے اس کی شادی کسی اور مسلم لڑکے سے نہیں کرائی۔کسی ہندو لیڈر نے مسلمانوں کو آکر یقین دہانی نہیں کرائی کہ آپ کی لڑکیاں محفوظ ہیں۔

چھپرا میں جو ہوا یوپی اور مہاراشٹر میں وہ خوب ہوچکا ہے۔ممبئی میں مقیم کئی صحافی دوستوں کے مطابق وہاں اب بھی یہ ہورہا ہے۔پچھلے کچھ دنوں کی ہی کی تو خبر ہے۔یوپی کے ایک شہر میں بعینہ چھپرا کی طرح کا واقعہ ہوچکا ہے۔بس وہاں کردار آگے پیچھے ہوئے تھے۔وہاں لڑکی ہندو اور لڑکا مسلمان تھا۔دونوں میں ہی نہیں دونوں کے اہل خانہ میں بھی برسوں کی دوستی تھی۔دونوں خاندانوں نے اسی طرح باقاعدہ طے کرکے شادی کی تھی۔لیکن شرپسندوں اور پولیس نے ایک نہ سنی اور لڑکے کو جیل میں ڈال دیا۔مختلف ناری نکیتنوں اور خاص طور پر میرٹھ کے ناری نکیتن میں تو ایسی درجنوں مسلمان لڑکیوں کی شادیاں غیر مسلم لڑکوں سے کرادی گئیں۔

اب ذرا واپس کشمیر کی خبر پر چلتے ہیں۔بارہ مولا کے واقعہ میں دہلی کے شرپسند سکھ لیڈروں نے جو کیا وہ کوئی سادہ سی بات نہیں ہے۔انہوں نے لڑکی کو بالجبر’اغوا‘ کرکے اس کی غیر قانونی طورپر سکھ لڑکے سے شادی کردی۔اس کے باوجود بھی وہ مسلسل مہم چلائے ہوئے ہیں۔سوشل میڈیا پر مسلمانوں کو خبردار کیا جارہا ہے کہ ہم اپنی لڑکیوں کو تمہارے جال میں پھنسنے نہیں دیں گے۔کپواڑہ کے عرفان رسول نے ٹویٹر پر سکھوں کو خطاب کرتے ہوئے لکھا کہ: آپ سکھ لڑکیوں کے ٹھیکیدار کیوں بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ تو لڑکیاں ہی طے کریں گی کہ وہ کس سے شادی کریں اور کس کے ساتھ رہیں؟“۔ اس پر سکھ رضاکار امان بالی نے لکھا: ہاں عرفان اب ہماری قوم ان تمام سکھ لڑکیوں کو واپس لائے گی جو دوسری اور تیسری بیوی بننے یا خادمہ بننے کیلئے بھٹک کر چلی گئی ہیں۔یہ لائن تو ہمیں کھینچنی پڑے گی۔ہماری لڑکیوں کو چھوڑ دو اور ہم ٹھنڈے ہوجائیں گے۔

امان بالی کے خلاف خود مشہور سکھ خواتین اور لڑکیاں ہی میدان میں آگئی ہیں۔گرمہر کور اور سنجکتا باسو نے امان کو ان فالو کرتے ہوئے اس کے خلاف سکھ خواتین سے کھڑے ہونے کی اپیل کی اور امان بالی کو پیدائشی سنگھی بتایا۔سنجکتا باسو نے لکھا کہ اب پنجاب کے الیکشن جیتنے کیلئے ماحول کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جارہا ہے۔

امان بالی نے جو کہا کہ”اب ہماری قوم ان تمام لڑکیوں کو واپس لائے گی جو دوسری اور تیسری بیوی بننے یا خادمہ بننے کیلئے بھٹک کر چلی گئی ہیں۔” اس پر ہمارے بھی زخم ہرے ہوگئے ہیں۔ہمیں بھی بہت کچھ یاد آگیا ہے۔اپنے وقت کے مشہور ہندو صحافی کلدیپ نیر ہر سال 14 اگست کو واگہہ جاکر خیر سگالی کے طور پر پاکستان کی سرحد پر موم بتیاں جلاتے تھے۔ایسے ہی ایک سفر میں مجھے بھی 2007 میں ان کے ساتھ جانے کا موقع ملا۔ مقامی ہندو میزبانوں نے مختلف پروگرام ترتیب دئے تھے۔ 14اگست کی شب امرتسر کے ایک بڑے ہال میں ایک ڈرامہ پیش کیا گیا۔اس میں زندہ کرداروں نے جو دکھایا اس سے میری روح لرز گئی۔کئی دنوں تک میری طبیعت پر اس کا اثر رہا۔

ڈرامہ میں زندہ کرداروں نے نقل مکانی کے کچھ مناظر کی عکس بندی کی تھی۔قافلے کے قافلے لوٹے گئے تھے۔لوگوں کو جلایا گیاتھا۔تلواروں سے گردنیں اڑادی گئی تھیں۔امرتسر سے پاکستان کی طرف بڑھتے ہوئے قافلوں پر پیچھے سے آکر شبخون مارا جاتا تھا اور پیچھے چلنے والی برقعہ پوش خواتین یا ’ڈولیوں‘اور پالکیوں میں بیٹھی ہوئی خواتین کو منہ دبا کر پیچھے کی طرف کھینچ لیا جاتاتھا۔آگے چلنے والے مردوں کو پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ پیچھے کیا ہوا۔ان لڑکیوں اور خواتین کو امرتسر اور اطراف کے لوگوں نے اپنے گھروں میں کہیں خادمائیں بناکر رکھ لیا اور کہیں ان کا بالجبر مذہب تبدیل کرکے ان سے شادیاں کرلیں۔

ڈرامہ کے زندہ کرداروں نے یہ بھی دکھایا تھا کہ کس طرح بہت سی عورتیں اپنا ماضی بھول نہیں پائی تھیں اور چھپ چھپ کر نماز پڑھتی تھیں۔گھٹ گھٹ کر دعائیں مانگتی تھیں۔ڈرامہ میں اس کے برعکس بھی دکھایا گیا تھا۔یعنی سرحد کے اس پار سے آتے ہوئے قافلوں پر ادھر کے لوگوں نے شبخون مارا تھا اور اسی طرح مذہب تبدیل کراکر عورتوں کو اپنے گھروں میں رکھ لیا تھا۔وہ بھی اپنا ماضی بھول نہیں پائی تھیں اور چھپ چھپ کر ’گرو درشن‘ کیا کرتی تھیں۔لیکن مسلمانوں کے ساتھ تناسب کے اعتبار سے بہت زیادتی ہوئی تھی۔

وکی پیڈیا اور دوسرے مبصرین نے بھی اعداد و شمار کی روشنی میں خواتین کے خلاف ہونے والے مظالم کا بھرپور ذکر کیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ تقسیم کے وقت کوئی ایک لاکھ خواتین کی عصمتیں لوٹی گئی تھیں۔ لیونارڈ موسلی نے لکھا ہے کہ ہر فرقہ کی ایک لاکھ سے زیادہ لڑکیوں کا اغوا کیا گیا تھا۔اینڈریو میجر نے لکھا ہے کہ جتنی ہندو اور سکھ خواتین کا اغوا ہوا اس سے دوگنی تعداد میں مسلم خواتین کا اغوا کیا گیا۔بیگم تصدق حسین نے لکھا ہے کہ 90 ہزار مسلم خواتین کا اغوا کیا گیا تھا۔