ہمارے اتحاد نے سخت مقابلہ کیا،غیرمتوقع نتائج آئے:کشواہا

پٹنہ:راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آر ایل ایس پی) نے گرینڈ ڈیموکریٹک سیکولر فرنٹ (جی ڈی ایس ایف) کے بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج پربیان دیاہے۔کشواہاکووزیراعلیٰ امیدواربنانے والے اویسی،بی ایس پی اتحادنے جم کرووٹ کاٹے، کئی جگہوں پرکشواہاکے لیے اویسی کی تشہیری مہم نے این ڈی اے کوفائدہ پہنچایاجس کی ایک مثال بربیگھہ سیٹ ہے۔یہاں مجلس نہیں بلکہ کشواہاکے امیدوارتھے جن کے لیے اویسی نے دورہ کیا،مسلم نوجوان بٹ گئے اورکچھ لوگوں نے کشواہاکے غیرمسلم امیدوارکوووٹ دے دیاجس کے نتیجے میں صرف 113ووٹ سے کانگریس کی شکست ہوئی اورجدیوکامیاب ہوئی۔اس طرح کئی سیٹوں پراس الائنس نے این ڈی اے کوفائدہ پہنچایا۔ تاہم آر ایل ایس پی نے یہ بھی کہاہے کہ ان نتائج میں پورے بہارمیں جی ڈی ایس ایف کی موجودگی رہی ہے۔ پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اور ترجمان فضل امام ملک نے کہاہے کہ اتحاد نے آر ایل ایس پی کے قومی صدر اوپیندر کشواہا کی قیادت میں سخت مقابلہ کیاہے لیکن ان کی توقعات کے مطابق نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ ملِک نے کہاہے کہ آر ایل ایس پی محاذمیں شامل تمام جماعتوں کے لیڈروں کاشکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اوپیندرکشواہاکی قیادت کو قبول کیااورانہیں وزیراعلیٰ کاامیدوار بنایا۔اوپیندرکشواہانے بھی انتخابات میں اپنے امیدواروں کے لیے سخت محنت کی تھی لیکن اس کے نتائج پارٹی کے لیے حیران کن تھے۔ملک نے کہاہے کہ آر ایل ایس پی مایاوتی ، اسدالدین اویسی، اوم پرکاش راج بھر، دیویندر پرساد یادو اور سنجے چوہان کی بدولت انہوں نے محاذکے امیدواروں کوکامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے اوروہ اوپیندرکشواہاکے ساتھ پوری طاقت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اگرمحاذتھوڑا بہت پہلے بنا دیا جاتا تو نتائج بہتر ہوتے۔پارٹی کے قومی صدر اوپیندر کشواہا نے بھی تمام پارٹیوں کے لیڈروں کا ذاتی طورپرشکریہ ادا کیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ بہاراورملک کے دیگر حصوں میں مل کر وہ عوامی فلاح وبہبودکی جنگ لڑیں گے۔