ہمارا صدر کہاں ہے؟ ـ رؤف کلاسرا

 

کئی خوبصورت ناولز کے مصنف‘ ہمارے دوست محمد حفیظ خان نے کیا کمال بات کہی ہے کہ ہم امریکہ سے نفرت کے باوجود زندگی وہاں گزارنا چاہتے ہیں اور طالبان سے محبت کے باوجود ان کے زیرسایہ رہنے کو تیار نہیں۔
یہ وہ رویہ ہے جو ہمیں اس معاشرے میں نظر آتا ہے۔ افغانستان میں جس طرح راتوں رات تختہ پلٹ دیا گیا اس نے خود طالبان کو بھی حیران کردیا ہے اور ان کے حامیوں کو بھی۔ پوری دنیا بھی حیران ہے کہ یہ اچانک کیا ہوا ہے۔ امریکن انٹیلی جنس کہہ رہی تھی کہ کابل کو گرنے میں کم از کم تین ماہ لگیں گے۔ کل پرسوں تک امریکن بی 52 بمبار طالبان کی پوزیشنز پر حملے کررہے تھے۔ کابل ایئرپورٹ کی سکیورٹی امریکن‘ برٹش اور ترکش فوجیوں کے حوالے کرنے کی باتیں ہورہی تھیں۔ امریکہ مزید فوجی دستے بھیج رہا تھا کہ انخلا کو یقینی بنایا جائے۔اُن اٹھارہ ہزار افغان شہریوں کو بھی افغانستان سے نکال کر امریکہ لے جانا تھا جنہوں نے ان بیس برسوں میں امریکن فورسز کی مدد کی تھی۔مگر ان سب کو چھوڑ کر امریکی چلے گئے۔
سوال یہ ہے امریکہ پر کون اعتبار کرے گا؟ اس لیے جب امریکی صدر بائیڈن کل رات اپنی قوم سے خطاب کررہے تھے تو انہیں پتہ تھا کہ پوری دنیا ان پر تنقید کررہی ہے۔ امریکی رول پر سوالیہ نشانات لگائے جارہے ہیں۔ بائیڈن نے سیدھا سیدھا افغانستان کی سیاسی قیادت اور افغان فوج پر ملبہ گرایا۔ بائیڈن کا کہنا تھا کہ اگر تین لاکھ افغان فوج جسے امریکہ نے بیس سال ٹرینگ دی‘ جدید ترین اسلحہ دیا اور ان سب کی تنخواہیں تک ادا کیں اور وہ اپنے ملک کے لیے لڑنے پر تیار نہیں تو پھر امریکہ ان کے لیے کیوں لڑے؟ بلکہ یہاں تک کہا کہ اشرف غنی اس وقت ملک سے بھاگ گئے جب انہیں اپنی فوج کی قیادت کرنے کی ضرورت تھی۔ بائیڈن نے یقینا بہت سخت باتیں کی ہیں اور اس سے افغان قوم یقینا مایوس ہوئی ہوگی لیکن ایک بات طے ہے کہ جو قومیں اپنی جنگیں خود نہیں لڑتیں ان کی جنگ کوئی نہیں لڑتا۔ امریکہ گیارہ ستمبر کے حملوں بعد اپنی جنگ لڑنے خود آیا تھا اور بیس سال تک وہ افغانوں سے لڑتا رہا اس دوران اس کے تین ہزار سے زائد فوجی مارے گئے‘ ایک ہزار سے زائد نیٹو فوج اس جنگ میں مرے۔ دو ٹریلن ڈالرز سے زیادہ امریکی خرچہ ہوا۔ دنیا کے جدید اور خوفناک اسلحے کا استعمال ہوا۔اس دوران امریکہ نے افغانوں کیلئے ہزاروں نوکریاں فراہم کیں جبکہ سفارت خانوں ‘ فوجی کنٹریکڑز اور این جی اوز کے ذریعے بھرتیاں کی گئیں۔ افغان آرمی میں تین لاکھ اسامیاں پیدا کی گئیں‘ تاہم ایک پختون دوست کا کہنا تھا کہ دراصل امریکہ اور افغان حکام نے اپنی اس فوج میں پختوں فوجیوں کا تناسب کم رکھا۔ طالبان کیونکہ زیادہ تر پختون قومیت سے ہیں لہٰذا یہ وہ فطری خوف تھا کہ افغان آرمی میں پختونوں کو زیادہ تعداد میں نہیں رکھا گیا۔ تاجک اور ازبک اور دیگر زیادہ تھے۔ اس لیے جب موقع آیا تو تاجک اور ازبک فوجی طالبان سے نہیں لڑ سکے اور طالبان ایک گولی چلائے بغیر کابل میں داخل ہوگئے۔اب اس پر بھی کئی تھیوریز اس وقت مارکیٹ میں ہیں جن کے کئی خریدار موجود ہیں۔ایک تھیوری یہ ہے کہ امریکہ نے خود طالبان کو کابل پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا اور اس کے بدلے میں انہوں نے ان سے یہ گارنٹی مانگی کہ امریکی فورسز پر جاتے وقت حملے نہیں ہوں گے‘ افغانستان میں غیرملکی دہشت گردوں کو تربیتی کیمپ نہیں کھولنے دیں گے یا پھر داعش کو پائوں نہیں جمانے دیں گے۔ایک اور تھیوری یہ بھی ہے کہ پچھلے کئی برسوں سے قطر میں طالبان اور امریکہ کی درجنوں ملاقاتوں اور گپ شپ اتنی بڑھ گئی کہ وہ اب ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھنے کے بجائے پارٹنر سمجھنے لگ گئے ہیں۔ امریکی بھی یہی سوچ رہے تھے کہ اگر دو ٹریلین ڈالرز افغانستان کی کرپٹ سیاسی ایلیٹ پر خرچ کئے جاسکتے ہیں کہ وہ طالبان کے خلاف ان کا ساتھ دیں تو صرف چند ارب ڈالرز طالبان کو دے کر افغانستان کو زیادہ اپنے کنٹرول میں رکھ سکتے ہیں۔
پاکستان کو بھی تو اس طرح امریکہ ہر سال ڈیرھ ارب ڈالرز کی امداد دیتا آیا ہے۔ اب پاکستان کا جیب خرچ عرصہ ہوا بند کر دیا گیاہے۔ اب وہی جیب خرچ طالبان کو کابل دینا شروع کر دے گا۔ایک اور تھیوری یہ بھی چل رہی ہے کہ امریکہ نے سوچا کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک امریکی افواج کی وہاں موجودگی سے ناخوش ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ امریکی موجودگی جہاں افغانستان کی خودمختاری پرحملہ ہے وہیں خطے کے ممالک جن میں پاکستان‘ روس‘ ایران‘ سنٹرل ایشین ریاستیں اور چین کو بھی اس کی موجودگی سے تکلیف ہے۔ چین اب ان کو سنبھالے جو سنکیانگ میں موجود تحریک کو حمایت فراہم کرسکتے ہیں‘ روس کو چیچنیا میںطالبان سے مسئلہ ہوسکتا ہے‘ پاکستان کوٹی ٹی پی سے مسئلہ ہوسکتا ہے۔ یہی کچھ اب ایران کو بھی سامنا کرنا ہوگا کہ مزار شریف کے ان کے ہم مسلکوں کیلئے مسائل ہوں گے۔ اب تک تو امریکہ نے اپنے خرچے پر طالبان کو انگیج کر رکھا تھا جس سے اس خطے کے سب ممالک کچھ ریلکس تھے۔ ایک اور گپ امریکی صدر بائیڈن نے خود اپنی تقریر میں بھی ماری کہ افغانستان میں یہ سوچنا غلط تھا کہ امریکہ وہاں جمہوریت متعارف کرا سکتا ہے۔ جو بائیڈن نے ہر اس جواز کو رد کیا جو افغانستان پر حملہ کرتے وقت جارج بش جونیئر نے امریکی عوام کو پیش کیا تھا۔ میں نے جارج بش کی وہ تقریر بھی سنی تھی جو اس نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکی قوم سے کی تھی کہ وہ کیسے افغان عوام کو ان ظالموں سے چھٹکارا دلوانے افغانستان جارہے ہیں جنہوں نے امریکیوں کا قتل عام کیا تھا۔ اُس وقت اس جنگ کو ایک نیک مشن کے طور پر پیش کیا گیا تھا اور ایک طرح کی یہ صلیبی جنگ تھی جس میں حق اور باطل کا فیصلہ ہونا تھا۔ افغان خواتین اور لڑکیوں کو ظلم سے آزادی دلوائی جانی تھی۔ آج بیس برس بعد وائٹ ہاؤس میں ایک اور صدر اپنی عوام کو یہ میسج دے رہا تھا کہ یہ بیکار جنگ تھی جس میں تین چار ہزار امریکی فوجی مارے گئے۔یہ کام امریکہ کا نہیں تھا کہ وہ دنیا بھر کے لوگوں کی فریڈم اور لبرٹی کو ٹھیکہ اٹھائے۔ اگر ان ملکوں کی اپنی فوج اور ان کے سربراہان خود اپنے ملک اور اپنی عوام کیلئے لڑنے کو تیار نہ تھے تو پھر امریکی فوج کیوں لڑے اور اپنی جان ان لوگوں کیلئے گنوائے جو خود گولی چلانے کو تیار نہ تھے۔
ان دو صدور کی تقریریں آپ ایک ساتھ رکھ کر پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ جب آپ نے کسی ملک پر حملہ کرنا ہو تو آپ کے پاس ایک ہزار وجواز ہوتے ہیں جیسے بش کے پاس تھے۔ جب آپ کو اپنی فوجیں اس ملک سے اچانک نکالنا ہوں تو بھی آپ کے پاس ایک ہزار وجوہ ہوتی ہیں چاہے ساری دنیا یہ کیوں نہ کہہ رہی ہو کہ امریکہ نے افغانوں کو دھوکا دیا۔ ان لوگوں کو دھوکا دیا جو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ شاید ان کا مستقبل اب تاریک نہیں رہے گا۔ابھی پینٹاگون کی بریفنگ سن کر ہٹا ہوں تو ایک افغان خاتون صحافی نے روتے ہوئے ترجمان سے پوچھا کہ ان کا صدر اشرف غنی کہاں ہے؟ وہ کس ملک چلا گیا ہے؟جو درد اور تکلیف اس خاتون کی آواز میں تھی کہ اس کا صدر کہاں بھاگ گیا تھا اس نے پینٹاگون کے ترجمان کو بھی متاثر کیا۔ اشرف غنی اپنے لوگوں کے ساتھ نہیں رکا۔ انجام جو بھی ہوا ہو‘ روسی فوجوں کے جانے کے بعد افغان صدر نجیب کابل چھوڑ کر نہ بھاگا‘ صدام حسین اور قذافی اپنے ملک چھوڑ کر نہ بھاگے چاہے جس بدترین انجام کا شکار ہوئے۔ لیڈر بننا بڑا آسان ہے لیکن وقت پڑنے پر لیڈرشپ دکھانا مشکل ہے۔ بھاگنا کون سا مشکل کام ہے جو اشرف غنی نے کیا؟ ہاں! اپنے عوام کے ساتھ کھڑا رہتا تو آج پینٹاگون میں افغان صحافی خاتون روتے ہوئے نہ پوچھ رہی ہوتی ہمارا صدر کہاں گیا ہے؟
تاریخ بزدلوں کو یاد نہیں رکھتی‘ تاریخ بہادر لکھتے ہیں اور وہی یاد بھی رکھے جاتے ہیں