ہم وزیر اعظم کی نافہمی کی قیمت ادا کر رہے ہیں، شاہد جمیل کے استعفیٰ پر اویسی کاطنز

نئی دہلی: ملک کے مشہور اورماہر وائرسولوجسٹ شاہد جمیل نے سائنسدانوں کے فورم آف ایڈوائزری گروپ سے استعفیٰ دے دیاہے۔ان کے استعفے کے بعد سیاسی بیان بازی شروع ہوگئی۔ اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایاہے کہ آئی این ایس اے سی اوجی نے وزیر اعظم آفس کوخطرناک وبا کے بارے میں آگاہ کیاتھالیکن حکومت نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ یہ فورم کوروناوائرس کی مختلف اقسام کا پتہ لگانے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ جمیل سائنسی ایڈوائزری گروپ کے فورم INSACOG کے چیئرمین تھے۔پیرکے روزاپنے ٹویٹ میں اویسی نے لکھا ہے کہ یہ ایک سرکاری سائنسی مشاورتی گروپ ہے جس کے صدر ایس جمیل نے استعفیٰ دے دیاہے۔ اس نے مارچ کے اوائل میں وزیر اعظم کے دفتر کو خطرناک انڈین مومنٹ کے بارے میں متنبہ کیا تھالیکن حکومت نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ جمیل نے کھلے عام کہاہے کہ حکومت نے سائنس کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ ہم مودی کی سائنسی تفہیم کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔جمیل نے کئی ہفتوں قبل حکومت کے کورونا وبا سے نمٹنے کے طریقوں پر سوال اٹھایا تھا۔اتوار کے روز جمیل نے اپنے استعفے کے بارے میں کہاہے کہ یہ درست ہے اور اس معاملے میں ان کے پاس مزید کچھ کہنا نہیں ہے۔ جمیل نے کہا کہ اس کی وجہ بتانا ان کی مجبوری نہیں ہے۔