Home تجزیہ ہم انہیں بھائی سمجھتے اور وہ چارہ ہمیں -ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ہم انہیں بھائی سمجھتے اور وہ چارہ ہمیں -ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

by قندیل

پارلیمانی انتخابات میں چار مرحلے کی ووٹنگ ہو چکی ہے ۔ بی جے پی "وکاس بھی وراثت بھی” کی ٹیگ لائن کے ساتھ میدان میں ہے ۔ اس نے اپنی انتخابی تشہیر کا آغاز رام مندر اور مودی کی گارنٹی سے کیا تھا ۔ جبکہ کانگریس نے روزگار، مہنگائی اور سماجی انصاف کو الیکشن کا ایشو بنایا ۔ وزیراعظم کے "اب کی بار چار سو پار” نعرے سے یہ گمان غالب ہوا کہ شاید بی جے پی اس بار ملک کے تکثیری مزاج اور عوام کے بنیادی سوالوں پر الیکشن لڑے گی ۔ لیکن وزیراعظم نے اپنے خاص انداز میں اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے "نو راترے میں مٹن، مچھلی کھا کر ہندوؤں کو چڑھانے” کی بات کہہ کر فرقہ وارانہ منافرت کے سہارے ہندوؤں کی حمایت حاصل کرنی چاہی ۔ مگر مغربی بنگال میں مٹن، مچھلی، مغل کے بیان پر سخت ردعمل سامنے آیا ۔ وہاں درگا پوجا میں مٹن مچھلی کو پرساد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔

الیکشن شروع ہوتے ہی بھگوا برگیڈ کے لوگ نفرتی ایجنڈے پر کھل کر سامنے آ گئے ۔ نریندر مودی نے راجستھان کے بانسواڑہ میں کہا کہ "کانگریس ماتا بہنوں کا منگل سوتر، سونا چھین کر گھس پیٹھیوں، زیادہ بچے پیدا کرنے والوں کو دے دے گی ۔ جب ان کی سرکار تھی تو وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا تھا کہ ملک کے وسائل پر پہلا حق مسلمانوں کا ہے ۔ بھائیوں اور بہنوں، یہ اربن نکسل کی سوچ ہے ۔ میری ماتاؤں بہنوں آپ کا منگل سوتر بھی نہیں بچے گا ۔ وہ چھین کر مسلمانوں کو دے دیں گے”۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ۔ دو دن بعد پھر انہوں نے ٹونک شہر میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے کانگریس کی آڑ میں یہی باتیں دوہراتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنایا اور ان کے ریزرویشن کے حوالے سے صریح جھونٹ بولا ۔ امت شاہ نے بھی مسلمانوں کے ریزرویشن کو ختم کرنے کا گمراہ کن بیان دیا ۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر دیا جانے والا ریزرویشن ختم کیا جائے گا ۔ حالانکہ ریزرویشن مذہب کے بجائے پسماندگی کی بنیاد پر دیا جاتا ہے ۔ آندھرا پردیش میں بی جے پی ٹی ڈی پی نے اپنے مشترکہ انتخابی منشور میں مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا ہے ۔

لو جہاد، لینڈ جہاد، حلال جہاد اور آبادی جہاد کے بعد اب ووٹ جہاد پر بات کی جا رہی ہے ۔ اس کے بہانے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ فرقہ وارانہ نفرت کے ایجنڈے پر پولس انتظامیہ کے ذریعہ عمل کرایا جا رہا ہے ۔ پارلیمانی حلقہ سنبھل، رامپور اور دوسرے مقامات پر مسلم رائے دہندگان کو ووٹ دینے سے روکنا اس کا ثبوت ہے ۔ حد تو تب ہو گئی جب مسلم ووٹروں نے ووٹ نہ ڈالنے دینے کی وجہ پوچھی تو پولس اہلکار نے ان کا ووٹر کارڈ پھاڑ دیا ۔ مسلمانوں کی بڑھتی آبادی کا ڈر دکھا کر ہندوؤں کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔جبکہ خود بی جے پی اسی بیس کی بات کرتی ہے یعنی اسی فیصد ہندو اور بیس فیصد میں باقی سب جس میں مسلمان 17 فی صد اتر پردیش اور ملک میں 14.2 فیصد ہیں ۔ ملک کا صدر جمہوریہ، نائب صدر جمہوریہ، وزیراعظم، سپریم کورٹ کا چیف جسٹس، وزیر داخلہ، وزیر دفاع، الیکشن کمشنر، تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام صوبوں کے وزیر اعلیٰ، حکومت کے تمام پاورفل سکریٹری اور میڈیا کے ذمہ دار سب ہندو ہیں ۔ اس کے باوجود ہندو خطرے میں ہیں ۔ انہیں مسلمانوں کا خوف دکھایا جاتا ہے ۔ کہا جاتا ہے ایک دن مسلمان ہندو آبادی کے برابر ہو جائیں گے ۔ اس لیے ہندوؤں کو زیادہ بچے پیدا کرنے چاہیے۔

مسلمانوں پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ ان کی ملک کی معیشت کو پروان چڑھانے میں کوئی حصہ داری نہیں ہے ۔ وہ ان پڑھ جاہل، پنچر لگانے، رکشہ چلانے والے یا مزدور ہیں ۔ وہ صرف ملک کے وسائل کا استعمال کرتے ہیں ۔ جبکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے ۔ ملک کی معیشت میں مسلمانوں کی حصد داری 25 فیصد سے زیادہ ہے ۔ غیر ملکی کرنسی جو ڈالر، ریال، درہم میں انڈیا آ رہی ہے اس میں 87 بلین ڈالر صرف خلیجی ممالک سے آ رہے ہیں ۔ یہاں نوے لاکھ انڈین میں 95 فیصد مسلمان ہیں ۔ پوری دنیا سے این آر آئی اپنے ملک جو رقم بھیجتے ہیں اس میں 65 فیصد حصہ خلیج کا ہے ۔ اس میں 27 فیصد صرف یونائیٹڈ عرب امارات کا ہے ۔ بھارت میں 60 فیصد کچا تیل مسلم ممالک سے آتا ہے ۔ ہمارا ملک 72.9بلین ڈالر کا یو اے ای سے کاروبار کرتا ہے ۔ اس کے باوجود سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو پنچنگ بیگ کی طرح استعمال کرتی ہیں ۔ یوگی ادتیہ ناتھ نے اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کا ثبوت دیتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس کی حکومت آ جائے گی تو گائے کاٹنے کی چھوٹ مل جائے گی ۔ جبکہ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کانگریس نے ہی قانون بنا کر گائے کو ذبح کرنے پر پابندی عائد کی تھی ۔ البتہ یوگی سے یہ ضرور معلوم کرنا چاہئے کہ بی جے پی کے دور حکومت میں بیف کا ایکسپورٹ کیوں بڑھ گیا؟ اور ایکسپورٹرز ہندو کیوں ہیں؟ فرقہ وارانہ نفرتی بیان بازی کا معاملہ صرف مودی تک محدود نہیں ہے بلکہ امت شاہ، گری راج سنگھ، انوراگ ٹھاکر، جے سوریہ، ساکشی مہاراج وغیرو ان سے دو قدم آگے ہیں ۔ امت شاہ نے ایک میٹنگ میں کہا کہ اگر کانگریس آگئی تو شریعت قانون لاگو کرے گی ۔ انوراگ ٹھاکر نے دہلی الیکشن کے وقت نعرہ لگایا تھا دیش کے غداروں کو گولی مارو۔۔۔۔۔۔۔کو ۔

جیسے جیسے الیکشن آگے بڑھ رہا ہے بڑی بے شرمی سے فرقہ ورانہ نفرت اور سماج کو تقسیم کرنے کے ایجنڈے پر عمل ہو رہا ہے ۔ دو دن قبل ہی ایودھیا کے رام مندر میں پوجا کے بعد نریندر مودی نے کہا کہ اگر کانگریس آگئی تو وہ رام مندر پر بابری کا تالا لگا دے گی ۔ جس پارٹی نے تالا کھلوایا، پلیسس آف ورشپ ایکٹ بنا کر اسے محفوظ کیا، پھر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کوئی کیسے تالا لگا سکتا ہے؟ نریندرمودی نے اڑیسہ کے کندھ مال میں پھر کانگریس کی آڑ میں مسلمانوں کا ذکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس یہ بھول جائے کہ اسے سب مسلمانوں کا ووٹ ملے گا ۔ ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کا مودی کی تقریروں پر طنز حقیقت پسندانہ لگتا ہے ۔ انہوں نے اپنے ایکس ہنڈل پر لکھا کہ سال 2002 سے آج تک مودی کی واحد گارنٹی مسلمانوں کو برا بھلا کہہ کر ووٹ حاصل کرنے کی رہی ہے ۔

عجیب بات یہ ہے کہ فرقہ پرستوں کا خوف دکھا کر مسلمانوں سے اور مسلمانوں کا ڈر دکھا کر ہندوؤں سے سیاسی پارٹیاں ووٹ حاصل کرتی رہی ہیں ۔ مسلمانوں نے آزادی کے بعد سے ہی اہل وطن پر بھروسہ کیا ۔ انہوں نے کوئی سیاسی تنظیم یا گروپ نہیں بنایا ۔ انہوں نے حکومتوں سے صحت، تعلیم، روزگار میں امتیاز نہ برتنے، ملک کی ترقی میں حصہ داری دینے، تحفظ فراہم کرنے اور مذہبی معاملوں میں مداخلت نہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ۔ جس کا احترام کرنے کے بجائے سیاسی جماعتوں نے اپنے مفاد کے لیے ان کو استعمال کیا ۔ آج بی جے پی ان کا خوف دکھا کر ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ اور اپوزیش کو بغیر شرط کے مسلمانوں کے ووٹوں کی درکار ہے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like