Home نظم ہم شاہین ہیں!

ہم شاہین ہیں!

by قندیل

صالحہ صدیقی
(جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی)
[email protected]
پردے کو کمزور عورت کی نشانی
ڈری،سہمی اپنے وجود کی جنگ لڑنے والی
گھر کی چہار دیواری میں قید
لاچار عورت سمجھنے والو
ہم شاہین ہیں…….
ہماری خاموشی کو کمزوری سمجھنے والو
آبرو کی حفاظت کرنے والے سیاہ رنگ کو
ظلم سمجھنے والوں
ہماری طاقت کو نہ آزمانا کبھی
کیونکہ ہم شاہین ہیں…….
مذہب کے نام پر ہمیں بانٹنے والو
حق کے نام پر نا حق قانون لانے والو
ایک بعد دیگر ظلم کی حد پار کرنے والو
اب نہ پھنسیں گے تمہارے مایا جال میں
کیونکہ ہم شاہین ہیں…….
ہمیں گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کرنے والو
اب دیکھ لو ہمیں چھیڑنے والو
آگئے ہیں ہم سر پر کفن باندھ کر
اب نہ روک پاؤگے ہمیں انقلاب سے
کیونکہ ہم شاہین ہیں…….
اب خاموش لبوں سے شعلوں کو نکلتے دیکھو
اب کمزور ہاتھوں میں انگارے دیکھو
اب ان ہاتھوں میں چوڑیاں نہیں،پرچم لہرائیں گے
کیونکہ ہم شاہین ہیں…….
ہر باغ سے اب شاہین نکلیں گی
ہر گھر سے جوش و جذبے کی آندھیاں نکلیں گی
ستم کی لو اب ہم بجھائیں گے
اپنے لہو سے ہر چراغ جلائیں گے
کیونکہ ہم شاہین ہیں…….
تیرے دین دھرم کے کھیل کا خاتمہ
اپنی جمہوریت سے ہم کر کے دکھائیں گے
اپنے حق کی لڑائی سے تیرے باطل کو مٹائیں گے
اب نہ روک پاؤگے ہماری ایکتا کی طاقت کو
کیونکہ ہم شاہین ہیں…….
تم کیا جانو ہماری طاقت کو
تم کیا جانو انسانیت کو
تم کیا جانو دیش کی محبت کو
تمہارے ہوش تو ہم ٹھکانے لگائیں گے
کیونکہ ہم شاہین ہیں…….

You may also like

Leave a Comment