ہم سے اب دوسری ہجرت نہیں ہونے والی!

نایاب حسن

شہریت ترمیمی بل بالآخر دونوں ایوانوں سے پاس ہوگیا اور حکومت ملک کے ایک بڑے طبقے کو شہریت سے محروم کرنے یا اس کا ناطقہ بند کرنے کے لیے قانونی جواز حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔اس بل کا پارلیمنٹ میں پیش کیاجانااور پارلیمنٹ کے اجلاس کودیگر اہم موضوعات سے ہٹاکر اس میں الجھانا دراصل حکومت کی پالیسی تھی،حکومت نہیں چاہتی کہ اس ملک کے اصل مسائل منظر عام پر آئیں اور پبلک ڈسکشن کا حصہ بنیں۔جو لوگ ملک کے حالات و معاملات پرنگاہ رکھتے ہیں،انھیں اندازہ ہوگاکہ گزشتہ مہینے ڈیڑھ مہینے کے عرصے میں قومی سطح پر کئی مسائل سامنے آئے،جے این یو میں فیس بڑھوتری پر ہنگامے چل رہے تھے کہ دہلی یونیورسٹی کے ایڈہاک اور گیسٹ ٹیچروں کی رساکشی شروع ہوگئی،ادھر ملک بھر میں بے روزگاری و مہنگائی کا عفریت مسلسل اپنے پنجے گاڑے ہواہے،مگر ان تمام اہم ایشوز کو نظر انداز کرتے ہوئے حکومت نے اپنی ترجیحات کچھ اور طے کررکھی ہیں۔عوام سے جڑے مسائل و موضوعات سے اس حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں اور ایسی حکومت کو یقیناً عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہوسکتی،جس کی اَساس ہی مذہبی منافرت پر قائم ہواورجسے اسی بنیاد پر ووٹ ملا ہوکہ وہ اس ملک کو ہندوراشٹربنائے گی۔یہ ایک حقیقت ہے کہ بی جے پی کوحکومت اس لیے نہیں دی گئی کہ وہ ترقیاتی وفلاحی ایجنڈوں پر کام کرے گی،بی جے پی دراصل آرایس ایس کے اس دوررس منصوبے کے تحت برسرِ اقتدار آئی ہے،جس میں اکھنڈبھارت کی تشکیل اور ہندوراشٹرکے خواب کی تعبیر سرفہرست ہے اور اسے ووٹ بھی اسی منصوبے پر کام کرنے کے لیے ملتاہے۔

آسام میں پہلے این آرسی کانفاذہوا،جو لمبے عرصے سے اٹکاہوا تھا،اس میں انیس لاکھ لوگ اپنی شہریت کے دستاویزات فراہم کرنے سے رہ گئے،جن میں اتفاق سے زیادہ تعداد ہندووں کی تھی،اب بی جے پی کوایک نیاسیاسی حربہ ہاتھ آیااور امیت شاہ نے اپنی تقریروں میں کھلے عام یہ اعلان کرنا شروع کردیاکہ این آرسی سے باہر رہ جانے والے ہندو،سکھ،بودھ اور جین مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے،انھوں نے مشرقی و شمال مشرقی ریاستوں میں کھلے عام یہ باتیں کہیں اور وہاں کے غیر مسلموں کے دلوں میں مسلمانوں کے تئیں نفرت کا زہر گھولتے رہے۔اس کے بعدشاہ نے اپنی اس بات کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے سٹیزن شپ امینڈمینٹ بل تیار کروایا،جسے پارلیمنٹ کے حالیہ سیشن میں پیش کیاگیا اور ہزارہنگاموں کے باوجود اکثریت سے یہ بل پاس بھی ہوگیا۔دیکھنے والوں نے دیکھاکہ دونوں ایوانوں میں امیت شاہ کی تقریر حسبِ روایت جارحانہ،منتقمانہ اور رعونت سے لبریز تھی،انھوں نے واضح طورپر یہ کہاکہ پڑوس کے ملکوں میں اقلیتوں کے ساتھ ظلم کیاجاتاہے؛اس لیے ہندوستان انھیں پناہ دینا چاہتاہے؛حالاں کہ انھوں نے یہ بھی کہاکہ یہ بل شہریت دینے کے لیے ہے،کسی کی شہریت چھیننے کے لیے نہیں ہے،مگر شہریت دینے کی جو وجہ بتائی گئی،اس میں صاف طورپر مذہب کو اوپر رکھاگیا،یعنی پاکستان،بنگلہ دیش و افغانستان کے ہندو،سکھ وغیرہ کو ان کے مذہب کی وجہ سے پناہ دی جائیگی،جبکہ انہی ملکوں سے اگر مسلمان یہاں پناہ لینا چاہتاہے،تواس کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔حالاں کہ اگر ہندوستان ایک جمہوری سٹیٹ ہے اور یقیناً ہے،توپھر اس امتیاز وتفریق کی اجازت کیسے ہوسکتی ہے؟دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان کے پارلیمنٹ میں باقاعدہ پڑوس کی اقلیتوں کے حالات پر بحث ہوتی ہے اورانھیں پڑوسی ملکوں کے مظالم سے نجات دلانے کے لیے پناہ دینے کا قانون بنایاجاتاہے،مگر جب دنیاکے ممالک ہندوستانی اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف لکھتے /بولتے ہیں،تویہ حکومت اسے اپنا داخلی مسئلہ بتاکر ناقابلِ توجہ قراردے دیتی ہے،یہ سیاسی منافقت ہے یا مذہبی عصبیت و منافرت؟

اس قانون کے روبہ عمل آجانے کے بعد باہر سے آنے والے مسلمانوں کامسئلہ توچھوڑیے،پہلے سے جو ہزاروں روہنگیااور دیگر مسلمان یہاں پناہ گزین ہیں،ان پر تو قیامت ہی ٹوٹ پڑے گی۔وہ اپنے ملک بھی نہیں جاسکیں گے کہ انھوں نے ان ملکوں کوچھوڑاہی اس وجہ سے تھاکہ وہ ان کے لیے قابلِ رہایش نہیں رہے تھے۔اب ہندوستانی حکومت انھیں یا تو بزوروجبر ہندوستان بدر کرے گی یا انھیں ڈٹینشن کیمپوں کے حوالے کردیاجائے گا۔یہ ڈٹینشن کیمپ کیاہے اور کیسا ہوتا ہے،اس کی سب سے اندوہ ناک مثال ہمارے پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں موجودڈھائی لاکھ سے زائد وہ بہاری ہیں،جوانیس سو سینتالیس میں اسلامی مملکت کا خواب سجائے اپنے وطن کو چھوڑکر مشرقی بنگال کوچ کرگئے تھے اورجنھیں 1971میں غیر بنگالی ہونے کی بناپر نئے وجودپذیر ہونے والے بنگلہ دیش نے بھی قبول نہیں کیااور مملکتِ خدادادبھی انھیں اپنانے سے انکاری ہوگیا،بے چارے تب سے اب تک کیمپوں میں پڑے ہیں،رہتے اسی روئے زمین پر ہیں،مگر ان کا کوئی وطن نہیں ہے،ان کی دوتین نسلیں اسی بے وطنی کا کرب سہتے گزرگئیں اور مستقبل کا بھی کچھ پتانہیں۔اگر ہمارے ملک میں یہ نیاقانون بنتاہے،تویقیناً یہاں پناہ لینے والے ہزاروں مسلمانوں کیساتھ بھی یہی ہونے والاہے۔اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ صورتِ حال تب پیدا ہوگی،جب بہت سے اسی ملک کے شہری بعض کاغذات و دستاویزات کی نایابی کی وجہ سے غیر ملکی قراردے دیے جائیں گے اور انھیں بھی ان کیمپوں کے حوالے کردیاجائے گا۔جس حکومت میں کسی مسلم نام والے شخص کو سنسکرت تک پڑھانے کی اجازت نہ ہو،بھلے اس کا خاندان برسوں سے کیرتن بھجن گاتاچلاآرہاہو،وہاں آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ کسی مسلمان کو غیر ہندوستانی ثابت کرنے کے لیے کتنی معمولی وجہ کافی ہوسکتی ہے۔

اس بل کے قانونی معائب و نقائص کو توچھوڑیے کہ اس پر بڑے بڑے ماہرین ِقانون لکھ اور بول رہے ہیں،مگر حکومت کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔بات اصل یہ ہے کہ امیت شاہ سال دوسال قبل یہ بات کہہ چکے ہیں کہ بی جے پی آنے والے پچاس سال تک حکومت میں رہے گی،اسی مقصد سے انھیں وزارتِ داخلہ سونپی گئی ہے۔اگر آپ اس سال کے عام انتخابات کے بعد کے سیاسی احوال پر نظر رکھتے ہوں،تو محسوس کیاہوگا کہ پہلے ٹرم میں جو توجہ اورمحوریت مودی کو حاصل تھی،وہ اب امیت شاہ کوحاصل ہے،بہ تدریج مودی پس منظر میں چئلے گئے ہیں اور اس کی وجہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران رونما ہونے والے چند نہایت متنازع،مسلم مخالف اور حساس واقعات ہیں۔سب سے پہلے اگست میں جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370کا تحلیل کیاجانا،جس کے بعد شدت پسندہندووں،اس ملک کے جانب دار و متعصب میڈیا اور حکومت نے مسلسل جشن منایا،مختلف شہروں میں بی جے پی کی طرف سے باقاعدہ ایسے پوسٹرزلگائے گئے،جن میں اس قسم کی باتیں لکھی گئیں کہ گویا بی جے پی نے کشمیر پر قبضہ کیاہے،اس کے بعد گزشتہ ماہ ایودھیاکیس کا فیصلہ اوراب سی اے بی بل کا پاس ہونا۔یہ سارے واقعات ایسے ہیں کہ اس ملک کے زیادہ تر اکثریتی طبقے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے دلوں میں ایک قسم کا احساسِ فتح مندی پیدا کرتے ہیں اورانھیں یہ لگتاہے کہ بی جے پی مسلمانوں کو دبائے رکھے؛بلکہ ملک بدرکردے،یہی کافی ہے،انھیں اورکچھ بھی نہیں چاہیے۔موجودہ ہندوستان میں تعلیم،صحت،روزگار وغیرہ کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا،انتہاپسندانہ سیاست کے عروج نے عوامی سائیکی اور اس ملک کے زیادہ تر شہریوں کے شعور پر مذہبی تعصب کا دبیزپردہ ڈال دیاہے،سو کچھ بعید نہیں کہ حالیہ قانون کے پاس ہوجانے کے بعد بی جے پی حکومت کی عمر میں مزید اضافہ ہوجائے۔

مگرمعاملہ ساراکاسارامایوس کن نہیں ہے کہ یہ ملک ہزاروں سال سے تنوعات ِ فکر و نظر کا مرکزرہاہے،سواس بل کے پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کے پہلے دن سے ہی ملک کے حساس و بیدار طبقوں میں حکومت کے خلاف احتجاج کی ایک مضبوط لہر چل رہی ہے،یہ لہر پہلے پہل غیر مسلم دانشوروں اور مثقّف افراد سے شروع ہوئی اور اب تعلیمی اداروں تک پھیل چکی ہے۔قابل ذکرہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ یا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بھی پہلے سے شمال مشرقی ریاستوں کی یونیورسٹیوں میں اس بل کے خلاف زبردست احتجاج جاری ہے۔اب یہ احتجاج ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کرنے کی راہ پر گامزن ہورہاہے اور اسے ہر حال میں پورے ملک میں پھیلنا چاہیے۔بات صرف یہ نہیں کہ اس قانون کا نقصان مسلمانوں کوپہنچے گا،بات یہ ہے کہ یہ قانون اس ملک کی جمہوری روح کے منافی ہے۔مسلمان توخیر ستر سال پہلے ہی ہرحال میں یہاں رہنے کا فیصلہ کرچکاتھا،سووہ ذہنی و نفسیاتی طورپر ہر قسم کے سیاسی حربے کامقابلہ کرنے کے لیے تیارہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*