’ہم نے ’رام راجیہ‘ کی کوشش کی،’ہنومان بھکت‘ کے ساتھ ’رام بھکت‘ ہوں:اروندکجریوال

نئی دہلی:دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ وہ رام کے عقیدت مند ہیں۔ اسمبلی میں کجریوال نے کہاہے کہ وہ رام اورہنومان بھکت ہیں ۔کجریوال نے کہا کہ ان کی حکومت نے پچھلے چھ سالوں میں دہلی کے اندر’رام راجیہ‘لانے کی کوشش کی ہے۔ دہلی کے وزیراعلیٰ نے اعلان کیاہے کہ ایودھیا میں ااندار مندر کی تعمیر کے بعد حکومت ضعیفوں کو دہلی سے ایودھیا مفت لے جائے گی۔ اگر ہم رام سے متاثر ہوکر ان کے ’رام راجیہ‘ کے تصور کے راستے پر بامقصد کوشش کر سکتے ہیں تو ہماری زندگی کامیاب ہوگی۔رام راجیہ کایہی نعرہ یوگی بھی لگاتے ہیں۔دہلی فساداورتبلیغی جماعت کوبدنام کرنے میں اروندکجریوال حکومت کے رویے اورکردارسے دہلی کے مسلمان پہلے سے ہی ناراض ہیں۔دہلی کے بڑے حلقے کاکہناہے کہ کجریوال اینڈکمپنی اوربی جے پی ایک ہی نظریہ کی پروردہ ہے۔دہلی کی عوام یہی سوال کررہی ہے کہ دہلی فساد کے وقت کجریوال سرکارکی پراسرارخاموشی کیارام راجیہ ہے ۔اسی طرح پریس کانفرنس کرکے روزایک طبقہ کوٹارگیٹ کرنااورکوروناکاذمے دارقراردینااوران کے خلاف کارروائی کرناکس ذہنیت کوبتاتاہے۔دہلی کے وزیراعلیٰ اروندکجریوال نے بدھ کے روز اسمبلی میں کہاہے کہ ہماری حکومت رام راجیہ کے تصور سے متاثر ہوکر کام کررہی ہے۔ سی ایم کجریوال نے کہاہے کہ شری رام ہم سب کے لیے پیارے ہیں۔ وہ ایودھیا کے بادشاہ تھے ، اس کے دور میں سب ٹھیک تھا۔ سب خوش تھے ، ہر سہولت موجود تھی۔ اسے رام راجیہ کہتے تھے۔رام راجیہ ایک نظریہ ہے۔اگر ہم ان سے سبق لے کر کوئی معنی خیز کوشش کر سکتے ہیں تو ہماری زندگی مبارک ہو گی۔سی ایم کجریوال نے اسمبلی میں کہا کہ ہم دہلی میں اس تصور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی حکومت کے 10 کام بھی بتائے۔انھوں نے کہاہے کہ چاہے غریبوں کے بچے ہوں ،ہم ہر بچے کو یکساں طور پر تعلیم حاصل کرنے کے مواقع دے رہے ہیں۔ اگر کوئی بیمار ہو ، چاہے وہ امیر ہو یا غریب ، اس کا بہترین علاج کروانا چاہیے ، ہم نے سرکاری اسپتالوں کا علاج کرایاہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ کوئی کتنا غریب ہے ، اس کے گھر میں اندھیرا نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نے 200 یونٹ بجلی معاف کردی۔ دہلی دنیا کی واحد ریاست ہے جہاں 200 یونٹ بجلی امیروں کے ساتھ ساتھ غریبوں کو بھی دستیاب ہے۔ہر ایک کوپانی ملنا چاہیے ، خواہ امیر ہو یا غریب۔عام آدمی پارٹی میں سب برابر ہیں۔ کسی بھی مذہب اور ذات کاہو۔انھوں نے کہاہے کہ شری رام نے جھوٹا بیر کھایا تھا۔ان کی بادشاہی میں کسی سے کوئی امتیاز نہیں تھا۔ ہماری کوشش ہے کہ ہماری حکومت میں سب ایک دوسرے کا احترام کریں۔