ہم مسلمان عورتوں کے بارے میں یوگی کے بیان کو کیسے بھول جائیں؟ ـ مشرف عالم ذوقی

اس پر قتل کا الزام ہے اور اس کے ہر لفظ سے زہر ٹپکتا ہےـ ابھی حال میں اتر پردیش میں ایک پجاری نے مندر میں ایک عورت کے ساتھ ریپ کیاـ اتر پردیش کے لئے ایسے حادثے کوئی نئے نہیں ہیں، ہاتھرس ، بلرام پور اور بیشتر شہروں میں ایسے حادثے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں ـ لیکن انصاف کون کرےگا ؟ وہ شخص جس نے وزیر اعلی بننے سے قبل یہ بیان دیا ہو کہ مسلم عورتوں کو قبر سے نکال کر ریپ کروـ میں اس بیان پر کچھ دیر ٹھہرنا چاہتا ہوں ـ ایک مردہ عورت جو قبر میں دفن ہے، وہ جس قوم کی بھی ہو ، مگر اب وہ مر چکی ہے اور قبر کی تنہائیوں میں آرام کر رہی ہےـ کیا ایسی فکر رکھنے والا انسان ہو سکتا ہے ؟ ایسی سوچ رکھنے والا تو بھیڑیا اور جنگلی جانور بھی نہیں ہو سکتا،مگر ایک فاشسٹ تنظیم نے اتر پردیش جیسی بڑی ریاست اس کے سپرد کر دی اور مسلمانوں سے نفرت کرنے والے شخص نے جب بھی بیان دیا ، مسلمانوں کے خلاف بیان دیاـ میں اکثر سوچتا ہوں ، تہذیبی روایت سے ہم اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ آنکھوں کا پانی مر گیا ہےـ کیا ہم ان لوگوں پر اعتبار کر سکتے ہیں ، جنہوں نے وائرس سے زیادہ زہریلی سوچ رکھنے والے شخص کو حاکم بنا دیا؟ قاتل کی سوچ بدل سکتی ہے مگر زہر میں مجسم ڈوبے انسان کی شکل تبدیل نہیں ہو سکتی ـ افسوس!ہم مسلسل اس شخص کا چہرہ دیکھنے پر مجبور ہیں جس نے ہماری مردہ بہنوں اور ماؤں اور بیٹیوں کے بارے میں زہریلا بیان جاری کیا تھاـ کیا یہ شخص کبھی مسلمانوں کے بارے میں بہتر سوچ سکتا ہے ؟ اور وہ تنظیم ، وہ پارٹی ، جو ایسے زہریلے انسانوں کی پرورش کرتی ہے ، کیا اس کے بارے میں کبھی کوئی اچھی رائے قائم کی جا سکتی ہے ؟ ایک دو برس قبل ہاتھرس میں یوگی کی پولیس رات تین بجے منیشا کے جسم پر پٹرول ڈال کر آگ لگا دیتی ہےـ منیشا کا ریپ اور قتل کرنے والوں کی حمایت کرتی ہےـ بڑی ذات کے ہندو لاکھوں کی تعداد میں جمع ہو کر عصمت دری کرنے والوں کی حمایت کرتے ہیں ـ پٹرول ڈال کر آگ لگانے والے نر بھکشی کو موت کی سزا کیوں نہ دی جائے ؟ میں دوبارہ اسی بیان پر واپس آتا ہوں ـ آر ایس ایس نے اس جاہل ڈھونگی کو وزیر اعلی کی کرسی دیتے ہوئے یہ ضرور غور کیا ہوگا کہ اسی جاہل شخص نے اپنی تقریر میں مسلمان عورتوں کو قبر سے نکال کر بلاتکار کرنے کو کہا تھا، جو مسلمانوں کو قبرستان بھیجے وہ وزیر ا علیٰ،جو قبر سے نکال کر ریپ کرنے کو کہے ، اسے ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست تحفے میں دی جائے، ملک غارت ہوا ، کوئی آواز نہیں، ملک تباہ ہوا، کوئی آواز نہیں، کروڑوں کے روزگار گئے ، کوئی آواز نہیں ـ کسانوں کو کمزور کرنے کے لئے قانون آیا ، کوئی آواز نہیں،مسلمان سڑکوں ، شاہراہوں ، گلیوں میں مارے جاتے رہے اور اب ملک کے موجودہ حالات مسلمانوں کے لئے بد تر ہوئے جا رہے ہیں ـ حکومت کی فسطائی منطق کے سامنے آپ بے بس اور مجبور ہیں۔ممکن ہےکہا جائے لاوڈ اسپیکر پر اذان نہ دیں،محلے میں ایک مسجد کی جگہ تین مسجدیں کیوں ؟ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی آپ کو زیر کیا جائے گاـ یاد کیجئے حکومت بننے کے ساتھ ہی راج ناتھ سنگھ نے پہلا بیان ملک کے سیکولر اور لبرل کردار پر دیا تھاـ در اصل فسطائی طاقتوں کو ان دو لفظوں سے ڈر محسوس ہوتا ہے – فسطائی طاقتیں پوری شدّت اور منصوبوں کے ساتھ مذہب ،مشترکہ وراثت پر حملہ کر رہی ہیں ـ کیا یہ تقسیم کی شروعات نہیں ہے ؟ ہماری ملت اور گنگا جمنی تہذیب کوسات برسوں میں کچلنے کی سازش ہوئی ہے ۔ اخبارات اور ٹی وی چنیلز سے اعتماد اٹھ چکا ہے ۔ الیکشن کمیشن اور عدالتیں بھی شک کے دائرے میں ہیں . مٹھی بھر سیکولر لوگوں کی بے چینی بتاتی ہے کہ ملک کہاں جا رہا ہے ۔ایک مخصوص نظریہ کی پارٹی نے شہہ اور مات کاایسا کھیل شروع کیا ہے ، جس کے صفحات عالمی سیاست کے لئے بھی نئے ہیں۔
نئے سال کی شروعات میں یہ عہد کہ ہم ان لوگوں کے کسی ایک بیان کو بھی فراموش نہ کریں جو ہمیں موت کے سیارے پر بھیجنا چاہتے ہیں،جو سی اے اے کے نام پر مسلمانوں کو ڈیٹینشن کیمپوں میں بھیجنا چاہتے ہیں،جن کے پاس موت کے سودے کے سوا کوئی سودا نہیں،انقلاب کی روشنی کمزور بوسیدہ دیواروں سے بھی ہو کر آتی ہے، اس روشنی تک پہچنے کے لئے ہمارا مضبوط ہونا ضروری ہے ـ اب یہ روشنی دکھائی دینے لگی ہے مگر ہماری کمزوری ، طاقت میں تبدیل نہیں ہو سکی ـ اگر اس اندھے نظام کو تبدیل کرنا ہے ، تو جاگنا شرط ہےـ